ضرورت پڑی تو فوج استعمال کر کے یوکرینی علاقے روس میں شامل کریں گے: روسی صدر
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی صدر کی پیش کردہ امن تجاویز پر جاری بات چیت کے باوجود روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ یوکرین کے مشرقی علاقے روس میں شامل کیے بغیر کوئی بھی سمجھوتہ عملی طور پر ممکن نہیں۔
ماسکو میں بھارتی دورے روانگی سے قبل گفتگو کرتے ہوئے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ ڈونباس اور نووروسیا کا “آزادی” کے نام پر روسی کنٹرول میں آنا اُن کی ریاستی حکمتِ عملی کا بنیادی حصہ ہے اور ماسکو اس ہدف سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ علاقے یا تو خود یوکرینی فوج خالی کر دے گی، یا روسی افواج زمینی کارروائی کے ذریعے اُن سے قبضہ واپس لے لیں گی۔
پیوٹن نے مزید دعویٰ کیا کہ واشنگٹن میں جاری مذاکرات میں ماسکو کے مطالبات کو سنجیدگی سے زیرِ غور لایا جانا چاہیے، بالخصوص ڈونباس کے مکمل الحاق کے معاملے پر۔
دو روز قبل امریکی صدر کی جانب سے جنگ بندی کے لیے پیش کیے گئے 28 نکاتی پلان پر ماسکو اور امریکی وفود کے درمیان ابتدائی ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔ اسی سلسلے میں آج یوکرینی وفد بھی امریکی حکام سے بات چیت کے لیے امریکا پہنچ رہا ہے، جسے واشنگٹن ایک اہم پیش رفت قرار دے رہا ہے۔
بین الاقوامی مبصرین کے مطابق روسی قیادت کا یہ حالیہ بیان اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ ماسکو مذاکرات کو محض سفارتی مشق نہیں، بلکہ اپنے علاقائی مطالبات کے لیے دباؤ کے ہتھیار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
دوسری جانب یوکرین نے ابھی تک کسی متنازع خطے کے روس میں انضمام کو ماننے کا عندیہ نہیں دیا، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بامعنی امن معاہدے کا راستہ ابھی بھی خاصا پیچیدہ اور طویل ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔