این ایف سی ایوارڈ اور پسماندہ اضلاع
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
وفاقی حکومت نے گیارہ برسوں بعد نیشنل فنانس کمیشن کا اجلاس بلانے کا حتمی فیصلہ کر لیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف، ان کی کابینہ کے بعض اراکین اور بعض سیاست دان مسلسل این ایف سی ایوارڈ میں تبدیلی کے لیے رائے عامہ ہموار کرنے کی جستجو میں لگے ہوئے ہیں۔
گزشتہ دنوں شایع ہونے والی ایک رپورٹ میں ایک انڈیکس شایع کیا گیا ہے جس میں چاروں صوبوں کے ان اضلاع کی نشاندہی کی گئی ہے جو 78 برس گزرنے کے باوجود پسماندہ ہیں۔ ان اضلاع کی تعداد 40 کے قریب بتائی جاتی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق ان اضلاع کی 3 کروڑ سے زیادہ آبادی کو پکے مکانات دستیاب نہیں ہیں۔ اسی طرح 40 فیصد کو صاف پانی کی سہولت میسر نہیں جب کہ ڈھائی کروڑ افراد صحت کی سہولتوں اور 70 لاکھ افراد تعلیم کی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔
اس طرح نصف گھروں میں بیت الخلاء بھی موجود نہیں۔ اس انڈیکس کے مطالعے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ پسماندہ اضلاع بلوچستان میں ہیں۔ بلوچستان کے اضلاع خضدار،کوہلو، ژوب، ڈیرہ بگٹی، مشکیل، قلعہ سیف اللہ، وشکیل، جھل مگسی، آواران، خاران، پختون خوا کے پسماندہ اضلاع میں مالاکنڈ، ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں، پنجاب میں تمام جنوبی شہر، سندھ میں تھرپارکر، میرپور خاص، لاڑکانہ وغیرہ پسماندہ ترین اضلاع میں شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان اضلاع میں غربت کی لکیر کے نیچے رہنے والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ یہ اضلاع خواندگی، تعلیم اور صحت کی سہولتوں اور انفرا اسٹرکچر کے تناظر میں دیگر اضلاع سے ترقی میں بہت پیچھے ہیں۔
پاپولیشن کونسل کا ڈسٹرکٹ ولنربلٹی انڈیکس فار پاکستان ملک کے صوبوں اور اضلاع میں پائی جانے والی کمزوریوں کی ایک تفصیلی اور ڈیٹا پر مبنی تصویر سامنے لاتا ہے۔ یہ انڈیکس ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان کے مختلف خطوں میں موجود ترقیاتی فرق کسی اتفاق یا حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ دہائیوں پر مشتمل ایسی پالیسیوں کا نتیجہ ہے جن میں ترقیاتی ترجیحات مسلسل غیر متوازن رہیں اور سیاسی فیصلوں نے مخصوص علاقوں کو فائدہ پہنچایا، جب کہ باقی خطے محرومی کی زد میں رہے۔
یہ انڈیکس موجودہ سرکاری اور غیر سرکاری ڈیٹا سیٹس کو یکجا کر کے یہ جانچتا ہے کہ پاکستان کے اضلاع ایک دوسرے کے مقابلے میں کتنے کمزور یا کتنے مستحکم ہیں۔ روایتی موسمیاتی یا آفات سے متعلق جائزوں کے برعکس، یہ رپورٹ صرف وقتی حادثات یا قدرتی تباہ کاریوں پر توجہ نہیں دیتی بلکہ ان بنیادی ساختی اور نظامی محرومیوں کو سامنے لاتی ہے جو کسی علاقے کو طویل عرصے تک پس ماندہ رکھتی ہیں۔ رپورٹ 21 اشاریوں پر مشتمل ہے جنھیں چھ بڑے شعبوں میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں رہائش، مواصلات اور ٹرانسپورٹ، روزگار اور ذریعہ معاش، صحت کی سہولیات، عوامی تعلیم تک رسائی اور آبادیاتی عوامل شامل ہیں۔
پاکستان میں صوبائی سطح پر پائی جانے والی عدم مساوات نہ صرف وسیع ہے بلکہ مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اس کی واضح مثال بلوچستان ہے، جو سماجی، معاشی اور انسانی ترقی کے لحاظ سے ملک کا سب سے پسماندہ خطہ ہے۔ انفرا اسٹرکچر سے لے کر روزگار تک اور مواصلات سے لے کر انسانی ترقی، تعلیم اور صحت تک۔ تقریباً ہر شعبے میں بلوچستان مسلسل آخری نمبروں پر ہے۔ رپورٹ کے مطابق صوبے کی انتظامی کمزوری، بے روزگاری کی بلند شرح، ناکافی رہائش، صحت و تعلیم تک محدود رسائی، ناکافی روزگار کے مواقع، ایک ایسے صوبے کی تصویر پیش کرتی ہے جو قومی ترقیاتی دھارے سے تقریباً مکمل طور پرکٹا ہوا ہے۔
ملک بھر کے 20 سب سے کمزور اضلاع میں رہنے والے ایک کروڑ افراد میں سے نصف سے زیادہ بلوچستان میں آباد ہیں۔ دوسری طرف، 20 سب سے مضبوط اضلاع میں اکثریت پنجاب کے اضلاع کی ہے، اگرچہ پنجاب کے جنوبی اور مغربی علاقے خود بھی شدید محرومی کا شکار ہیں۔ چند بہتر اضلاع سندھ اور خیبر پختونخوا میں بھی شامل ہیں، مگر بنیادی فرق واضح ہے۔ ترقی کے ثمرات پاکستان کے مختلف علاقوں میں انتہائی غیر مساوی طریقے سے تقسیم ہوئے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 20 میں سے 17 سب سے کمزور اضلاع بلوچستان میں ہیں، جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ صوبے کی پسماندگی کوئی وقتی سلسلہ یا حادثاتی بحران نہیں بلکہ طویل المیعاد حکومتی غفلت کا نتیجہ ہے۔ حتیٰ کہ خیبر پختونخوا، جو اپنے چیلنجز رکھتا ہے، بلوچستان کے مقابلے میں کہیں بہتر کارکردگی دکھاتا ہے اور اس کے صرف ایک ضلع کا شمار ملک کے پانچ سب سے کمزور اضلاع میں ہوتا ہے۔
رپورٹ واضح کرتی ہے کہ مختلف ادوارکی حکومتوں نے ہمیشہ ترقیاتی اخراجات، منصوبے اور وسائل اُن خطوں پر مرکوز رکھے جو سیاسی طور پر زیادہ اہم تھے۔ اس حکمتِ عملی کے پیچھے بنیادی وجہ ایک انتہائی مرکزیت پسند حکومتی ڈھانچہ اور مختصر المدتی انتخابی سیاست رہی ہے، جس کی وجہ سے دور دراز، پسماندہ اور غیر ترقی یافتہ اضلاع بنیادی سہولیات تک بھی نہ پہنچ سکے۔ خواہ وہ صحت اور تعلیم ہو یا ماحولیاتی خطرات کے مقابلے کی صلاحیت پیدا کرنا۔ مختصراً رپورٹ ہمارے ترقیاتی منظر نامے کے بارے میں دو بنیادی نکات واضح کرتی ہے۔ اول : پاکستان کے مسائل صرف وسائل کی کمی کا نتیجہ نہیں بلکہ اصل مسئلہ ان وسائل اور اہم خدمات کی شدید غیر منصفانہ اور غیر متوازن تقسیم ہے جو ملک کے مختلف علاقوں کے درمیان پائی جاتی ہے۔
دوم : ان گہری محرومیوں کی وجہ سے وہ علاقے جو پہلے ہی پیچھے رہ گئے ہیں، قدرتی آفات اور بحرانوں کا زیادہ شکار ہوتے ہیں اور اُن کے لیے ترقی یافتہ علاقوں کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ اس انڈیکس کے تجزیہ کے بعد ضروری ہے کہ این ایف سی ایوارڈ کے فارمولہ میں بنیادی تبدیلی ہونی چاہیے۔ اب بجائے آبادی کے پسماندگی کی بنیاد پر گرانٹ کی تقسیم ہونی چاہیے۔ پسماندہ صوبوں کو زیادہ گرانٹ ملنی چاہیے۔ پھر ایک مسئلہ صوبوں کو ملنے والی رقم کے استعمال کی اہلیت کا ہے۔
اس لیے ضروری ہے کہ صوبوں کے منتخب اراکین، وزراء اور بیوروکریسی کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے ورکشاپ، فوکسڈ ڈسکشن گروپ اور کانفرنس وغیرہ کے بار بار انعقاد پر خصوصی توجہ دی جائے، اس کے ساتھ ہی نچلی سطح تک اختیارات کا بلدیاتی نظام قائم کیا جائے تاکہ یونین کونسل کی سطح سے لے کر صوبے کی سطح تک غربت کے خاتمہ اور ترقیاتی منصوبوں کی کامیابی کے لیے عوام کے براہِ راست اپنے حکمرانوں سے رابطے قائم ہوسکیں۔ کرپشن کے خاتمہ کے لیے احتساب کے آزاد اور خودمختار ادارہ کا قیام ضروری ہے۔ یہ مفروضہ غلط ہے کہ این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ کم کر کے وفاق کا حصہ بڑھانے سے پسماندہ صوبے ترقی کرسکیں گے ۔ حقیقتاً صوبوں کا حصہ بڑھانے اور یہ رقم نچلی سطح پر خرچ ہونے سے ہی یہ اضلاع ترقی کی دوڑ میں شامل ہوسکیں گے۔ یوں مجموعی طور پر ملک ترقی کرے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایف سی ایوارڈ پاکستان کے اضلاع میں کا نتیجہ اضلاع کی سے زیادہ ان اضلاع صوبے کی
پڑھیں:
جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ترقی اور بقا کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نے صدیوں تک یہ سمجھا کہ فطرت ہمارے لیے ایک لامحدود خزانہ ہے جس سے ہم جتنا چاہیں لے سکتے ہیں مگر اب زمین ہمیں بتا رہی ہے کہ ہر نعمت کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی، بے موسم کی بارشیں، خشک سالی، سیلاب اور آلودگی محض موسمی واقعات نہیں رہے بلکہ ایک بڑے ماحولیاتی بحران کی نشانیاں بن چکے ہیں۔
آج جب یورپ میں گرمی کی نئی لہر ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ پرتگال اپنے مئی کے مہینے کا سب سے زیادہ درجہ حرارت دیکھ رہا ہے۔ اسپین، فرانس اور اٹلی میں خطرے کے الارم بج رہے ہیں،یہ انسانی تہذیب کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات بڑھ رہے ہیں اور دنیا بھر کے ماہرین ماحولیات مسلسل خبردار کر رہے ہیں تو یہ صرف موسم کی تبدیلی کی خبر نہیں بلکہ انسانی طرز زندگی پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی ان انتباہات کو معمول کی خبروں کی طرح نظرانداز کرتے رہیں گے یا اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کریں گے؟
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ کہیں دور قطب شمالی کے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز یا بحرالکاہل کے ڈوبتے ہوئے جزیروں کا مسئلہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ اب ہمارے گھروں، ہماری گلیوں اور ہمارے شہروں تک آ پہنچا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ دنیا میں کاربن کے اخراج میں ہمارا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔
کراچی اس کی ایک زندہ مثال ہے۔ اس شہر میں گرمی صرف ایک موسم نہیں ،ایک آزمائش ہے۔ مئی اور جون کی دوپہر میں جب سورج آگ برساتا ہے تو سڑکوں پر چلنے والا عام آدمی کسی پناہ گاہ کی تلاش میں ہوتا ہے، لیکن اسے سایہ کہاں ملے؟ ہمارے شہر کی بڑی شاہراہوں پر درخت کم ہوتے جا رہے ہیں۔
نئی سڑکیں بنتی ہیں، فلائی اوور بنتے ہیں، کنکریٹ کے جنگل پھیلتے جاتے ہیں مگر درختوں کی تعداد گھٹتی جاتی ہے۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ ایک مزدور جو صبح سے شام تک دھوپ میں محنت کرتا ہے، ایک خاتون جو بس اسٹاپ پر کھڑی ہے،ایک طالب علم جو پیدل گھر جا رہا ہے، ایک ٹریفک پولیس اہلکار جو گھنٹوں دھوپ میں کھڑا رہتا ہے ان کے لیے شہر نے کیا انتظام کیا ہے؟ ان کے لیے سایہ کہاں ہے؟ کون سا درخت لگایا گیا ہے۔
یورپ میں جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو حکومتیں عوام کو خبردار کرتی ہیں۔ شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں گرمی کا سامنا زیادہ تر فرد کی اپنی ذمے داری سمجھ لیا جاتا ہے، گویا سورج سے بچنا بھی ایک ذاتی مسئلہ ہے اجتماعی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ درخت صرف خوبصورت منظر کے لیے نہیں ہوتے۔ وہ زندگی ہوتے ہیں ،وہ فضا کو صاف کرتے ہیں ،زمین کو ٹھنڈا رکھتے ہیں ،پرندوں کو گھر دیتے ہیں اور انسانوں کو سانس لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ایک درخت کاٹنا صرف ایک درخت کاٹنا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے حصے کی ٹھنڈک چھین لینا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ صرف درجہ حرارت کا مسئلہ بھی نہیں، یہ انصاف کا مسئلہ ہے دنیا کے امیر ممالک نے دو صدیوں تک صنعت کاری کے نام پر فضا میں کاربن بھرا اور آج اس کی قیمت وہ ممالک ادا کر رہے ہیں جو پہلے ہی غربت بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ پریشان کن چیز شاید ہماری بے حسی ہے۔ ہم ہر سال گرمی کے نئے ریکارڈ بنتے دیکھتے ہیں سیلاب آتے دیکھتے ہیں خشک سالی بڑھتی دیکھتے ہیں مگر پھر بھی اسے ایک عارضی خبر سمجھ کر بھول جاتے ہیں۔
زمین کی تاریخ ہمیں ایک عجیب سبق دیتی ہے۔ سائنس دان بتاتے ہیں کہ اربوں سال پہلے جب زمین کے ماحول میں آکسیجن کی مقدار اچانک بڑھی تھی تو اس وقت موجود بے شمار جاندار اس تبدیلی کو برداشت نہ کر سکے۔ اس واقعے کو بعض اوقات عظیم آکسیجنی تباہی کہا جاتا ہے اور اسے زمین کی اولین عظیم حیاتیاتی تبدیلیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ زندگی ختم نہیں ہوئی تھی لیکن زندگی کی بہت سی اشکال ختم ہو گئی تھیں۔ کچھ نئی انواع نے جنم لیا اور ارتقا کا سفر آگے بڑھتا رہا۔یہ بات ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ فطرت انسان کے بغیر بھی زندہ رہ سکتی ہے لیکن انسان فطرت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔
آج ہم خود اپنے ہاتھوں سے فضا میں کاربن بھر رہے ہیں۔ کارخانوں کا دھواں، بے ہنگم شہری پھیلاؤ، جنگلات کی کٹائی، فضائی آلودگی اور لامحدود منافع کی دوڑ ہمیں ایک ایسے راستے پر لے جا رہی ہے جہاں ایک نئی ماحولیاتی تباہی کا خطرہ موجود ہے۔ شاید زمین باقی رہے گی، سمندر باقی رہیں گے، پہاڑ باقی رہیں گے اور شاید زندگی کی کوئی نئی شکل بھی باقی رہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس دنیا میں انسان اسی طرح موجود رہیں جیسے آج ہیں۔ ارتقا کا عمل رکتا نہیں زندگی کسی نہ کسی صورت اپنا راستہ نکال لیتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اپنی جگہ برقرار رکھ سکیں گے؟
یہ بات کسی خوف پھیلانے کے لیے نہیں کہی جا رہی بلکہ اس لیے کہ ہم حقیقت کو سمجھ سکیں۔ جو زہر ہم ماحول میں بو رہے ہیں وہ آخرکار ہماری اپنی سانسوں میں شامل ہو رہا ہے۔ جو درخت ہم کاٹ رہے ہیں ان کی کمی ہمارے اپنے جسموں پر گرمی کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ جو دریا ہم آلودہ کر رہے ہیں وہی آلودگی ہماری اپنی زندگیوں میں واپس آ رہی ہے۔اس لیے شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم ترقی کے معنی پر دوبارہ غور کریں۔ کیا ترقی صرف اونچی عمارتوں کا نام ہے؟ کیا ترقی صرف نئی شاہراہوں اور بڑے منصوبوں کا نام ہے؟ یا پھر ترقی کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایک شہر میں چلنے والا انسان سایہ پا سکے صاف ہوا میں سانس لے سکے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابلِ رہائش دنیا چھوڑ سکے؟
دنیا کی یہ بدلتی حالت شاید ہمیں ایک آخری موقع دے رہی ہے۔ ایک موقع کہ ہم اپنے رویوں پر نظرثانی کریں اپنی ترجیحات بدلیں اور زمین کے ساتھ اپنے رشتے کو دوبارہ سمجھیں، کیونکہ فطرت انتقام نہیں لیتی وہ صرف اپنا توازن بحال کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ توازن بحال ہوگا تو کیا ہم اس کا حصہ ہوں گے یا تاریخ کی کسی معدوم نسل کی طرح صرف ایک یاد بن کر رہ جائیں گے۔