data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

رفح: غزہ کی پٹی کے جنوبی شہر رفح میں القوات الشعبیہ کے کمانڈر یاسر ابو شباب کو نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے قتل کردیا۔

تفصیلات کے مطبق کمانڈریاسر ابو شباب اوراس کے نائب غسان الداہنی پرنامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں دونوں شدید زخمی ہوگئے جنہیں فوری طور پر اسپتال سورومنتقل کیا گیا جہاں پر ابو شباب زخموں کی تاب نہ لاتےہوئے دم توڑگیا۔

القوات الشعبیة کو غزہ میں حماس مخالف ایک مسلح گروہ کے طور پر جانا جاتا ہے۔ یاسر ابو شباب کو اسرائیلی فوج کی جانب سے اسلحہ اور تحفظ فراہم کیا جا رہا تھا اور وہ صیہونی فوج کے ساتھ رابطے میں تھا۔

ابوشباب اسرائیل کے لئے کھلے عام کام کرنے اور اسرائیلی افواج کے زیر قبضہ علاقوں میںفلسطینیوں کی امداد کی چوری، بھتہ خوری، دھمکیاں دینے اورفلسطینی شہریوں کے قتل میں مرکزی کردار ادا کرتا تھا۔

واضح رہے کہ 32 سالہ ابو شباب کو اصل میں حماس نے منشیات کی اسمگلنگ کے الزام میں حراست میں لیا تھا اور وہ 7 اکتوبر 2023 کے بعد جیل سے فرار ہو گیا تھا۔ 2024 کے اوائل تک، اس نے خود کو اسرائیلی قابض افواج کے ساتھ جوڑ لیا تھا اور مشرقی رفح میں ایک مسلح گروپ کی کمان سنبھال لی تھی، جسے بعد میں “مقبول افواج” کہا جاتا تھا۔

ابو شباب کا قتل غزہ میں اسرائیل کی قلیل مدتی پالیسی کی ناکامی، اور “حماس کا متبادل” منصوبے کے خاتمے کی عکاسی کرتا ہے۔

اسرائیل ہیوم اخبار نے اس سے قبل انکشاف کیا تھا کہ قابض وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے “غزہ کے اندر اسرائیلی فوجیوں کی حفاظت کے لیےالقوات الشعبیة گروپ کو ہتھیاروں سے مدد فراہم کرنے کا اعتراف کیا ہے ۔”

یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل یاسر ابو شباب نے دعویٰ کیا تھا  کہ اس نے غزہ کے لوگوں کی خدمت کرنے کے لیے ایک آزاد عوامی فورس تشکیل دی ہے۔  جب کہ  اس گروپ کے اسرائیلی فوج کے ساتھ قریبی تعلقات، اور فلسطینی مزاحمت کاروں کے زیر حراست اسرائیلی قیدیوں کے ٹھکانے کا پتہ لگانے اور غزہ میں مزاحمتی سرنگوں کی نشاندہی کرنے میں ان کی جاری مدد نے غزہ کے لوگوں کے سامنے اس گروپ کی اصل نوعیت کو توقع سے بہت پہلے ہی بے نقاب کر دیا تھا۔

ویب ڈیسک عادل سلطان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: یاسر ابو شباب

پڑھیں:

جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) چڑھتے ہوئے سورج کی سرزمین کہلانے والی مشرق بعید کی روایت پسند بادشاہت جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق پولیس حکام کے ساتھ ساتھ میڈیا رپورٹوں میں بھی بتایا گیا کہ شمالی جاپان کے شہر فوکوشیما میں ایک جنگلی ریچھ نے متعدد حملے کر کے منگل کے روز مجموعی طور پر چار شہریوں کو زخمی کر دیا۔

سویڈن میں بھورے ریچھ کے شکار پر تحفظ پسندوں کو گہری تشویش

فوکوشیما جاپان کے جس پریفیکچر یا انتظامی علاقے میں واقع ہے، وہاں کی پولیس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا، ''ریچھ کے حملوں کی وجہ سے انسانوں کے زخمی ہونے کے تازہ واقعات میں، جو فوکوشیما شہر میں پیش آئے، چار افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

(جاری ہے)

‘‘

کینیڈا کے قطبی ریچھ معدومیت کے خطرے سے دوچار

ریچھ نے حملے دو فیکٹریوں اور ایک رہائشی علاقے میں کیے

اس مقابلتاﹰ عظیم الجثہ جنگی جانور نے یہ حملے دو فیکٹریوں میں اور ایک رہائشی علاقے میں کیے۔

مقامی پولیس کے سربراہ اور فائر بریگیڈ کے عملے کا بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے جاپانی میڈیا نے بتایا کہ اس ریچھ کو پہلے موٹر گاڑیوں کے پرزے بنانے والی ایک فیکٹری میں دیکھا گیا تھا، جس کے بعد پولیس کو کی گئی ایک ایمرجنسی کال میں اطلاع دی گئی تھی کہ اس ریچھ کے کاٹنے سے ''ملازمین زخمی‘‘ ہو گئے تھے۔

ناروے: سیاح کو زخمی کرنے والے قطبی ریچھ کو مار دیا گیا

اس واقعے کے بعد یہ جنگلی ریچھ اس فیکٹری سے نکل کر ایک رہائشی علاقے کی طرف بھاگا اور اس کے بعد ایک ایسی دوسری فیکٹری کی طرف جہاں الیکٹرانک مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔

یہاں بھی یہ ریچھ دو افراد کے زخمی ہونے کی وجہ بنا۔

ملکی میڈیا کے مطابق ان تین حملوں میں زخمی ہونے والے چار افراد میں سے ایک شدید زخمی ہوا ہے جبکہ باقی تین افراد کو کوئی شدید زخم نہیں آئے۔

گزشتہ برس ریچھوں کے ہاتھوں ریکارڈ حد تک زیادہ 13 ہلاکتیں

جاپان میں گزشتہ برس کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں ملک بھر میں ریچھوں کے انسانوں پر کیے گئے حملوں میں 13 افراد ہلاک ہو گئے تھے، جو اس نوعیت کی انسانی ہلاکتوں کی ریکارڈ حد تک زیادہ سالانہ تعداد تھی۔

ایسے حملے روایتی طور پر اس وقت زیادہ دیکھنے میں آتے ہیں، جب شدید نوعیت کے موسم سرما کے دوران کافی عرصے تک اپنی مقابلتاﹰ گرم اور انسانی آنکھوں سے پوشیدہ پناہ گاہوں میں قیام کے بعد ایسے جنگلی جانور باہر نکلتے ہیں اور بہت بھوکے ہونے کے باعث خوراک کی تلاش کے دوران انسانوں پر حملے بھی کر دیتے ہیں۔

جفتی کی کوشش میں ریچھ نے ساتھی کی جان لے لی

سرکاری ڈیٹا کے مطابق اس سال مارچ میں ختم ہونے والے جاپان کے گزشتہ مالی سال کے دوران پورے ملک میں جنگلی ریچھوں کے ان کے قدرتی ماحول سے باہر کے علاقوں میں دیکھے جانے کے واقعات کی مجموعی تعداد 50 ہزار سے زائد رہی تھی، جو ایک نیا ریکارڈ تھا۔

اوساکا کے شہری کا مقامی بلدیہ کے لیے غیر معمولی عطیہ، اکیس کلوگرام سونا

اس سے قبل اس سالانہ تعداد کا ریکارڈ دو سال قبل مالی سال 2023 میں قائم ہوا تھا۔ لیکن 2025 میں جنگلی ریچھوں کے شہری یا دیہی علاقوں میں نظر آنے کے واقعات دو گنا سے بھی زیادہ ہو گئے تھے۔

’برفانی انسان‘ دراصل ریچھ کی ایک قسم ہے، تحقیق

ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق جاپان کی وازرات کے مطابق ملک میں جنگلی ریچھوں کے حملوں کے واقعات میں گزشتہ جان لیوا واقعہ اسی سال اپریل میں پیش آیا تھا، جس میں ایک ریچھ نے حملہ کر کے ایک شخض کو ہلاک اور پانچ دیگر کو زخمی کر دیا تھا۔

جاپانی حکومت کی طرف سے ملک میں جنگلی ریچھوں کی مجموعی آبادی کا اندازہ 57,800 کے قریب لگایا جاتا ہے۔

ادارت: جاوید اختر

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان