—فائل فوٹوز

ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے چیئرمین کی تقرری کے عمل کا آخری مرحلہ کل ہو گا جس میں وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی سربراہی میں سرچ کمیٹی ٹاپ 5 امیدواروں سے تفصیلی انٹرویو کرے گی۔

وفاقی سیکریٹری تعلیم و پیشہ ور تربیت ندیم محبوب نے ’جنگ‘ کو بتایا کہ پہلے مرحلے کے انٹرویوز کے دوران سرچ کمیٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ ٹاپ 5 امیدواروں کے مزید تفصیلی انٹرویوز کیے جائیں تاکہ بہترین امیدواروں میں سے سب سے ’بہترین امیدوار‘ کا انتخاب کر کے اس کا نام وزیرِ اعظم کو بھیجا جا سکے۔

ان کا کہنا ہے کہ بہتر امیدوار کی تلاش میں یہ طریقہ کار نیا نہیں بلکہ نجی شعبے میں بھی اس عمل کی کئی مثالیں موجود ہیں۔

ذرائع کے مطابق جن 5 امیدواروں کو دوبارہ انٹرویو کے لیے بلایا گیا ہے ان میں پروفیسر ڈاکٹر سروش حشمت لودھی، ڈاکٹر نیاز احمد، ڈاکٹر محمد علی شاہ، ڈاکٹر سرفراز خالد اور ڈاکٹر خالد حفیظ شامل ہیں۔

تاہم اصل مقابلہ 3 امیدواروں کے درمیان ہے اور سرچ کمیٹی تفصیلی انٹرویوز کے بعد 3 نام ہی وزیرِ اعظم کو بھجوائے گی، جس کی حتمی منظوری وزیرِ اعظم دیں گے۔

ٹاپ 3 امیدواروں میں ڈاکٹر سروش حشمت لودھی 8 برس تک این ای ڈی انجینئرنگ یونیورسٹی کے وائس چانسلر رہ چکے ہیں، اس وقت وہ سندھ ایچ ای سی میں چیئرمین کے بعد سب سے اہم عہدے چارٹر انسپیکشن اینڈ ایوالیشن کمیٹی کے چیئرمین ہیں۔

ڈاکٹر سروش حشمت لودھی اس وقت سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے دوسرے اہم ترین عہدے چارٹر انسپیکشن اینڈ ایوالیشن کمیٹی کے چیئرمین ہیں وہ 8 برس تک جامعہ این ای ڈی کے وائس چانسلر بھی رہے اور انہوں نے اپنے 8 سالہ دور میں ناصرف 440 ملین روپے سے زائد کے خسارے پر قابو پایا بلکہ 11 ہزار 400 ملین روپے کی مجموعی سرمایہ کاری بھی یونیورسٹی کے لیے چھوڑی، جس میں 3 ہزار 500 ملین روپے کا پنشن فنڈ اور 5 ہزار ملین روپے سے زائد کا انڈومنٹ فنڈ شامل ہے۔

ڈاکٹر سروش نے تعلیمی پروگراموں کی تعداد 88 سے بڑھا کر 117 کی، نئے شعبے متعارف کروائے اور تھر میں انسٹیٹیوٹ آف انجینئرنگ، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی قائم کیا اور انجینئرنگ پروگرامز میں خواتین کے داخلے کا تناسب بڑھا کر 44 فیصد کیا۔

انہوں نے جامعات کی عالمی درجہ بندی میں این ای ڈی کو دنیا کی ٹاپ 1500 جامعات میں شامل کیا، کیو ایس ایشیاء رینکنگ 2024ء میں ٹاپ 500 میں جگہ بنائی، این ای ڈی میں تحقیقی اشاعتوں میں 325 فیصد اضافہ اور فنڈڈ پروجیکٹس میں 321 فیصد اضافہ ہوا، جو ایک مضبوط تحقیقی ماحول کی نشاندہی کرتا ہے۔

ڈاکٹر سروش نے پاکستان کا پہلا ٹیکنالوجی پارک (24 ارب روپے) پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت قائم کیا، نیشنل انکیوبیشن سینٹر بنایا جس نے 376 اسٹارٹ اَپس کے ذریعے 10 ارب روپے سے زائد ریونیو اور 12 ارب روپے سے زائد سرمایہ کاری پیدا کی،نیز نینو ٹیکنالوجی، پانی اور توانائی کے شعبوں میں خصوصی تحقیقی ادارے قائم کیے۔

انہوں نے سابق طلبہ سے 1 ارب روپے سے زائد کے عطیات بھی جمع کیے، تعلیمی خدمات پر پرائیڈ آف پرفارمنس (2019) اور تغمۂ امتیاز سے نوازا گیا۔

ڈاکٹر نیاز احمد اس وقت قائد اعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر ہیں، وہ پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر، یونیورسٹی آف ساہیوال کے وائس چانسلر، نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی فیصل آباد کے ریکٹر، یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ٹیکسلا کے وائس چانسلر اور انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی لاہور کے وائس چانسلر رہ چکے ہیں۔

اس کے علاوہ ڈاکٹر نیاز پنجاب یونیورسٹی لاہور میں انسٹیٹیوٹ آف کوالٹی اینڈ ٹیکنالوجی مینجمنٹ اور کوالٹی انہانسمنٹ سیل کے بانی ڈائریکٹر بھی ہیں۔

انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ان کی شاندار کارکردگی کے اعتراف میں انہیں حکومتِ پاکستان نے 2015ء میں ستارۂ امتیاز سے بھی نوازا ہے۔

ڈاکٹر محمد علی شاہ ایک ممتاز ماہرِ تعلیم اور پنجاب یونیورسٹی کے موجودہ وائس چانسلر ہیں، وہ قائدِ اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے وائس چانسلر رہ چکے ہیں، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی (جی سی یو) لاہور اور ہزارہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے طور پر اضافی چارجز بھی سنبھال چکے ہیں۔

انہوں نے یونیورسٹی آف ویلز، برطانیہ سے پی ایچ ڈی کی اور یونیورسٹی آف میسوری، امریکا سے پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلوشپ کی۔

ڈاکٹر محمد علی نے GCUL، BZU ملتان اور غازی یونیورسٹی میں بھی خدمات انجام دیں، ہائر ایجوکیشن کی طرف سے 2002ء، 2005ء اور 2011ء کے لیے بہترین یونیورسٹی ٹیچر کے اعزاز سے بھی انہیں نوازا گیا، ان کی زیرِ نگرانی 120 طلبہ نے ایم فل اور 40 طلبہ نے پی ایچ ڈی کی۔

ڈاکٹر محمد علی 2 بین الاقوامی کتابوں کے مصنف بھی ہیں، ان کے 240 مقالے شائع ہو چکے ہیں، انہیں تمغۂ امتیاز اور ستارۂ امتیاز سے بھی نوازا گیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی یونیورسٹی ا ف روپے سے زائد ڈاکٹر سروش ملین روپے ارب روپے انہوں نے چکے ہیں

پڑھیں:

مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ

مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

سری نگر(آئی پی ایس )مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق رپورٹ کے مطابق جنوری 1989 سے جولائی 2026 تک 96 ہزار 499 افراد شہید جبکہ ایک لاکھ 84 ہزار 149 سے زائد افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں ایک لاکھ 10 ہزار 605 سے زائد مکانات اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا.اس عرصے میں 22 ہزار 992 خواتین بیوہ اور ایک لاکھ 8 ہزار 9 بچے یتیم ہوئے۔ جولائی 2026 میں بھارتی فورسز کے بڑے پیمانے پر کریک ڈان کے دوران 3 ہزار سے زائد کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا اور متعدد مکانات مسمار کیے گئے۔

کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق جولائی 2026 میں بھارتی فوج، پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں سرچ اور محاصرے کی کارروائیاں تیز کر دیں۔ کلگام، پلوامہ، شوپیاں، اسلام آباد (اننت ناگ)، سرینگر، گاندربل، بارہمولہ، بڈگام، کپواڑہ، بانڈی پورہ، اونتی پورہ اور ہندواڑہ سمیت کئی علاقوں میں گھروں پر چھاپے مارے گئے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران 3 ہزار سے زائد کشمیری نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ شہریوں کو سخت تلاشی، نگرانی اور نقل و حرکت کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارتی حکام کے مطابق سرچ آپریشنز کے دوران ہزاروں افراد کو حراست میں لیا گیا اور مزید کارروائیاں جاری رہیں گی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ جولائی میں ضلع اسلام آباد (اننت ناگ) میں بھارتی پولیس اہلکار کی ہلاکت کے بعد وادی بھر میں کریک ڈان مزید تیز کیا گیا۔ اس دوران بھارتی انتظامیہ نے بیج بہاڑہ میں عادل ٹھوکر اور حسن پورہ میں ہارون گنائی کے مکانات بھی مسمار کردیے۔

اعداد و شمار کے مطابق جنوری 1989 سے جولائی 2026 تک مقبوضہ کشمیر میں مجموعی طور پر 96 ہزار 499 افراد شہید ہوئے، جن میں 7 ہزار 419 مبینہ حراستی یا جعلی مقابلوں میں شہادتیں شامل ہیں۔ اس دوران ایک لاکھ 84 ہزار 149 سے زائد افراد گرفتار کیے گئے، جبکہ ایک لاکھ 10 ہزار 605 سے زائد مکانات اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں 22 ہزار 992 خواتین بیوہ، ایک لاکھ 8 ہزار 9 بچے یتیم اور 11 ہزار 278 خواتین مبینہ طور پر زیادتی یا اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنیں۔ رپورٹ کے مطابق 5 اگست 2019 سے جولائی 2026 تک ایک ہزار 66 افراد شہید ہوئے، جن میں 295 مبینہ حراستی شہادتیں یا جعلی مقابلے شامل ہیں۔ اس عرصے میں 2 ہزار 702 افراد تشدد یا شدید زخمی ہوئے، 37 ہزار 210 سے زائد گرفتاریاں ہوئیں، جبکہ ایک ہزار 211 سے زائد مکانات، دکانوں اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ اس دوران 84 خواتین بیوہ، 234 بچے یتیم اور 148 خواتین مبینہ طور پر زیادتی یا اجتماعی زیادتی کا شکار ہوئیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبرلاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی اگلی خبرجدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم