اسلام آباد(نیوز ڈیسک)ملک میں تیز رفتار انٹرنیٹ کے لیے 13 ارب روپے کے منصوبے منظور کرلیے گئے۔

وزارت آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن کے ادارے یونیورسل سروس فنڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اہم اجلاس میں ملک کے 11 اضلاع کے لیے ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ، وائس کمیونیکیشن اور فائبر آپٹیکل کیبل کے 9 میگا پراجیکٹس کی منظوری دی گئی ہے۔

سیکرٹری آئی ٹی اور چیئرمین بورڈ کے مطابق وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ کی ہدایت پر شہری اور دیہی ڈیجیٹل تفریق کے خاتمے کے اقدامات میں تیزی لائی جا رہی ہے۔

منصوبوں کی مجموعی مالیت 13 ارب روپے سے زائد ہے اور یہ 55 لاکھ سے زائد افراد کو سہولیات فراہم کریں گے جب کہ 11 اضلاع کے 178 ٹاؤنز و یونین کونسلز اور 753 گاؤں کے مکین ڈیجیٹل دنیا سے منسلک ہو سکیں گے۔

چیئرمین یو ایس ایف بورڈ نے کہا کہ دیہی اور پسماندہ علاقوں میں انٹرنیٹ اور موبائل کنکٹیویٹی سے ڈیجیٹل اکانومی کو فروغ ملے گا ۔ یو ایس ایف کے پہلے سے جاری منصوبوں سے اب تک دیہی علاقوں کے 3 کروڑ 94 لاکھ افراد کو کنکٹیویٹی سروسز تک رسائی حاصل ہو چکی ہے۔

سیالکوٹ، نارووال، زیارت اور کوئٹہ کے اضلاع کے لیے 3 منصوبوں میں 1428 کلومیٹر آپٹیکل فائبر کیبل بچھائی جائے گی جب کہ عمرکوٹ، گجرانوالہ، کوہاٹ، خضدار، مظفرگڑھ، مانسہرہ اور منڈی بہاءالدین اضلاع کے لیے براڈ بینڈ سروسز کے چھ منصوبے شامل ہیں۔

اجلاس میں چیئرمین پی ٹی اے میجر جنرل حفیظ الرحمان، ممبر ٹیلی کام جہانزیب رحیم، محمد یوسف اور عائلہ ماجد بھی شریک ہوئے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: اضلاع کے کے لیے

پڑھیں:

کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر

محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔

تفصیلات کے مطابق  انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔

انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ،  پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔

اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے  www.seccap.dgcs..gos.pk  کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔

ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔

ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • گلشن اقبال میں تیز رفتار ڈمپر الٹ گیا، شہری معجزانہ طور پر محفوظ، مشتعل افراد کا کلینر پر تشدد
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور