حکومت کا استعمال شدہ گاڑیوں کی در آمد اسکیم میں تبدیلی پر غور
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
حکومت نے استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد سے متعلق اسکیم میں تبدیلی پر غور شروع کر دیا ہے جس کے تحت پرسنل بیگیج اسکیم ختم کر کے گفٹ اور ٹرانسفر آف ریزیڈنس سخت بنانے کی تجویز ہے۔حکومت استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کے لیے ایک اسکیم ختم کرنے پر غور کر رہی ہے، جبکہ باقی دو اسکیموں کو سخت بنانے کی تیاری ہے۔ وزارتِ تجارت نے اس سلسلے میں ایک سمری تیار کر کے کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) کو بھجوائی ہے، جس میں تجویز کی گئی ہے کہ پرسنل بیگیج اسکیم کو ختم کیا جائے۔ دوسری دو اسکیمیں، یعنی ٹرانسفر آف ریزیڈنس اسکیم اور گفٹ اسکیم کو سخت کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس کے تحت متعلقہ وزارت نے ان اسکیموں کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے اقدامات کرنے کی سفارش کی ہے۔اعلیٰ حکومتی ذرائع نے گفتگو میں تصدیق کی کہ استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کے لیے گفٹ اور ٹرانسفر آف ریزیڈنس اسکیم کو سخت بنانے کے مختلف تجاویز زیرِ غور ہیں، جبکہ بیگیج اسکیم ختم کی جا سکتی ہے۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی اس حوالے سے حتمی فیصلہ کرے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: استعمال شدہ گاڑیوں کی
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔