بولان میں گھر کو بارودی سرنگ سے اڑا دیا گیا، 3 بچے جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
کوئٹہ:(نیوزڈیسک)بلوچستان کے ضلع بولان کی تحصیل سنی میں ایک گھر میں زور دار دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں 3 بچے جاں بحق اور 3 افراد زخمی ہو گئے، جن کی حالت تشویش ناک ہے۔
قائم مقام ایس پی کچھی جان محمد کھوسہ نے بتایا کہ دھماکا عبدالحئی جتوئی کے گھر میں ہوا جہاں اس وقت گھر کے افراد موجود تھے اور دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ مکان کی چھت گر گئی اور دیواریں منہدم ہو گئیں۔
ایس پی کچھی نے بتایا کہ دھماکے میں جاں بحق ہونے والوں میں 14 سالہ ندیم احمد، 13 سالہ سونا خان اور 13 سے 14 سالہ بی بی بختاور شامل ہیں جبکہ زخمی ہونے والے تین افراد کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں ان کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔
پولیس حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ نامعلوم مسلح افراد نے دو روز قبل رات کے وقت اس گھر میں بارودی مواد بچھایا تھا جو آج دھماکے سے پھٹ گیا، واقعے کی نوعیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک ٹارگٹڈ دھماکا تھا۔
ذرائع نے بتایا کہ دھماکے کی اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی فورسز اور بم ڈسپوزل اسکواڈ موقع پر پہنچ گیا اور فورسز نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا، ملزمان کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔
ایس پی کچھی نے بتایا کہ واقعے کی ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اور تفتیش جاری ہے، حساس ادارے بھی تحقیقات میں شامل ہو گئے ہیں۔
شہریوں نے بتایا کہ گزشتہ چند ماہ سے علاقے میں امن و امان کی صورت حال خراب چلی آ رہی ہے اور اس طرح کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، دوسری جانب تاحال کسی گروپ نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: نے بتایا کہ
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔