چیئرمین ایچ ای سی کیلئے 5 امیدواروں کے فائنل انٹرویوز کل ہوں گے، اصل مقابلہ 3 افراد میں ہو گا
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
—فائل فوٹوز
ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے چیئرمین کی تقرری کے عمل کا آخری مرحلہ کل ہو گا جس میں وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی سربراہی میں سرچ کمیٹی ٹاپ 5 امیدواروں سے تفصیلی انٹرویو کرے گی۔
وفاقی سیکریٹری تعلیم و پیشہ ور تربیت ندیم محبوب نے ’جنگ‘ کو بتایا کہ پہلے مرحلے کے انٹرویوز کے دوران سرچ کمیٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ ٹاپ 5 امیدواروں کے مزید تفصیلی انٹرویوز کیے جائیں تاکہ بہترین امیدواروں میں سے سب سے ’بہترین امیدوار‘ کا انتخاب کر کے اس کا نام وزیرِ اعظم کو بھیجا جا سکے۔
ان کا کہنا ہے کہ بہتر امیدوار کی تلاش میں یہ طریقہ کار نیا نہیں بلکہ نجی شعبے میں بھی اس عمل کی کئی مثالیں موجود ہیں۔
ذرائع کے مطابق جن 5 امیدواروں کو دوبارہ انٹرویو کے لیے بلایا گیا ہے ان میں پروفیسر ڈاکٹر سروش حشمت لودھی، ڈاکٹر نیاز احمد، ڈاکٹر محمد علی شاہ، ڈاکٹر سرفراز خالد اور ڈاکٹر خالد حفیظ شامل ہیں۔
تاہم اصل مقابلہ 3 امیدواروں کے درمیان ہے اور سرچ کمیٹی تفصیلی انٹرویوز کے بعد 3 نام ہی وزیرِ اعظم کو بھجوائے گی، جس کی حتمی منظوری وزیرِ اعظم دیں گے۔
ٹاپ 3 امیدواروں میں ڈاکٹر سروش حشمت لودھی 8 برس تک این ای ڈی انجینئرنگ یونیورسٹی کے وائس چانسلر رہ چکے ہیں، اس وقت وہ سندھ ایچ ای سی میں چیئرمین کے بعد سب سے اہم عہدے چارٹر انسپیکشن اینڈ ایوالیشن کمیٹی کے چیئرمین ہیں۔
ڈاکٹر سروش حشمت لودھی اس وقت سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے دوسرے اہم ترین عہدے چارٹر انسپیکشن اینڈ ایوالیشن کمیٹی کے چیئرمین ہیں وہ 8 برس تک جامعہ این ای ڈی کے وائس چانسلر بھی رہے اور انہوں نے اپنے 8 سالہ دور میں ناصرف 440 ملین روپے سے زائد کے خسارے پر قابو پایا بلکہ 11 ہزار 400 ملین روپے کی مجموعی سرمایہ کاری بھی یونیورسٹی کے لیے چھوڑی، جس میں 3 ہزار 500 ملین روپے کا پنشن فنڈ اور 5 ہزار ملین روپے سے زائد کا انڈومنٹ فنڈ شامل ہے۔
ڈاکٹر سروش نے تعلیمی پروگراموں کی تعداد 88 سے بڑھا کر 117 کی، نئے شعبے متعارف کروائے اور تھر میں انسٹیٹیوٹ آف انجینئرنگ، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی قائم کیا اور انجینئرنگ پروگرامز میں خواتین کے داخلے کا تناسب بڑھا کر 44 فیصد کیا۔
انہوں نے جامعات کی عالمی درجہ بندی میں این ای ڈی کو دنیا کی ٹاپ 1500 جامعات میں شامل کیا، کیو ایس ایشیاء رینکنگ 2024ء میں ٹاپ 500 میں جگہ بنائی، این ای ڈی میں تحقیقی اشاعتوں میں 325 فیصد اضافہ اور فنڈڈ پروجیکٹس میں 321 فیصد اضافہ ہوا، جو ایک مضبوط تحقیقی ماحول کی نشاندہی کرتا ہے۔
ڈاکٹر سروش نے پاکستان کا پہلا ٹیکنالوجی پارک (24 ارب روپے) پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت قائم کیا، نیشنل انکیوبیشن سینٹر بنایا جس نے 376 اسٹارٹ اَپس کے ذریعے 10 ارب روپے سے زائد ریونیو اور 12 ارب روپے سے زائد سرمایہ کاری پیدا کی،نیز نینو ٹیکنالوجی، پانی اور توانائی کے شعبوں میں خصوصی تحقیقی ادارے قائم کیے۔
انہوں نے سابق طلبہ سے 1 ارب روپے سے زائد کے عطیات بھی جمع کیے، تعلیمی خدمات پر پرائیڈ آف پرفارمنس (2019) اور تغمۂ امتیاز سے نوازا گیا۔
ڈاکٹر نیاز احمد اس وقت قائد اعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر ہیں، وہ پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر، یونیورسٹی آف ساہیوال کے وائس چانسلر، نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی فیصل آباد کے ریکٹر، یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ٹیکسلا کے وائس چانسلر اور انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی لاہور کے وائس چانسلر رہ چکے ہیں۔
اس کے علاوہ ڈاکٹر نیاز پنجاب یونیورسٹی لاہور میں انسٹیٹیوٹ آف کوالٹی اینڈ ٹیکنالوجی مینجمنٹ اور کوالٹی انہانسمنٹ سیل کے بانی ڈائریکٹر بھی ہیں۔
انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ان کی شاندار کارکردگی کے اعتراف میں انہیں حکومتِ پاکستان نے 2015ء میں ستارۂ امتیاز سے بھی نوازا ہے۔
ڈاکٹر محمد علی شاہ ایک ممتاز ماہرِ تعلیم اور پنجاب یونیورسٹی کے موجودہ وائس چانسلر ہیں، وہ قائدِ اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے وائس چانسلر رہ چکے ہیں، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی (جی سی یو) لاہور اور ہزارہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے طور پر اضافی چارجز بھی سنبھال چکے ہیں۔
انہوں نے یونیورسٹی آف ویلز، برطانیہ سے پی ایچ ڈی کی اور یونیورسٹی آف میسوری، امریکا سے پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلوشپ کی۔
ڈاکٹر محمد علی نے GCUL، BZU ملتان اور غازی یونیورسٹی میں بھی خدمات انجام دیں، ہائر ایجوکیشن کی طرف سے 2002ء، 2005ء اور 2011ء کے لیے بہترین یونیورسٹی ٹیچر کے اعزاز سے بھی انہیں نوازا گیا، ان کی زیرِ نگرانی 120 طلبہ نے ایم فل اور 40 طلبہ نے پی ایچ ڈی کی۔
ڈاکٹر محمد علی 2 بین الاقوامی کتابوں کے مصنف بھی ہیں، ان کے 240 مقالے شائع ہو چکے ہیں، انہیں تمغۂ امتیاز اور ستارۂ امتیاز سے بھی نوازا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی یونیورسٹی ا ف روپے سے زائد ڈاکٹر سروش ملین روپے ارب روپے انہوں نے چکے ہیں
پڑھیں:
جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) چڑھتے ہوئے سورج کی سرزمین کہلانے والی مشرق بعید کی روایت پسند بادشاہت جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق پولیس حکام کے ساتھ ساتھ میڈیا رپورٹوں میں بھی بتایا گیا کہ شمالی جاپان کے شہر فوکوشیما میں ایک جنگلی ریچھ نے متعدد حملے کر کے منگل کے روز مجموعی طور پر چار شہریوں کو زخمی کر دیا۔
سویڈن میں بھورے ریچھ کے شکار پر تحفظ پسندوں کو گہری تشویش
فوکوشیما جاپان کے جس پریفیکچر یا انتظامی علاقے میں واقع ہے، وہاں کی پولیس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا، ''ریچھ کے حملوں کی وجہ سے انسانوں کے زخمی ہونے کے تازہ واقعات میں، جو فوکوشیما شہر میں پیش آئے، چار افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
کینیڈا کے قطبی ریچھ معدومیت کے خطرے سے دوچار
ریچھ نے حملے دو فیکٹریوں اور ایک رہائشی علاقے میں کیےاس مقابلتاﹰ عظیم الجثہ جنگی جانور نے یہ حملے دو فیکٹریوں میں اور ایک رہائشی علاقے میں کیے۔
مقامی پولیس کے سربراہ اور فائر بریگیڈ کے عملے کا بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے جاپانی میڈیا نے بتایا کہ اس ریچھ کو پہلے موٹر گاڑیوں کے پرزے بنانے والی ایک فیکٹری میں دیکھا گیا تھا، جس کے بعد پولیس کو کی گئی ایک ایمرجنسی کال میں اطلاع دی گئی تھی کہ اس ریچھ کے کاٹنے سے ''ملازمین زخمی‘‘ ہو گئے تھے۔ناروے: سیاح کو زخمی کرنے والے قطبی ریچھ کو مار دیا گیا
اس واقعے کے بعد یہ جنگلی ریچھ اس فیکٹری سے نکل کر ایک رہائشی علاقے کی طرف بھاگا اور اس کے بعد ایک ایسی دوسری فیکٹری کی طرف جہاں الیکٹرانک مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔
یہاں بھی یہ ریچھ دو افراد کے زخمی ہونے کی وجہ بنا۔ملکی میڈیا کے مطابق ان تین حملوں میں زخمی ہونے والے چار افراد میں سے ایک شدید زخمی ہوا ہے جبکہ باقی تین افراد کو کوئی شدید زخم نہیں آئے۔
گزشتہ برس ریچھوں کے ہاتھوں ریکارڈ حد تک زیادہ 13 ہلاکتیںجاپان میں گزشتہ برس کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں ملک بھر میں ریچھوں کے انسانوں پر کیے گئے حملوں میں 13 افراد ہلاک ہو گئے تھے، جو اس نوعیت کی انسانی ہلاکتوں کی ریکارڈ حد تک زیادہ سالانہ تعداد تھی۔
ایسے حملے روایتی طور پر اس وقت زیادہ دیکھنے میں آتے ہیں، جب شدید نوعیت کے موسم سرما کے دوران کافی عرصے تک اپنی مقابلتاﹰ گرم اور انسانی آنکھوں سے پوشیدہ پناہ گاہوں میں قیام کے بعد ایسے جنگلی جانور باہر نکلتے ہیں اور بہت بھوکے ہونے کے باعث خوراک کی تلاش کے دوران انسانوں پر حملے بھی کر دیتے ہیں۔
جفتی کی کوشش میں ریچھ نے ساتھی کی جان لے لی
سرکاری ڈیٹا کے مطابق اس سال مارچ میں ختم ہونے والے جاپان کے گزشتہ مالی سال کے دوران پورے ملک میں جنگلی ریچھوں کے ان کے قدرتی ماحول سے باہر کے علاقوں میں دیکھے جانے کے واقعات کی مجموعی تعداد 50 ہزار سے زائد رہی تھی، جو ایک نیا ریکارڈ تھا۔
اوساکا کے شہری کا مقامی بلدیہ کے لیے غیر معمولی عطیہ، اکیس کلوگرام سونا
اس سے قبل اس سالانہ تعداد کا ریکارڈ دو سال قبل مالی سال 2023 میں قائم ہوا تھا۔ لیکن 2025 میں جنگلی ریچھوں کے شہری یا دیہی علاقوں میں نظر آنے کے واقعات دو گنا سے بھی زیادہ ہو گئے تھے۔
’برفانی انسان‘ دراصل ریچھ کی ایک قسم ہے، تحقیق
ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق جاپان کی وازرات کے مطابق ملک میں جنگلی ریچھوں کے حملوں کے واقعات میں گزشتہ جان لیوا واقعہ اسی سال اپریل میں پیش آیا تھا، جس میں ایک ریچھ نے حملہ کر کے ایک شخض کو ہلاک اور پانچ دیگر کو زخمی کر دیا تھا۔
جاپانی حکومت کی طرف سے ملک میں جنگلی ریچھوں کی مجموعی آبادی کا اندازہ 57,800 کے قریب لگایا جاتا ہے۔
ادارت: جاوید اختر