Express News:
2026-07-24@05:48:33 GMT

ستائیسویں آئینی ترمیم

اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT

پاکستان کا آئین محض ایک دستاویز نہیں بلکہ ایک زندہ معاہدہ ہے جو بدلتے ہوئے سیاسی، عدالتی اور انتظامی تقاضوں کے مطابق ارتقا پذیر رہتا ہے۔ 27 ویں آئینی ترمیم اسی آئینی ارتقا کا تسلسل ہے، جس کا بنیادی مقصد ریاستی اداروں کے درمیان اختیارات کا توازن بہتر بنانا، عدالتی ڈھانچے کو مضبوط کرنا اور شفافیت کے اصولوں کو مزید موثر بنانا ہے۔

اس ترمیم کا سب سے نمایاں پہلو سپریم جوڈیشل کونسل (SJC)، جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (JCP) اور سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجرکمیٹی جیسے کلیدی اداروں کی ازسرِ نو تشکیل ہے۔ ماضی میں ان اداروں کی تشکیل و طریقہ کار پر اعتراضات اٹھتے رہے، جن میں کہیں شفافیت کا مسئلہ،کہیں اختیارات کا غیر متوازن استعمال شامل تھے۔

27 ویں ترمیم ان اداروں کو زیادہ جامع، نمایندہ اور منصفانہ بنانے کی جانب ایک واضح قدم ہے جس سے عدلیہ کے اندر بھی چیک اینڈ بیلنس کا ایک صحت مند ماحول پیدا ہوگا۔ اس ترمیم کا ایک اہم فائدہ یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے انتظامی و عدالتی فیصلوں کو اب اجتماعی دانش اور ادارہ جاتی صلاحیت سے گزارا جائے گا۔

ماضی میں فرد پر حد سے زیادہ اختیارات مرکوز ہونے سے ادارہ جاتی توازن متاثر ہونے کا اندیشہ لاحق تھا۔27 ویں ترمیم اس رجحان کا خاتمہ کر کے اپنے اندر یہ اصول مضبوط کرتی ہے کہ ادارے افراد سے بڑے ہوتے ہیں اور فیصلے شخصی نہیں ادارہ جاتی ہونے چاہئیں۔

مذکورہ ترمیم سے شفافیت میں اضافہ اور اعتمادکی بحالی ہوگی۔ عوام کا عدلیہ پر اعتماد کسی بھی جمہوری نظام کی بنیاد ہوتا ہے۔

ترمیم کے نتیجے میں عدالتی تقرریوں، احتسابی ڈھانچوں اور پالیسی سازی کے معاملات میں زیادہ کھلی، شفاف اور قابلِ نگرانی فضا قائم ہوگی۔ اس کا براہِ راست فائدہ یہ ہوگا کہ عدالتی فیصلے اور تقرریاں مزید غیر جانبدار، متوازن اور تنقید سے بالاتر ہوں گی۔

اسی طرح یہ ترمیم آئینی اداروں کی مضبوطی اور سیاسی استحکام کی ضمانت بھی ہے۔ مشاہدہ ہے کہ پاکستان مختلف سیاسی ادوار میں ادارہ جاتی کمزوریوں کا خمیازہ بھگتتا رہا ہے۔27ویں ترمیم اداروں کے مابین طاقت کے توازن کا ایسا ڈھانچہ قائم کرتی ہے جو نہ صرف عدلیہ کو مستحکم کرتا ہے بلکہ سیاسی نظام کے لیے بھی ایک پائیدار اور پیش بینی کے قابل فریم ورک فراہم کرتا ہے۔

یہ ترمیم انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ تینوں کے مابین آئینی توازن کو مزید موثر بناتی ہے۔ یہ ترمیم حقیقی معنوں میں قانون کی حکمرانی کی جانب عملی پیش قدمی ثابت ہوگی کیونکہ قانون کی حکمرانی کا مطلب ہی یہ ہے کہ فیصلے اصولوں کی بنیاد پر ہوں افراد کی خواہشات پر نہیں۔

دنیا کے متعدد ممالک نے ادارہ جاتی شفافیت اور عدالتی توازن کے لیے اسی نوعیت کی اصلاحات کی تھیں۔ برطانیہ نے 2005 کے Constitutional Reform Act کے ذریعے عدالتی نظام کو شخصی سے ادارہ جاتی ماڈل میں منتقل کیا جس کے بعد عدالتی تقرری کمیشن (JAC) وجود میں آیا۔ بھارت نے بھی سپریم کورٹ کے اندرونی اختیارات کو محدود کرنے، پریکٹس اینڈ پروسیجر کے قواعد کو باقاعدہ بنانے اور Collegium سسٹم کو زیادہ شفاف بنانے کے لیے کئی اصلاحات کیں۔

اسی طرح نیوزی لینڈ،کینیڈا اور آسٹریلیا میں عدالتی نظم و نسق اجتماعی فیصلوں کے اصول پر چلتا ہے جس سے ارتکازِ اختیار کم ہوتا ہے اور ادارہ جاتی فیصلہ سازی مستحکم ہوتی ہے۔

پاکستان کی 27 ویں آئینی ترمیم انھی بین الاقوامی اصلاحاتی رجحانات سے ہم آہنگ ہے اور یوں وطن عزیزکا عدالتی ڈھانچہ عالمی معیارکے قریب تر ہوتا جا رہا ہے۔27 ویں ترمیم اپنی روح اور ساخت کے اعتبار سے ریاستی فیصلوں کو قواعد، ادارہ جاتی اور شفاف بنانے کے سفرکا تسلسل ہے۔

یہ ترمیم ہمیں ایک ایسے عدالتی نظام کی جانب لے جاتی ہے جہاں فیصلے زیادہ پیشہ ورانہ ہوں گے، اختلافات ادارہ جاتی فورمز پر حل ہوں گی اور قانون کی بالادستی مزید مضبوط ہوگی۔

یہ ترمیم مستقبل کے لیے ایک مضبوط آئینی ڈھانچہ بھی فراہم کرتی ہے اور پاکستان جیسے ترقی پذیر جمہوری ملک کے لیے یہ ترمیم مستقبل میں آئینی بحرانوں کی روک تھام کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔

یہ نہ صرف عدلیہ کے اندرونی نظم و ضبط کو بہتر بناتی ہے بلکہ ایک طویل المدت مستحکم عدالتی پالیسی کی بنیاد بھی فراہم کرتی ہے۔27 ویں آئینی ترمیم دراصل اصلاحات، توازن، شفافیت اور ادارہ جاتی استحکام کی ایک جامع کوشش ہے۔

یہ ترمیم نہ صرف عدلیہ کو مضبوط بناتی ہے بلکہ جمہوریت، آئین اور قانون کی حکمرانی کی جڑوں کو بھی گہرا کرتی ہے۔ جہاں تنقید کرنا ہر شہری کا حق ہے، وہیں یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کی جا سکتی کہ ایک مضبوط آئینی ترمیم ہی ایک مضبوط ریاست کی ضامن ہوتی ہے اور 27ویں ترمیم اس سمت ایک مثبت قدم ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ویں ا ئینی ترمیم ادارہ جاتی ویں ترمیم یہ ترمیم قانون کی کرتی ہے ہے اور کے لیے

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن