Express News:
2026-07-24@10:10:22 GMT

ادبی مشاعرے زوال کا شکارکیوں؟

اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT

ادب کے دو رُخ ہوتے ہیں۔ ایک رخ شاعری اور دوسرا رخ نثر نگاری ہے۔ ادب میں دونوں کی حیثیت مسلمہ ہے۔ نثر نگاری اگر سخت اور پتھریلی زمین کو ہموار کرنے کا نام ہے تو شاعری اس زمین پر پھول اگانے کا کام انجام دیتی ہے۔ نثر سے ہمارے علم اور شعور میں اضافہ ہوتا ہے اور شاعری ہمارے جذبات اور احساسات کی ترجمانی کرتی ہے۔

ماضی میں مہذب انسان بننے کے لیے شاعری کا ذوق لازمی تصورکیا جاتا تھا، جو لوگ شاعری سے دلچسپی نہیں رکھتے تھے غیر مہذب شمارکیے جاتے تھے۔

یہی وجہ ہے کہ ماضی میں معاشرے کے تمام طبقات کچھ خصوصی اورکچھ عمومی طور پر شاعری سے لازمی دلچسپی رکھتے تھے اور اس کے لیے مشاعروں کا انعقاد کیا جاتا تھا اور یہ مشاعرے ہماری تہذیبی اور ثقافتی روایات کا حصہ رہے ہیں۔

موجودہ دور میں ہم یہ دیکھتے ہیں کہ گزشتہ چند دہائیوں سے مشاعرے زوال کا شکار ہو رہے ہیں، اس کی کیا وجہ ہے؟

آئیے! اس کا جائزہ لیتے ہیں۔

اس کی سب سے بڑی وجہ زندگی کی بے ہنگم مصروفیات اور الیکٹرانک میڈیا نے عوام الناس کو ادب سے لاتعلق کردیا ہے۔ بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ اور مسائل کے بوجھ کے نتیجے میں عوام الناس کا ادبی مجالس میں شرکت کا رجحان نہ ہونے کے برابر ہے۔

یہی وہ سب ہے جس کی وجہ سے مشاعروں کا انعقاد بہت کم ہو گیا ہے۔ادب جگر کو خون اور پتّے کو پانی کرنے کے عمل کے نتیجے میں وجود میں آتا ہے، موجودہ دور میں ہمارے بیش تر ادیب اور شاعر سہل پسندی کا شکار ہیں جس کے نتیجے میں غیر معیاری اور سطحی ادب تخلیق ہو رہا ہے جو ادب کے فروغ میں بڑی رکاوٹ ہے۔

اشعارکی پذیرائی کی خواہش ہر شاعر کی فطری خواہش ہوتی ہے، یہ خواہش جب اپنی فطری حدود سے باہر نکل جائے تو خوشامد کا روپ دھار لیتی ہے۔

ہمارے بیش تر شعرا داد طلب کی خواہش کو اس حد تک لے جاتے ہیں کہ چاپلوسی کا گمان ہونے لگتا ہے۔ اس طرح کا طرز عمل شعرا کے وقارکو متاثرکرتا ہے۔ یاد رکھیں اچھی شاعری پذیرائی کی محتاج نہیں ہوتی۔

بعض شعرا سامعین کو زیادہ سے زیادہ اشعار سنانا اپنا حق سمجھتے ہیں، اس کے ساتھ شان نزول بتانا بھی ضروری خیال کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں دیگر شعرا کے لیے وقت کی کمی کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے اور مشاعرہ بدانتظامی کا شکار ہو جاتا ہے۔

مشاعرے کا انعقاد سنجیدگی اور تہذیبی رویے کا تقاضا کرتا ہے لیکن بعض شعرا اپنا کلام اپنے وقت سے پہلے یا اپنے وقت کے بعد اشعار پڑھ کر مشاعرہ چھوڑ کر چلے جاتے ہیں جوکہ ادب کے ہی نہیں تہذیبی آداب کے بھی خلاف ہے۔شہرت کی خواہش ایک فطری اور مثبت عمل ہے۔

یہ فطری خواہش اس وقت منفی عمل اختیارکر لیتی ہے جب اس کے حصول کے لیے منفی ہتھکنڈے استعمال کیے جائیں۔ بعض شعرا اپنے ذاتی مفادات کی تکمیل کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت خود کو بڑا بنانے کی کوشش میں سرگرداں نظر آتے ہیں۔ ان شعرا کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ ایڑیاں اونچی کرنے سے کوئی شخص قدآور شمار نہیں کیا جاتا۔

یہ بات درست ہے کہ ترنم کے ساتھ شاعری پڑھنے سے مقبولیت زیادہ ملتی ہے، اس لیے بعض شعرا اشعارکو ترنم کے ساتھ پڑھنے کے خواہش مند ہوتے ہیں لیکن یہ شاعری محتاج ترنم کے ساتھ کی جانی چاہیے لیکن بعض شعرا اس ضمن میں باقاعدہ گلوکاری کرتے نظر آتے ہیں۔ ایسی شاعری دیرپا اثرات مرتب نہیں کرتی، ان شعرا کو محفل شاعری اور محفل موسیقی کے فرق کو مدنظر رکھنا چاہیے۔

بعض شعرا کا حال یہ ہے کہ ان کے پاس چند نظمیں یا غزلیں یا چند اشعار ہی ان کی ساری کائنات ہوتے ہیں، وہ انھیں مشاعروں میں بار بار دہرانے میں ذرا بھی آر محسوس نہیں کرتے۔ ان کا یہ عمل سننے والوں میں بے زاری پیدا کرتا ہے۔

ظاہر ہے اس سے مشاعرے کا انعقاد بے مقصد ہو جاتا ہے۔ مشاعروں میں فرمائشی اشعار سننے کا سلسلہ بھی ہماری ادبی روایات کا حصہ ہے لیکن یہ عمل فطری طور پر انجام دیا جانا چاہیے، اگر یہ عمل باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت انجام دیا جائے تو اسے درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔

شعرا کا یہ عمل مشاعرے کو بوجھل بنا دیتا ہے، لوگ نئے اشعار سننے آتے ہیں وہ اس سے محروم ہو جاتے ہیں۔ماضی میں مشاعرے ادبی اور ثقافتی ماحول کا مظہر ہوتے تھے۔ اب یہ تفریح کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں جیسے ذاتی تعلقات کا فروغ کے ساتھ گپ شپ کا ماحول چائے اور دیگر لوازمات سے لطف اندوز ہونے کو اولین حیثیت حاصل ہے جو ادب کے زوال کی بڑی وجہ ہے۔

یہ وہ عوامل ہیں جن کے باعث ہمارے ادبی مشاعرے زوال کا شکار ہیں۔ ہمیں اس پر غور کرنا چاہیے۔

اب سوال یہ ہے کہ ایسے حالات میں مشاعرے کے انعقاد کے عمل کو کس طرح فروغ دیا جانا چاہیے؟ سب سے پہلے مشاعروں کو ادب شناس، اعلیٰ ادبی ذوق اور تہذیبی شعور کا مظہر ہونا چاہیے۔

یہ تب ہی ممکن ہے اعلیٰ ادب تخلیق کیا جائے، دوسرا یہ کہ ادب کو گروپ بندی سے آزاد کیا جائے۔ جس طرح سیاسی جماعتوں میں گروپ بندی سیاست کے لیے نقصان دہ ہے، اسی طرح ادب میں بھی گروپ بندی ادب کے لیے نقصان دہ ہے، لہٰذا ادب کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ گروپ بندی کا خاتمہ کیا جائے۔

نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ ان میں لکھنے کی خواہش پروان چڑھ سکے اور اس کی بدولت ادب کو فروغ حاصل ہو سکتا ہے۔ ایک شاعرکا قول ہے کہ میں جمادات اور نباتات کے سامنے شاعری نہیں کر سکتا۔

اس قول کی روشنی میں ادبی پروگراموں میں سامعین اور مجمع کے فرق کو مدنظر رکھ کر باذوق افراد کو ہی مدعوکیا جانا چاہیے۔ یہ وہ تجاویز ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر ادب کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔

ادب سے زندگی کا شعور حاصل ہوتا ہے، یہ شعور ہماری تہذیبی اور ثقافتی تربیت کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ اس بنیاد پر ادب کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ بقول ایک ادیب و شاعر ادب سے لاتعلقی دماغ کو تاریک اور دل کو زنگ آلود کر دیتی ہے۔

موجودہ دور میں ضرورت اس امرکی ہے کہ ادب کے مطالعے کے ساتھ ادبی نشستوں اور مشاعروں کے انعقاد کو زیادہ سے زیادہ فروغ دیا جائے تاکہ بے حسی اور بے سکونی کا خاتمہ کیا جاسکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے نتیجے میں کا انعقاد گروپ بندی کی خواہش کے ساتھ کا شکار کے لیے ادب کے یہ عمل

پڑھیں:

ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر

کراچی کی ایمپریس مارکیٹ کی سبزی منڈی میں صبح سے ہی خریداروں کا رش تھا، مگر ایک چیز ہر چہرے پر مشترک نظر آئی۔۔۔ مایوسی۔

ایک خاتون دکاندار سے ٹماٹر کا ریٹ پوچھتی ہیں۔ جواب ملتا ہے: 500 روپے کلو۔ وہ چند لمحے خاموش رہتی ہیں، پھر بغیر ٹماٹر لیے آگے بڑھ جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ٹماٹروں کی فی کلو قیمت 600 روپے سے بھی تجاوز کر گئی، سبب کیا ہے؟

یہ منظر اب کراچی کے کئی بازاروں میں معمول بنتا جا رہا ہے۔

چند ہفتے پہلے امید بندھی تھی کہ ایران سے ٹماٹروں کی آمد شروع ہوگی تو شاید قیمتیں نیچے آ جائیں گی، مگر یہ امید بھی مہنگائی کی نذر ہو گئی۔

آج بھی شہر کے مختلف علاقوں میں ایرانی اور کوئٹہ سے آنے والے ٹماٹر 450 سے 500 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں، جبکہ کم معیار کے ٹماٹر بھی 400 روپے سے کم دستیاب نہیں۔

’اب سالن کے لیے ٹماٹر نہیں، دہی اور املی ڈال رہے ہیں‘

کراچی کی تاریخی ایمپریس مارکیٹ میں شہریوں نے بتایا کہ بہت سے گھروں کے لیے ٹماٹر اب روزمرہ کی سبزی نہیں بلکہ ایک سوچ سمجھ کر خریدی جانے والا کچن آئٹم بن چکا ہے۔

ایک شہری نے قدرے مایوس لہجے میں استفسار کیا کہ 500 روپے کلو ٹماٹر غریب آدمی کیسے خریدے۔ ’بیشترلوگ اب سالن میں ٹماٹر کے بجائے دہی یا املی استعمال کر رہے ہیں کیونکہ گھر کا خرچ پورا کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

ایک اور بزرگ نے سوالیہ انداز میں کہا کہ مزدور کی دیہاڑی 8 یا 9 سو روپے ہو تو وہ ایک کلو ٹماٹر خریدے یا بچوں کے لیے آٹا، سبزی اور دودھ لے۔

بازار میں موجود کئی خریداروں نے یہی شکایت دہرائی کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ ایران سے ٹماٹر آرہے ہیں، لیکن قیمت میں وہ کمی نہیں آئی جس کی امید تھی۔

قیمتیں آخر کم کیوں نہیں ہو رہیں؟

سبزی فروشوں اور تاجروں کے مطابق مسئلہ صرف درآمدات کا نہیں، بلکہ سپلائی چین کا بھی ہے۔

سبزی فروشوں کے مطابق ایران سے روزانہ تقریباً 10 کنٹینرز ٹماٹر کراچی پہنچ رہے ہیں لیکن یہ مقدار شہر کی طلب کے مقابلے میں ناکافی سمجھی جا رہی ہے۔

اس کے علاوہ تقریباً 30 فیصد مال خراب ہو جاتا ہے، جس سے مارکیٹ میں دستیاب مقدار مزید کم ہو جاتی ہے۔

دوسری جانب کوئٹہ سے سپلائی محدود ہے، سندھ کی نئی فصل ابھی مکمل طور پر مارکیٹ میں نہیں آئی، جبکہ حالیہ بارشوں اور نقل و حمل کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے بھی قیمتوں کو اوپر رکھا ہوا ہے۔

50 روپے مالیت کے 2 ٹماٹر

چند ماہ پہلے یہی ٹماٹر 80 سے 100 روپے فی کلو میں دستیاب تھے، بعد ازاں قیمت 120، پھر 300، اور اب 500 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے۔

بازار میں اب صورتِ حال یہ ہے کہ 50 سے 60 روپے میں صرف 2 یا 3 چھوٹے ٹماٹر دستیاب ہیں۔

یہ اضافہ صرف ایک سبزی کی قیمت میں نہیں، بلکہ عام آدمی کی قوتِ خرید میں مسلسل کمی کی عکاسی بھی کرتا ہے۔

عوام کو وجوہات نہیں، ریلیف چاہیے

ایمپریس مارکیٹ میں آئے شہریوں کا مؤقف تقریباً یکساں تھا، ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران سے درآمدات ہو رہی ہیں تو اس کا فائدہ بھی صارف تک پہنچنا چاہیے۔

عوام سپلائی، بارشوں یا خراب مال کی وجوہات ضرور سمجھتے ہیں، لیکن ان کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ گھر کا بجٹ کیسے چلے؟

مزید پڑھیں: قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، ’مرغی میں ٹماٹر ڈالیں یا ٹماٹر میں مرغی‘

ایک شہری نے جاتے جاتے صرف اتنا کہا کہ ٹماٹر پر ہی موقف نہیں، اب تو سبزی، دال اور گوشت، سب کچھ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔

شاید یہی ایک تبصرہ رائے عامہ کا اہم خلاصہ بھی تھا کیونکہ جب روزمرہ کھانے کا بنیادی جزو بھی ایک خاندان کے کچن بجٹ پر بوجھ بننا شروع ہوجائے تو مسئلہ ہر اس خاندان کا بن جاتا ہے جو مہنگائی کے ساتھ روز ایک نئی جنگ لڑ رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آٹا ایران ایمپریس مارکیٹ بارش ٹماٹر دسترخوان دودھ ریلیف سبزی سندھ طلب قوت خرید کچن بجٹ کراچی کنٹینرز مہنگائی نقل وحمل

متعلقہ مضامین

  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف