عارف بلڈر کی الرحیم سٹی اسکیم سنگین فراڈ میں تبدیل
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
عارف بلڈر کی دریا کے پیٹ میں اسکیم نے شہریوں کی جمع پونجی کو ڈبو دیا
متعلقہ اداروں کی مبینہ ملی بھگت ، بھاری رقوم لے کر آنکھیں بند کر لی گئیں
(رپورٹ: اظہر رضوی) الرحیم سٹی ہاؤسنگ اسکیم میں پلاٹ خریدنے والے سیکڑوں شہری 10 سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود شدید اذیت میں مبتلا ہیں۔ عارف بلڈر کی جانب سے دریا کے پیٹ میں تعمیر کی گئی اس ہاؤسنگ اسکیم نے شہریوں کے خوابوں کو ملبے میں بدل دیا ہے۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی کی جمع پونجی اور بچوں کے مستقبل کے پیسے لگا کر پلاٹ خریدے، مگر آج تک نہ قبضہ ملا، نہ ترقیاتی کام ہوئے۔شہریوں کے مطابق دریا کے پیٹ میں پلاٹ لینا زندہ ڈوبنے کے مترادف ثابت ہوا۔ ماہرین بھی واضح کرچکے ہیں کہ دریا کے پیٹ میں تعمیرات شدید خطرناک اور غیر قانونی ہیں، لیکن اس کے باوجود عارف بلڈر نے صرف اپنا پیٹ بھرنے کے لیے اس اسکیم کو فروخت کیا۔متاثرین نے الزام لگایا ہے کہ ریونیو، ایچ ڈی اے، ایس بی سی اے، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ محکمے مبینہ طور پر اپنے حصہ کی رقم لے کر خاموش تماشائی بنے رہے۔ ان اداروں نے نہ صرف شہریوں کی چیخیں نظر انداز کیں بلکہ ایک دہائی سے جاری فراڈ کے باوجود کسی قسم کی کارروائی نہیں کی۔ شہریوں نے کھل کر کہا ہے کہ ادارے اب بھی دریا کے پیٹ میں شہریوں کو ڈوبتا دیکھنے کا نظارہ کر رہے ہیں۔ بارہا شکایات، درخواستوں اور احتجاج کے باوجود نہ اسکیم بند کی گئی، نہ ہی بلڈر کے خلاف مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔ متاثرین نے وزیر اعلیٰ سندھ، سیکریٹری لوکل گورنمنٹ، کمشنر حیدرآباد اور اینٹی کرپشن حکام سے پْرزور مطالبہ کیا ہے کہ الرحیم سٹی ہاؤسنگ اسکیم کا فوری آڈٹ کیا جائے ۔عارف بلڈر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ متعلقہ اداروں میں ملوث افسران کو احتساب کے کٹہرے میں لایا جائے۔ شہریوں کو قبضہ یا مکمل ریفنڈ فراہم کیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: دریا کے پیٹ میں عارف بلڈر کے باوجود
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔