data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاکستان سپر لیگ کے آنے والے ایڈیشن کے لیے نئی فرنچائزز کی شمولیت کے حوالے سے سرگرمیاں تیزی سے جاری ہیں اور اس سلسلے میں ملک اور بیرونِ ملک متعدد سرمایہ کار گہری دلچسپی لے رہے ہیں۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق بتایا گیا ہے کہ نئی فرنچائز کی ریزرو پرائس سوا ارب روپے سے زائد مقرر کیے جانے کی توقع ہے، جو پی ایس ایل کی بڑھتی ہوئی تجارتی قدر اور بین الاقوامی سطح پر اس کی مقبولیت کی واضح عکاسی کرتی ہے۔

ابتدائی ٹینڈرز جاری ہونے کے بعد مختلف کاروباری حلقوں نے اپنی بڈنگ کی تیاری کا آغاز کردیا ہے۔ اس سلسلے میں league administration کو بڑی تعداد میں درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔

ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے اندر سے جو کمپنیاں دلچسپی ظاہر کر رہی ہیں، ان میں دو بڑے شعبے رئیل اسٹیٹ اور سولر انرجی نمایاں ہیں، جو گزشتہ کئی برسوں سے ملکی کرکٹ کی سرپرستی بھی کرتی چلی آ رہی ہیں۔ ان دونوں کے علاوہ کئی اور معروف کاروباری گروپس نے بھی فرنچائز خریدنے کے ارادے سے رابطے کیے ہیں۔

اسی طرح بین الاقوامی سطح پر بھی صورتحال خاصی دلچسپ ہے، کیونکہ امریکا سے تعلق رکھنے والی 2 کاروباری شخصیات نئی ٹیم خریدنے کی خواہش مند ہیں جب کہ برطانیہ اور ایک دیگر یورپی ملک سے بھی سرمایہ کار بڈنگ میں حصہ لینے کے لیے تیار ہیں۔ یہ پیش رفت پاکستان سپر لیگ کی بڑھتی ہوئی عالمی پذیرائی کی تازہ ترین مثال قرار دی جا رہی ہے۔

پی سی بی نے واضح کر دیا ہے کہ ٹیکنیکل پروپوزلز جمع کرانے کی آخری تاریخ 15 دسمبر مقرر کی گئی ہے۔ صرف وہ بولی دہندگان جو اس مرحلے میں کامیاب ہوں گے، اگلے راؤنڈ میں حصہ لے سکیں گے، جس کے بعد حتمی فیصلے جنوری میں کیے جائیں گے۔

ذرائع کے مطابق اگر مقابلہ سخت ہوا تو ریزرو پرائس کے مقابلے میں بڈز اس سے کہیں زیادہ بڑھ سکتی ہیں، جیسا کہ پی ایس ایل کے گزشتہ سیزنز میں بھی دیکھنے میں آیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

 کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر

اسلام آباد،اوورسیز چیمبر آف کامرس سروے (overseas chamer commerce)میں بتایا گیا کہ پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور ہوگیا، 70 سے 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر ہوئے۔

سروے میں بتایا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9 فیصد پوائنٹس کمی سے مثبت 13 فیصد رہ گیا، خدمات کے شعبے میں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔

اوورسیز چیمبر سروے کے مطابق مینوفیکچرنگ کے شعبے میں کاروباری اعتماد 7 پوائنٹس کم ہوگیا، صرف ریٹیل سیکٹر میں کاروباری اعتماد 3 پوائنٹس اضافے سے مثبت 20 فیصد ہوگیا۔

مزید پڑھیں:سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع

سروے میں یہ بھی بتایا گیا کہ نئی سرمایہ کاری انڈیکس 10 پوائنٹس کمی سے صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا۔

متعلقہ مضامین

  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا