بنوں میں فائرنگ سے اسسٹنٹ کمشنر شمالی وزیرستان اور 2 پولیس اہلکار شہید
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد زخمی اہل کاروں سے اسلحہ چھین لیا اور گاڑی کو نذر آتش کرکے فرار ہو گئے
بنوں کے علاقے میران شاہ روڈ پر اسسٹنٹ کمشنر کی گاڑی پر فائرنگ ہوئی جس کی زد میں آکر اسسٹنٹ کمشنر شمالی وزیرستان شاہ ولی خان اور 2 پولیس اہلکار شہید ہو گئے۔
پولیس کے مطابق بنوں میں میران شاہ روڈ فلور ملز کے قریب مسلح افراد نے پولیس گاڑی پر حملہ کیا، نامعلوم مسلح افراد زخمی پولیس اہلکاروں سے اسلحہ بھی لے گئے۔
ڈی آئی جی بنوں سجاد خان نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ حملے میں اسسٹنٹ کمشنر شمالی وزیرستان شاہ ولی خان اور 2 پولیس اہلکار شہید ہوئے ہیں جبکہ تین افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا ہے کہ شہید اور زخمی ہونے والوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال بنوں منتقل کر دیا گیا، پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی ہے۔
قبل ازیں اس حوالے سے اسسٹنٹ کمشنر بنوں نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ اسسٹنٹ کمشنر میرانشاہ کی گاڑی پر حملہ کیا گیا، فائرنگ سے 2 پولیس اہلکار اور ایک ڈرائیور زخمی ہوا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: پولیس اہلکار
پڑھیں:
بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
کراچی:ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔
درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔