عارف بلڈر بسم اللہ ایکسٹینشن کے نام سے دریا کی زمین ہڑپ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
عدالت اور ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ کے احکامات نظرانداز،ممنوعہ علاقے میں تعمیرات
ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر اور مختیارکار کی چشم پوشی،شہریوں کی فوری نوٹس کی اپیل
(رپورٹ: اظہر رضوی)لطیف آباد حیدرآباد میں کچے کی زمینوں پر عارف بلڈر کی غیر قانونی سرگرمیاں ایک بار پھر زوروں پر ہیں، جہاں عدالت اور ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ کے واضح احکامات کے باوجود ممنوعہ علاقے میں تعمیرات تیزی سے جاری ہیں۔ شہریوں کے مطابق دریا کے قریب کچے کی زمین پر ’’بسم اللہ ایکسٹینشن‘‘ کے نام سے نئی تعمیرات شروع کر دی گئی ہیں، گویا قانون اور ریاستی رٹ کو کھلا چیلنج دیا جا رہا ہو۔مقامی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ماضی میں سابق ڈی جی ایچ ڈی اے فواد سومرو نے عارف بلڈر کی تمام رہائشی اسکیمیں منسوخ کرکے تفصیلی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی تھی، جبکہ ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ نے بھی کچے کی زمین پر ہر قسم کی کمرشل و رہائشی تعمیرات پر سخت پابندی عائد کر رکھی تھی۔تاہم ان احکامات کے باوجود بلڈر مافیا کی جانب سے تعمیراتی سرگرمیوں کی بحالی نے عوام میں شدید غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ متعدد شکایات کے باوجود مختیارکار لطیف آباد علی شیر بدرانی، اسسٹنٹ کمشنر سعود لنڈ اور ڈپٹی کمشنر کی جانب سے کوئی عملی کارروائی سامنے نہیں آئی، جس سے شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ متعلقہ افسران مبینہ طور پر اپنے حصے کا مال بٹورنے کے بعد خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔شہریوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ نمود و نمائش کی شوقین سوشل مافیا بھی اس سنگین غیر قانونی سرگرمی پر مکمل طور پر خاموش ہے، جس سے شکوک و شبہات مزید گہرے ہو رہے ہیں۔رہائشیوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے سیکریٹری بورڈ آف ریونیو سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ کچے کی زمینوں کی غیر قانونی فروخت، قبضہ، ریکارڈ میں مبینہ ردوبدل اور سرکاری ریکارڈ پر حملے کی مکمل تحقیقات کرکے ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔علاقہ مکینوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری کارروائی نہ کی گئی تو غیر قانونی تعمیرات نہ صرف ماحول، نکاسی آب کے نظام اور دریا کنارے کے قدرتی توازن کو متاثر کریں گی بلکہ مستقبل میں لطیف آباد کے لیے شدید خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔ شہریوں نے عندیہ دیا ہے کہ اگر انتظامیہ نے آنکھیں بند رکھیں تو وہ وسیع پیمانے پر احتجاج اور دھرنوں کا سلسلہ شروع کرنے پر مجبور ہوں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔