دبئی نے اپنی مشہور فلک بوس اسکائی لائن میں ایک نیا عالمی ریکارڈ شامل کر لیا ہے۔

377 میٹر بلند سیئل دبئی مرینا ہوٹل اب دنیا کا سب سے اونچا ہوٹل بن چکا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کی ریکارڈ ساز بلندی منصوبے کی ترقی کے دوران تقریباً غیر ارادی طور پر سامنے آئی۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب اور دبئی کے 3 نئے ٹاور پروجیکٹس، دنیا کے بلند ترین تعمیراتی ریکارڈز ٹوٹنے کو تیار

منصوبہ ساز کمپنی دی فرسٹ گروپ کے سی ای او روب برنز کے مطابق، انہیں خود بھی عمارت کی آخری اونچائی پر حیرت ہوئی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق برنز کا کہنا تھا کہ ہم کچھ شاندار تعمیر کرنا چاہتے ہیں، لیکن ہمارا ارادہ ہرگز دنیا کا سب سے اونچا ہوٹل بنانے کا نہیں تھا۔

World's tallest hotel tops Dubai skyline by accident

Ciel Tower world's tallest hotel rises 377m from tight Dubai plothttps://t.

co/xBJGZRQEYn

— Gulf News (@gulf_news) December 5, 2025

اگرچہ عمارت کا اسکیل بہت بڑا ہے، مگر سیئل ٹاور ایک نہایت محدود رقبے پر تعمیر کیا گیا ہے۔

یہ ٹاور تقریباً 3,600 مربع میٹر کے پلاٹ پر کھڑا ہے، جو ایک پروفیشنل فٹبال گراؤنڈ سے بھی چھوٹا ہے۔

مزید پڑھیں:امیر ترین ملکوں میں دبئی اب چوتھے نمبر پر، اس ملک میں کتنے کروڑ پتی رہتے ہیں؟

یوں بھی دبئی جیسے بڑے ترقیاتی منصوبوں میں یہ سائز معمولی تصور ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے عمارت کو مطلوبہ بلندی تک پہنچانے کے لیے غیر معمولی تعمیراتی حل اپنانے پڑے۔

ٹاور کے معمار یحییٰ جان نے منصوبے کی پیچیدگی کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ان کے لیے بہت چیلنجنگ پروجیکٹ تھا۔

مزید پڑھیں:جدہ میں تیزی سے تکمیل کی جانب گامزن دنیا کی بلندترین عمارت

’زمین کا ٹکڑا بے قاعدہ شکل کا تھا، اور اس سائز کے ٹاور کے لیے پلاٹ بڑا ہونا چاہیے تھا، مگر میرا ہمیشہ سے ماننا ہے کہ بہترین کام وہیں ہوتا ہے جہاں سب سے زیادہ امتحان ہو۔‘

ٹاور میں 1,004 کمرے اور سوئٹس موجود ہیں اور اس کی ڈیزائننگ میں تیز ہواؤں کے دباؤ کو کم کرنا ایک اہم چیلنج تھا کیونکہ اتنی بلند عمارتیں مسلسل جھکڑوں کا سامنا کرتی ہیں۔

اس مقصد کے لیے عمارت میں ایک منفرد کٹ آؤٹ ڈیزائن کیا گیا جو ہوا کو ٹاور کے اندر سے گزرنے کی اجازت دیتا ہے، جس سے دباؤ کم ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں:ٹرمپ آرگنائزیشن دبئی میں کون سی اہم عمارت تعمیر کرنے والی ہے؟

برنز کے مطابق، ہزار کمروں کا انتظام بذاتِ خود ایک بڑا چیلنج ہے، لیکن ہم مہمان نوازی کی مارکیٹ کے حوالے سے بہت پُرامید ہیں۔

’360 ڈگری نظارے، بہترین کمرے، سہولیات اور دیگر فیچرز اسے منفرد بناتے ہیں۔‘

دبئی مرینا میں واقع یہ ہوٹل عالمی معیار کے ریستورانوں، خریداری مراکز، ساحلوں اور معروف مقامات، جیسے جے بی آر، بلیو واٹرز آئی لینڈ اور عینِ دبئی تک، آسان رسائی فراہم کرتا ہے۔ مہمان مرینا بورڈ واک، واٹر ٹیکسی، مرینا مال اور میٹرو سے بھی مستفید ہو سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آئی لینڈ اسکائی لائن پروجیکٹ دی فرسٹ گروپ ڈیزائن سیئل ٹاور عین دبئی فٹبال گراؤنڈ کٹ آؤٹ مرینا یحییٰ جان

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: آئی لینڈ اسکائی لائن پروجیکٹ دی فرسٹ گروپ ڈیزائن سیئل ٹاور فٹبال گراؤنڈ کٹ آؤٹ یحیی جان کے لیے

پڑھیں:

کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان

کراچی میں اضافی پانی کا منصوبہ کے فور کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے  جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی۔

ایکسپریس نیوز کو واٹر کارپوریشن حکام کے سینئر افسران نے اس کی تصدیق کی کہ منصوبے میں مزید ڈھائی سال لگ سکتے ہے، اگر کام اسی طرح ہوتا رہے تو اس منصوبے میں وفاق، سندھ حکومت ، بین الاقومی مالیتی اداروں کی فنڈنگ بھی کی گئی۔

حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہوچکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1ارب 20 کروڑ گیلن ہے جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کر نے کے لئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔

2014 میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بناناتھا جس کی لاگت 25 ارب روپے بتا ئی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا تاہم پھر اس کو واپڈ کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہوسکا۔

 کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا تاہم  اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026 کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ ایکپسریس نیوز نے مختلف ذرائع سے جو تفصیلا ت حاصل کیں ان کے مطابق کے فور منصوبہ 2026 میں بھی مکمل نہیں ہوسکے گا اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029 کی جنوری تک  ہے۔

ایک ذرائع نے بتایا کہ اگر کام اسی رفتار سے کام چلتا رہا تو  نومبر 2025 کو آگمیٹیشن کام نیپا چورنگی سے شروع ہوا جو حسن اسکوائر تک  محیط  ہے، اس کی لمبائی 2 اعشاریہ 7 کلو میٹر طویل ہے اب تک مکمل نہیں ہوسکا کیونکہ یہ تو صرف ابتداء ہے اصل کام  تو آر ون، آر ٹو، آر تھری کا کام جو اب تک شروع ہی نہیں ہوا۔

سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کا ٹھیکہ ہی نہیں ہوسکا کہ کام کون کریں گا آر ون ،آر ٹو ، آر تھری ہے کیا یہ ریروائر کی لائنیں ہے آر ون 26 کلومیٹر طویل ہے ، آر ٹو40کلومیٹر طویل ہے جبکہ آرتھری 28 کلومیٹر طویل بتائی جا تی ہے۔

یہ لائنیں شہر کے وسط سے ہوتی ہوئی گزریں گی ان لائنوں کا مختلف نمبرز دئیے گئے ہے یہ لائنیں ڈلنے کے بعد ہی کراچی کو اضافی پانی مل سکے گا جب لائنوں کا مکمل شروع ہوگا تو شہر کی اہم شاہراہوں کو کھودنا پڑے گا، جس میں 72 انچ اور 96 انچ کی لائنیں ڈالی جا ئیں گی۔

صرف ایک روڈ آر ٹو کی تفصیلات فراہم کرر ہے ہیں یہ ریزر وائر ٹو نادرن بائی سے واپڈ کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی کے سپرد کریں گی جو کھدائی کرتی ہوئی۔

نادرن بائی پاس، ٹول پلازہ سے سپرہائی وے ، پھر جنجال گوٹھ  سے ہوتی ہوئی سہراب گوٹھ ، وہاں سے ابوالحسن اصفہانی روڈ ، ڈسکو بیکری سے ہوتی ہے گلشن چورنگی ، رب میڈیکل سے ہوتی ہوئی ہے سرسید یونی ورسٹی سےنیپا چورنگی پر آگمینٹیشن سے منسلک کیا جا ئے گا۔

پھر یہ حسن اسکوائر سے ہوتا ہوا غریب آباد ، لیا قت آباد ، ناظم آباد، حبیب بنک چورنگی ، سے ہوتی ہوئی گلبائی تک جا ئیں گی، یہ راستہ ہے (آر ٹو) ریزر وائر ٹو کے فور کے لئے ڈالی جانی والی لائن  اس کے لئے جب لائن ڈالنے کا کام ہو گا تو کھدائی ہوگی جس میں 72 انچ اور کسی مقام پر 96 انچ کی لائن ڈالی جا ئیں گی۔

اندازہ لگانا مشکل نہیں یہ 94 کلو میٹر کی لائنیں ڈالنے کے لئے 80 ارب روپے لگے اس کے لئے 2 بین الاقومی مالیتی ادارے  80 فیصد  قرضے کی صورت میں فنڈ فراہم کر یں گے جبکہ 20 فیصد فنڈ سندھ حکومت فراہم کر یگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ 80 ارب روپے صرف آرون، آرٹو، آر تھری کی لائنیں ڈالنے میں خرچ ہوں گے جبکہ 124 ارب ٹرانسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشنز، فلٹر پلانٹٹس اور دیگر کاموں میں خرچ ہوں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جا نے ہے جن میں ٹراسمیشن لائن ، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنا نے کے کام کی ذمہ داری ہے جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن ، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے آگمیٹیشن کانیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025 سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا بلکل بین الاقومی مالیتی ادارے نے اس کو غیر معیا ری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جا ئیں گی اس وقت شہریوں کو آمد ورفت میں مزید مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی