فلسطین: سول سوسائٹی پر اسرائیلی کریک ڈاؤن تشویشناک حد کو پہنچ گیا: اقوام متحدہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی تنظیم یونین آف اگریکلچرل ورک کمیٹیز پر اسرائیلی چھاپوں کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ فلسطینی سول سوسائٹی پر دباؤ خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق یکم دسمبر کو اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے رام اللہ اور الخلیل میں تنظیم کے دفاتر پر چھاپے مارے، املاک کو نقصان پہنچایا اور عملے کے ارکان کو حراست میں لیا۔
اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر (او ایچ سی ایچ آر ) کے مطابق عمارتوں میں موجود افراد کی آنکھوں پر پٹیاں باندھ دی گئیں، ہاتھ باندھ کر انہیں کئی گھنٹوں تک گھٹنوں کے بل یا زمین پر لیٹنے پر مجبور کیا گیا اور 8 افراد کو حراست میں لیا گیا۔
یہ یونین، جو فلسطینی قانون کے تحت رجسٹرڈ ہے، کئی دہائیوں سے کسانوں اور دیہی برادریوں خاص طور پر اُن لوگوں کی جو آبادکاروں کی تشدد آمیز سرگرمیوں یا جبری بے دخلی کے خطرے سے دوچار ہیں کی مدد کر رہی ہے ۔
یہ تنظیم اُن چھ فلسطینی این جی اوز میں شامل ہے جنہیں اسرائیلی حکام نے 2021 میں دہشت گرد قرار دیا تھا ایسے قانون کے تحت جسے اقوامِ متحدہ حد سے زیادہ وسیع اور سول سوسائٹی پر غیر ضروری و بلاجواز پابندیاں عائد کرنے کا ذریعہ قرار دیتی ہے۔
انسانی حقوق کے دفتر نے زور دیا کہ اسرائیل نے ان الزامات کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔چھاپہ ایسے وقت میں مارا گیا جب کئی ہفتوں سے اسرائیلی آبادکاروں اور اُن کے رہنماؤں کی جانب سے زیتون کی فصل کی تیاری کے موقع پر یونین آف اگریکلچرل ورک کمیٹیز کو نشانہ بناتے ہوئے ہراسانی اور عوامی اشتعال انگیزی جاری تھی۔
نومبر کے وسط تک او ایچ سی ایچ آر نے 167 آبادکار حملوں کے دستاویزی ثبوت مرتب کئے جو 87 فلسطینی کمیونٹیز کو متاثر کر رہے تھے۔
یکم اکتوبر سے اقوامِ متحدہ کے دفتر نے آبادکاروں اور اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی جانب سے انسانی حقوق کے محافظین، حفاظتی نگرانی فراہم کرنے والے رضاکاروں، اور اُن این جی اوز کے خلاف 81 خلاف ورزیوں کو ریکارڈ کیاہے جو آبادکاروں کے تشدد یا آباد کاری میں توسیع سے متاثرہ کمیونٹیز کی مدد کرتی ہیں۔
ان میں گرفتاری کے 48 اور جسمانی تشدد کے 22 واقعات شامل ہیں۔او ایچ سی ایچ آر کے مطابق غیر ضروری یا غیر متناسب طاقت کا استعمال، حراست اور بدسلوکی مغربی کنارے میں اسرائیلی سکیورٹی آپریشنز کا معمول بن چکا ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارے نے خبردار کیا کہ مجموعی طور پر یہ صورتحال فلسطینیوں کی جسمانی اور شہری آزادیوں کو تیزی سے محدود کر رہی ہے، خاص طور پر جب آبادکاری میں توسیع جاری ہے اور اقوامِ متحدہ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے اس علاقے کا ’’غیر قانونی انضمام‘‘بڑھتا جا رہا ہے۔
مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں او ایچ سی ایچ آر کے سربراہ اجیت سنگھے نے کہا کہ بین الاقوامی قانونی مؤقف بالکل واضح ہے کہ اسرائیل کو مقبوضہ فلسطینی علاقے میں اپنی غیر قانونی موجودگی ختم کرنی چاہیے اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے فیصلوں کے مطابق تمام یہودی آبادکاروں کووہاں سے نکالنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ قابض طاقت کے طور پر اسرائیل کی بین الاقوامی قانون کے تحت واضح ذمہ داریاں ہیں جن میں فلسطینیوں کے روزگار کے حق اور اظہارِ رائے و وابستگی کی آزادی کا احترام اور تحفظ شامل ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: او ایچ سی ایچ ا ر انسانی حقوق کے متحدہ کے کے مطابق کے دفتر
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔