نیشنل موبلائزیشن فرنٹ نے افغانستان اور تاجکستان کی سرحد کے قریب چینی شہریوں کے خلاف ایک بڑے دہشت گرد منصوبے کے حوالے سے سنگین و مصدقہ انٹیلی جنس معلومات کا انکشاف کیا ہے۔

این ایم ایف کے مطابق یہ منصوبہ تحریک طالبان پاکستان اور ترکستان اسلامک پارٹی نے طالبان کی انٹیلیجنس ڈائریکٹوریٹ 561 کی سرپرستی میں تیار کیا، جبکہ اس کارروائی میں بھارت کی طرف سے فراہم کردہ جدید ڈرونز اور عسکری سازوسامان استعمال کیا گیا۔

BREAKING ???? ????

Three #Chinese workers in Tajikistan were killed in an attack launched from #Afghanistan near the border.

????????

Tajikistan has strained relations with the Taliban in Afghanistan, and several border clashes have broken out in recent months. pic.twitter.com/OqAC8MB1Sr

— Eagle Eye (@zarrar_11PK) November 27, 2025

فرنٹ کی رپورٹ کے مطابق چینی ورکرز پر یہ منظم حملہ 26 اور 27 نومبر 2025 کو شاہین ایس ایم کمپنی کے کیمپ میں کیا گیا، جس میں پہلے ڈرون حملہ کیا گیا اور بعد ازاں زمینی مسلح کارروائی کے ذریعے فائرنگ کی گئی۔

اس 2 مرحلہ حملے میں 3 چینی شہری ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔

حملے میں اے کے رائفلز، ہیوی مشین گنز اور ایم 4  رائفلز سمیت بھاری اسلحہ استعمال کیا گیا، جو دہشت گردوں کی اعلیٰ سطحی منصوبہ بندی اور تربیت کی عکاسی کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان سے تاجکستان پر ڈرون حملہ اور فائرنگ، 3 چینی باشندے ہلاک

این ایم ایف کے مطابق کارروائی کے ماسٹر مائنڈز کی نشاندہی بھی کی گئی ہے، جن میں طالبان ڈائریکٹوریٹ 561 کے کمانڈر عبیدہ، ترکستان اسلامک پارٹی کے مولوی مخلص اور ٹی ٹی پی کے عناصر شامل ہیں، جو ایک منظم اور مربوط کمانڈ چین کی موجودگی کو ظاہر کرتا ہے۔

مزید برآں، انٹیلی جنس رپورٹس سے معلوم ہوا ہے کہ سال 2025 کے دوران بھارتی خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے کئی مرتبہ افغانستان کا دورہ کیا۔ ان دوروں کے دوران طالبان، ٹی ٹی پی، ٹی آئی پی، بلوچستان لبریشن آرمی اور القاعدہ سے وابستہ گروہوں کے ساتھ کوآرڈینیشن ملاقاتیں کی گئیں۔

مزید پڑھیں: افغانستان سے حملے کے بعد چینی باشندوں کو تاجکستانی سرحدی علاقہ چھوڑنے کی ہدایت

دہشت گرد گروہوں نے جدید ٹیکنالوجی، اسلحہ، فنڈنگ اور آپریشنل تعاون کی درخواست کی، جس کے بدلے بیرونی خفیہ ایجنسیوں کے مقاصد کے مطابق حملے کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

این ایم ایف کے مطابق بھارت کی جانب سے فراہم کردہ ڈرونزاورنگرانی کے آلات طالبان سے ہوتے ہوئے ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے نیٹ ورکس تک پہنچے، خصوصاً پاکستان–ایران سرحد کے قریب سرگرم گروہوں کو یہ ٹیکنالوجی منتقل کی گئی۔

فرنٹ نے چینی حکام کو خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں چینی شہریوں اور اُن کے سرمایہ کارانہ منصوبوں کو شدید خطرات لاحق ہیں، لہٰذا فوری حفاظتی اقدامات کیے جائیں تاکہ مزید حملوں کو روکا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاکستان طالبان نیسنل موبلائزیشن فرنٹ نیشنل موبلائزیشن فرنٹ

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاکستان طالبان نیسنل موبلائزیشن فرنٹ نیشنل موبلائزیشن فرنٹ کے مطابق کیا گیا

پڑھیں:

کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان

کراچی میں اضافی پانی کا منصوبہ کے فور کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے  جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی۔

ایکسپریس نیوز کو واٹر کارپوریشن حکام کے سینئر افسران نے اس کی تصدیق کی کہ منصوبے میں مزید ڈھائی سال لگ سکتے ہے، اگر کام اسی طرح ہوتا رہے تو اس منصوبے میں وفاق، سندھ حکومت ، بین الاقومی مالیتی اداروں کی فنڈنگ بھی کی گئی۔

حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہوچکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1ارب 20 کروڑ گیلن ہے جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کر نے کے لئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔

2014 میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بناناتھا جس کی لاگت 25 ارب روپے بتا ئی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا تاہم پھر اس کو واپڈ کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہوسکا۔

 کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا تاہم  اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026 کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ ایکپسریس نیوز نے مختلف ذرائع سے جو تفصیلا ت حاصل کیں ان کے مطابق کے فور منصوبہ 2026 میں بھی مکمل نہیں ہوسکے گا اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029 کی جنوری تک  ہے۔

ایک ذرائع نے بتایا کہ اگر کام اسی رفتار سے کام چلتا رہا تو  نومبر 2025 کو آگمیٹیشن کام نیپا چورنگی سے شروع ہوا جو حسن اسکوائر تک  محیط  ہے، اس کی لمبائی 2 اعشاریہ 7 کلو میٹر طویل ہے اب تک مکمل نہیں ہوسکا کیونکہ یہ تو صرف ابتداء ہے اصل کام  تو آر ون، آر ٹو، آر تھری کا کام جو اب تک شروع ہی نہیں ہوا۔

سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کا ٹھیکہ ہی نہیں ہوسکا کہ کام کون کریں گا آر ون ،آر ٹو ، آر تھری ہے کیا یہ ریروائر کی لائنیں ہے آر ون 26 کلومیٹر طویل ہے ، آر ٹو40کلومیٹر طویل ہے جبکہ آرتھری 28 کلومیٹر طویل بتائی جا تی ہے۔

یہ لائنیں شہر کے وسط سے ہوتی ہوئی گزریں گی ان لائنوں کا مختلف نمبرز دئیے گئے ہے یہ لائنیں ڈلنے کے بعد ہی کراچی کو اضافی پانی مل سکے گا جب لائنوں کا مکمل شروع ہوگا تو شہر کی اہم شاہراہوں کو کھودنا پڑے گا، جس میں 72 انچ اور 96 انچ کی لائنیں ڈالی جا ئیں گی۔

صرف ایک روڈ آر ٹو کی تفصیلات فراہم کرر ہے ہیں یہ ریزر وائر ٹو نادرن بائی سے واپڈ کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی کے سپرد کریں گی جو کھدائی کرتی ہوئی۔

نادرن بائی پاس، ٹول پلازہ سے سپرہائی وے ، پھر جنجال گوٹھ  سے ہوتی ہوئی سہراب گوٹھ ، وہاں سے ابوالحسن اصفہانی روڈ ، ڈسکو بیکری سے ہوتی ہے گلشن چورنگی ، رب میڈیکل سے ہوتی ہوئی ہے سرسید یونی ورسٹی سےنیپا چورنگی پر آگمینٹیشن سے منسلک کیا جا ئے گا۔

پھر یہ حسن اسکوائر سے ہوتا ہوا غریب آباد ، لیا قت آباد ، ناظم آباد، حبیب بنک چورنگی ، سے ہوتی ہوئی گلبائی تک جا ئیں گی، یہ راستہ ہے (آر ٹو) ریزر وائر ٹو کے فور کے لئے ڈالی جانی والی لائن  اس کے لئے جب لائن ڈالنے کا کام ہو گا تو کھدائی ہوگی جس میں 72 انچ اور کسی مقام پر 96 انچ کی لائن ڈالی جا ئیں گی۔

اندازہ لگانا مشکل نہیں یہ 94 کلو میٹر کی لائنیں ڈالنے کے لئے 80 ارب روپے لگے اس کے لئے 2 بین الاقومی مالیتی ادارے  80 فیصد  قرضے کی صورت میں فنڈ فراہم کر یں گے جبکہ 20 فیصد فنڈ سندھ حکومت فراہم کر یگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ 80 ارب روپے صرف آرون، آرٹو، آر تھری کی لائنیں ڈالنے میں خرچ ہوں گے جبکہ 124 ارب ٹرانسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشنز، فلٹر پلانٹٹس اور دیگر کاموں میں خرچ ہوں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جا نے ہے جن میں ٹراسمیشن لائن ، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنا نے کے کام کی ذمہ داری ہے جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن ، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے آگمیٹیشن کانیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025 سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا بلکل بین الاقومی مالیتی ادارے نے اس کو غیر معیا ری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جا ئیں گی اس وقت شہریوں کو آمد ورفت میں مزید مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی