حکومت کا کام نوکریاں دینا نہیں، سوچ بدلنے کی ضرورت ہے؛ وزیرخزانہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
اسلام آباد:
وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت کاکام نوکریاں دینا نہیں ہے،اب اس سوچ کوتبدیل کرنے کی ضرورت ہے،ملک کی آئی ٹی معیشت اور فری لانسنگ نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیداکررہی ہے۔
انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) کراچی کے تحت منعقدہ سیمینار سے خطاب میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر آئی بی اے ڈاکٹر ایس اکبر زیدی نے پاکستانی معیشت کی تشویشناک صورتحال پر اظہارِخیال کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان تیزی سے زوال کاشکار ہے،تمام معاشی اشاریے غلط سمت میں جارہے ہیں،دنیابھرمیں حکومتیں نجی شعبے کوسازگار ماحول فراہم کرتی ہیں، لیکن پاکستان میں یہ سہولت موجودنہیں۔
ان کے مطابق پاکستان کا ہیومن ڈیولپمنٹ انڈیکس میں 168واں نمبر ہوناانتہائی تشویشناک ہے اور موجودہ حالات میں نئی معیشت یا آئی ٹی انقلاب کی بات کرنا حقیقت سے دورہے۔گزشتہ ہفتے اسٹیٹ بینک کے گورنر نے بھی اعتراف کیا تھاکہ موجودہ معاشی ڈھانچہ 25 کروڑآبادی کابوجھ نہیں اٹھاسکتا،جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل کے کوآرڈینیٹر نے اعتراف کیاکہ ملک میں سرمایہ کاری کاماحول انتہائی خراب ہے ،مقامی سرمایہ کار بیرونِ ملک سرمایہ لگارہے ہیں۔
ان حالات کے سبب ملک میں روزگارکے مواقع کم ہوتے جارہے اور بے روزگاری کی شرح بڑھ کر 7.
ورلڈ بینک کی کنٹری ڈائریکٹر ڈاکٹر بولورماامگابازار نے کہاکہ پاکستان کی 60 فیصدآبادی 30 سال سے کم عمر ہے،جس میں صلاحیت تو ہے لیکن جب تک نوکریاں اور ہنرفراہم نہیں کیے جاتے، یہ صلاحیت کبھی حقیقت بن نہیں سکتی۔
ماہرِ معاشیات ڈاکٹر علی چیمہ نے خبردارکیاکہ اگر بڑھتی آبادی پرقابو نہ پایاگیا تومعاشی نمونہیں بڑھ سکتی۔ ڈاکٹرحنیدمختار نے بتایاکہ پاکستان کی فی کس آمدن بھارت سے 71فیصداور بنگلادیش سے 53 فیصدکم ہے،جس کی بنیادی وجہ کم سرمایہ کاری اور تیزی سے بڑھتی آبادی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔