Express News:
2025-11-29@20:37:13 GMT

ادبی مشاعرے زوال کا شکارکیوں؟

اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT

ادب کے دو رُخ ہوتے ہیں۔ ایک رخ شاعری اور دوسرا رخ نثر نگاری ہے۔ ادب میں دونوں کی حیثیت مسلمہ ہے۔ نثر نگاری اگر سخت اور پتھریلی زمین کو ہموار کرنے کا نام ہے تو شاعری اس زمین پر پھول اگانے کا کام انجام دیتی ہے۔ نثر سے ہمارے علم اور شعور میں اضافہ ہوتا ہے اور شاعری ہمارے جذبات اور احساسات کی ترجمانی کرتی ہے۔

ماضی میں مہذب انسان بننے کے لیے شاعری کا ذوق لازمی تصورکیا جاتا تھا، جو لوگ شاعری سے دلچسپی نہیں رکھتے تھے غیر مہذب شمارکیے جاتے تھے۔

یہی وجہ ہے کہ ماضی میں معاشرے کے تمام طبقات کچھ خصوصی اورکچھ عمومی طور پر شاعری سے لازمی دلچسپی رکھتے تھے اور اس کے لیے مشاعروں کا انعقاد کیا جاتا تھا اور یہ مشاعرے ہماری تہذیبی اور ثقافتی روایات کا حصہ رہے ہیں۔

موجودہ دور میں ہم یہ دیکھتے ہیں کہ گزشتہ چند دہائیوں سے مشاعرے زوال کا شکار ہو رہے ہیں، اس کی کیا وجہ ہے؟

آئیے! اس کا جائزہ لیتے ہیں۔

اس کی سب سے بڑی وجہ زندگی کی بے ہنگم مصروفیات اور الیکٹرانک میڈیا نے عوام الناس کو ادب سے لاتعلق کردیا ہے۔ بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ اور مسائل کے بوجھ کے نتیجے میں عوام الناس کا ادبی مجالس میں شرکت کا رجحان نہ ہونے کے برابر ہے۔

یہی وہ سب ہے جس کی وجہ سے مشاعروں کا انعقاد بہت کم ہو گیا ہے۔ادب جگر کو خون اور پتّے کو پانی کرنے کے عمل کے نتیجے میں وجود میں آتا ہے، موجودہ دور میں ہمارے بیش تر ادیب اور شاعر سہل پسندی کا شکار ہیں جس کے نتیجے میں غیر معیاری اور سطحی ادب تخلیق ہو رہا ہے جو ادب کے فروغ میں بڑی رکاوٹ ہے۔

اشعارکی پذیرائی کی خواہش ہر شاعر کی فطری خواہش ہوتی ہے، یہ خواہش جب اپنی فطری حدود سے باہر نکل جائے تو خوشامد کا روپ دھار لیتی ہے۔

ہمارے بیش تر شعرا داد طلب کی خواہش کو اس حد تک لے جاتے ہیں کہ چاپلوسی کا گمان ہونے لگتا ہے۔ اس طرح کا طرز عمل شعرا کے وقارکو متاثرکرتا ہے۔ یاد رکھیں اچھی شاعری پذیرائی کی محتاج نہیں ہوتی۔

بعض شعرا سامعین کو زیادہ سے زیادہ اشعار سنانا اپنا حق سمجھتے ہیں، اس کے ساتھ شان نزول بتانا بھی ضروری خیال کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں دیگر شعرا کے لیے وقت کی کمی کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے اور مشاعرہ بدانتظامی کا شکار ہو جاتا ہے۔

مشاعرے کا انعقاد سنجیدگی اور تہذیبی رویے کا تقاضا کرتا ہے لیکن بعض شعرا اپنا کلام اپنے وقت سے پہلے یا اپنے وقت کے بعد اشعار پڑھ کر مشاعرہ چھوڑ کر چلے جاتے ہیں جوکہ ادب کے ہی نہیں تہذیبی آداب کے بھی خلاف ہے۔شہرت کی خواہش ایک فطری اور مثبت عمل ہے۔

یہ فطری خواہش اس وقت منفی عمل اختیارکر لیتی ہے جب اس کے حصول کے لیے منفی ہتھکنڈے استعمال کیے جائیں۔ بعض شعرا اپنے ذاتی مفادات کی تکمیل کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت خود کو بڑا بنانے کی کوشش میں سرگرداں نظر آتے ہیں۔ ان شعرا کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ ایڑیاں اونچی کرنے سے کوئی شخص قدآور شمار نہیں کیا جاتا۔

یہ بات درست ہے کہ ترنم کے ساتھ شاعری پڑھنے سے مقبولیت زیادہ ملتی ہے، اس لیے بعض شعرا اشعارکو ترنم کے ساتھ پڑھنے کے خواہش مند ہوتے ہیں لیکن یہ شاعری محتاج ترنم کے ساتھ کی جانی چاہیے لیکن بعض شعرا اس ضمن میں باقاعدہ گلوکاری کرتے نظر آتے ہیں۔ ایسی شاعری دیرپا اثرات مرتب نہیں کرتی، ان شعرا کو محفل شاعری اور محفل موسیقی کے فرق کو مدنظر رکھنا چاہیے۔

بعض شعرا کا حال یہ ہے کہ ان کے پاس چند نظمیں یا غزلیں یا چند اشعار ہی ان کی ساری کائنات ہوتے ہیں، وہ انھیں مشاعروں میں بار بار دہرانے میں ذرا بھی آر محسوس نہیں کرتے۔ ان کا یہ عمل سننے والوں میں بے زاری پیدا کرتا ہے۔

ظاہر ہے اس سے مشاعرے کا انعقاد بے مقصد ہو جاتا ہے۔ مشاعروں میں فرمائشی اشعار سننے کا سلسلہ بھی ہماری ادبی روایات کا حصہ ہے لیکن یہ عمل فطری طور پر انجام دیا جانا چاہیے، اگر یہ عمل باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت انجام دیا جائے تو اسے درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔

شعرا کا یہ عمل مشاعرے کو بوجھل بنا دیتا ہے، لوگ نئے اشعار سننے آتے ہیں وہ اس سے محروم ہو جاتے ہیں۔ماضی میں مشاعرے ادبی اور ثقافتی ماحول کا مظہر ہوتے تھے۔ اب یہ تفریح کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں جیسے ذاتی تعلقات کا فروغ کے ساتھ گپ شپ کا ماحول چائے اور دیگر لوازمات سے لطف اندوز ہونے کو اولین حیثیت حاصل ہے جو ادب کے زوال کی بڑی وجہ ہے۔

یہ وہ عوامل ہیں جن کے باعث ہمارے ادبی مشاعرے زوال کا شکار ہیں۔ ہمیں اس پر غور کرنا چاہیے۔

اب سوال یہ ہے کہ ایسے حالات میں مشاعرے کے انعقاد کے عمل کو کس طرح فروغ دیا جانا چاہیے؟ سب سے پہلے مشاعروں کو ادب شناس، اعلیٰ ادبی ذوق اور تہذیبی شعور کا مظہر ہونا چاہیے۔

یہ تب ہی ممکن ہے اعلیٰ ادب تخلیق کیا جائے، دوسرا یہ کہ ادب کو گروپ بندی سے آزاد کیا جائے۔ جس طرح سیاسی جماعتوں میں گروپ بندی سیاست کے لیے نقصان دہ ہے، اسی طرح ادب میں بھی گروپ بندی ادب کے لیے نقصان دہ ہے، لہٰذا ادب کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ گروپ بندی کا خاتمہ کیا جائے۔

نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ ان میں لکھنے کی خواہش پروان چڑھ سکے اور اس کی بدولت ادب کو فروغ حاصل ہو سکتا ہے۔ ایک شاعرکا قول ہے کہ میں جمادات اور نباتات کے سامنے شاعری نہیں کر سکتا۔

اس قول کی روشنی میں ادبی پروگراموں میں سامعین اور مجمع کے فرق کو مدنظر رکھ کر باذوق افراد کو ہی مدعوکیا جانا چاہیے۔ یہ وہ تجاویز ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر ادب کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔

ادب سے زندگی کا شعور حاصل ہوتا ہے، یہ شعور ہماری تہذیبی اور ثقافتی تربیت کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ اس بنیاد پر ادب کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ بقول ایک ادیب و شاعر ادب سے لاتعلقی دماغ کو تاریک اور دل کو زنگ آلود کر دیتی ہے۔

موجودہ دور میں ضرورت اس امرکی ہے کہ ادب کے مطالعے کے ساتھ ادبی نشستوں اور مشاعروں کے انعقاد کو زیادہ سے زیادہ فروغ دیا جائے تاکہ بے حسی اور بے سکونی کا خاتمہ کیا جاسکے۔

.

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے نتیجے میں کا انعقاد گروپ بندی کی خواہش کے ساتھ کا شکار کے لیے ادب کے یہ عمل

پڑھیں:

عورت ایک کہانی

 کس طرح اہل ثروت نے عورت کو عیاشی کا ذریعہ بنایا یہ ایک طویل کہانی ہے، یہاں تک کہ 80 اور 90 سالہ امیر بڈھے کے بھی سولہ سالہ لڑکیوں کے ساتھ نکاح پڑھائے گئے جو کچھ عرصے بعد اس دنیا سے سدھار گیا،اور پیچھے رہ جانے والی نوجوان بیوہ بے بسی کی تصویر بن گئی۔

ہوشیار لوگوں نے اسے کاروبار بنا لیا اور غریب پسے ہوئے بے بس لوگوں نے اپنی بیٹیاں امیر بڈھوں سے بیاہ کر اس کے اچھے خاصے دام کھڑے کیے۔ دولت مندوں نے اپنی سہولت کے لیے بہت سے راستے نکال رکھے ہیں، مذہبی احکامات کی بھی اپنی مرضی کے مطابق تشریح کی جاتی ہے اور ہر جگہ اپنی سہولت ڈھونڈی جاتی ہے۔

یہ تو ہر کوئی جانتا ہے کہ یتیم خاندانوں کے سرپرست ان کے قریبی رشتہ دار ہوتے ہیں، زیادہ تر مرحومین کا بھائی،چچا یا ماموں، تو یتیم لڑکیاںپھر ان کی اولادیں ہوئیں ۔ مگر یہ رشتے دار بھی یتیموں کا مال ہڑپ کرنے کی کوششیں شروع کر دیتے ہیں۔امیر بڈھے غریب رشتے دار لڑکی کو سہارا دینے کی آڑ میں اس سے بیاہ رچا لیتے ہیں۔اگر سہارا ہی دینا ہے تو پھر معذور،عمر رسیدہ اور بیوہ سے شادی کیوں نہیں کی جاتی،کیا ان عورتوں کو سہارے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

نہایت آرام سے اور ذرا بھی دکھ یا ندامت محسوس کیے بغیر یتامیٰ کے ساتھ (لڑکیاں) لکھا جاتا ہے کیوں اور کس بنیاد اور کس قرینے سے؟دراصل یہ اس طویل دور کا شاخسانہ ہے جب حکمرانوں نے اپنے اعمال اور عیاشیوں کے لیے اپنی مرضی سے ’’تاویلات‘‘ اور جوازات نکالے اور پھر یہ سلسلہ اوپر سے نیچے تک پھیل گیا۔پرانے زمانے میں جب کوئی بادشاہ فتوحات کرتا اور بے پناہ مال غنیمت مل جاتا تو اس سے امیروں کا ایک طبقہ پیدا ہو جاتا۔ظاہر ہے کہ آسانی سے ملنے والی دولت کا نتیجہ عیاشیوں اور فحاشیوں کی صورت میں نکلتا ہے۔

چنانچہ اوپر سے نیچے تک کی عیاشیوں فحاشیوں کے لیے جواز اور تاویل پیدا کرنے والے یا ’’کور‘‘ فراہم کرنے والے بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے اور نہانے لگے اور اشرافیہ کو زیادہ سے زیادہ شادیوں کی اجازت خوب کام آئی، اسے معاملے کو اپنے سیاق و سباق سے جدا کرکے استعمال کیا گیا۔ اسلام نے چار شادیوں کی اجازت صرف یتمیوں اور بیواؤں کے تحفظ اور بہبود کے لیے دی ہوئی ہے، بے تحاشا شادیوں کے لیے نہیں بلکہ ایک طرح سے ایک اچھا مسلمان معاشرہ بنانے کے لیے۔

یہ تو ہم سب مانتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں عورت کماؤ نہیں ہوتی مرد ہوتا ہے اور اگر عورت بچوں کے ساتھ بیوہ ہوجائے تو اسے سہارے کی ضرورت ہوتی ہے اور اگر عزیز انھیں سہارا اور تحفظ نہ دیں تو کون دے گا۔اسے بھی لوگ لوٹ لیں گے اور اس کے مال اور جائیداد کو بھی۔اس لیے عورت پر خدا کا احسان ہے کہ اسے دوبارہ شادی کی اجازت مل جاتی ہے۔ یہ ہوس کار مرد ہر دور میں اس معصوم عورت کا شکاری رہا ہے۔

وہ ایک دانا کا قول ہے کہ دنیا میں ایسے بے شمار مرد ہوسکتے ہیں جن کی بیویاں نہ ہوں یا جس کی بہنیں نہ ہوں اور یا بیٹیاں نہ ہوں لیکن ایسا کوئی انسان نہیں جس کی ماں نہ ہو ۔ بعض ممالک میں امیر طبقہ چار پانچ شادیوں پر بھی قانع نہیں ہوتا ،امیر لوگ چار عورتوں کو تو ہمیشہ اسٹاک میں رکھتے ہیں خاص طور پر ایسے ممالک میں جہاں دولت بے پناہ ہے ایک کو طلاق دے کر ،اسے ایک گھر اور نان نفقہ دے کر الگ کر دیا جاتا ہے پھر نئی شادی رچا لی جاتی ہے۔

مشہور کردار اسامہ بن لادن کا باپ’’لادن‘‘ شاہی خاندان کا منظور نظر ٹھیکیدار اور بے پناہ دولت مند تھا وہ اپنی (تئیسویں) بیوی سے نکاح کرنے اپنے ذاتی طیارے میں جارہاتھا کہ جہاز کریش ہوگیا اور وہ(تئیسویں) بیچاری اس کی شفقت سے محروم رہ گئی۔
 

متعلقہ مضامین

  • جنگ کی صلیب پر رکھا ہوا یوکرین
  • عبدالقادر حسن کی یاد میں
  • ہمیں جینے نہیں دیا گیا تو ہم بھی جینے نہیں دیں گے، اسد قیصر
  • جمہوری افغانستان بہتر ہو گا!
  • غزہ اور عالمی طبی برادری کی بے حسی
  • عورت ایک کہانی
  • میاں جی اور موبائل فون
  • ظلم نہیں عدل و انصاف کی جہاں گیری
  • چار بیویوں کی اجازت ؟