عارف علوی بینک اکاؤنٹس منجمد کیس،عدالت این سی سی آئی اے پر برہم
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (صباح نیوز)سابق صدر عارف علوی اور فیملی ممبران کے بینک اکاؤنٹس منجمد کیس کی سماعت کے دوران سندھ ہائیکورٹ نے این سی سی آئی اے پر برہمی کا اظہار کیا۔ سندھ ہائیکورٹ میں عارف علوی اور 12 فیملی ممبران کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کے کیس کی سماعت ہوئی، اس موقع پر سابق صدر کے بیٹے اور بہو پیش ہوئے۔ عدالت نے این سی سی آئی اے کے تفتیشی افسر کو درخواست گزاروں کا بیان ریکارڈ کرنے کا حکم دیتے ہوئے دونوں کے بیان کے بعد ایک ہفتے میں پیشرفت رپورٹ طلب کر لی۔ سندھ ہائیکورٹ نے مذہبی منافرت کے الزامات کے تحت ازخود کارروائی کرنے پر این سی سی آئی اے پر اظہار برہمی کیا۔ عدالت نے استفسار کیا کہ درخواست گزار نے ایسا کیا کیا تھا کہ جس پر تحقیقات شروع کی گئی؟ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار عارف علوی سابق صدر ہیں جنہوں نے قابلِ اعتراض بیان دیا، ویڈیو وائرل ہونے اور عوامی ردعمل کے بعد کارروائی شروع کی گئی۔ جسٹس مبین لاکھو نے استفسار کیا کہ کیا کسی نے تحریری طور پر شکایت درج کروائی؟ تفتیشی افسر نے بتایا کہ کسی نے شکایت نہیں، عوامی ردعمل پر ازخود کارروائی کی۔ عدالت نے کہا کہ کیا بیان اتنا خوفناک تھا کہ لوگوں کی چیخ و پکار این سی سی آئی اے تک پہنچی اور ازخود کا اختیار استعمال کیا، پوری فیملی کے اکاؤنٹ کیوں منجمد کیے گئے، کیا بینک اکاؤنٹس سے منی لانڈرنگ یا فنانشل ٹیررازم ہو رہی تھی؟ ہمیں قانون بتائیں کس قانون کے تحت ان کے بینک اکاؤنٹس بند کیے؟ کیا درخواست گزار کسی قسم کی ٹرانزیکشن نہیں کر سکتے؟ اس پر تفتیشی افسر نے بتایا کہ بینک اکاؤنٹس میں پیسے جمع ہو سکتے ہیں لیکن نکالے نہیں جا سکتے،عدالت نے استفسار کیا کہ سب کے بینک اکاؤنٹس بلاک ہیں تو روزمرہ کے اخراجات کیسے چلاتے ہوں گے؟ این سی سی آئی اے بغیر شکایت کے کسی کے خلاف کیسے انکوائری کر سکتا ہے؟ عدالت میں اتنی بڑی تقریر کر رہے ہیں ہمیں قانون بتائیں جس کے تحت اکاؤنٹس بلاک کیے گئے۔ تفتیشی افسر نے کہا کہ درخواست گزار ملک سے باہر ہیں اور نوٹس کے باوجود بیان ریکارڈ کروانے کیلئے پیش نہیں ہو رہے۔ اس پر درخواست گزار کے وکیل بیرسٹر علی طاہر نے کہا کہ درخواست گزار کا بیٹا اور بہو عدالت میں موجود ہیں جو اپنا بیان ریکارڈ کروانا چاہتے ہیں، ڈاکٹر عارف علوی اور ان کی اہلیہ اس وقت دبئی میں ہیں، قانون ان کو استثنا دیتا ہے لیکن وہ کسی قسم کا استثنانہیں چاہتے۔ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ عارف علوی کے کلینک سے حاصل آمدنی اکاؤنٹس میں آتی ہے جو استعمال نہیں کر سکتے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سی سی ا ئی اے کہ درخواست گزار کے بینک اکاؤنٹس تفتیشی افسر نے عارف علوی نے کہا کہ عدالت نے
پڑھیں:
سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
---فائل فوٹواسلام آباد ہائی کورٹ نے سارا انعام قتل کیس میں سزا یافتہ مجرم شاہنواز امیر کی سزا کے خلاف اپیل اور دیگر متعلقہ اپیلوں کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
کیس کی سماعت جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس محمد آصف نے کی، مجرم کی والدہ ثمینہ شاہ کی بریت کے خلاف درخواست بھی زیرِ سماعت آئی۔
سماعت کے دوران شاہنواز امیر کی جانب سے وکیل چوہدری عبدالعزیز جبکہ مقتولہ سارا انعام کے والد کی جانب سے رضوان عباسی عدالت میں پیش ہوئے۔
جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس نے کیس کی سماعت کی۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے استفسار کیا کہ کیا فریقین دلائل کے لیے تیار ہیں جس پر دونوں جانب کے وکلا نے آمادگی ظاہر کی، بعد ازاں وکیل چوہدری عبدالعزیز نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے سب سے پہلے ایف آئی آر کا متن پڑھا۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس مقدمے میں ایاز امیر ابتدا ہی میں کیس سے ڈسچارج ہو گئے تھے اور اس حکم کو کسی فورم پر چیلنج نہیں کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ثمینہ شاہ کو بھی ٹرائل کورٹ نے عدم شواہد کی بنیاد پر بری کیا تھا تاہم اس وقت ان کے وکیل عدالت میں موجود نہیں تھے۔
عدالت نے آئندہ تاریخ کے حوالے سے فریقین سے رائے طلب کی جس پر رضوان عباسی نے سماعت آئندہ ہفتے یا موسم گرما کی تعطیلات کے بعد مقرر کرنے کی استدعا کی۔
اسلام آباداسلام آباد کی مقامی عدالت نے سارہ...
بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ ستمبر 2022ء میں سارا انعام کو ان کے شوہر شاہنواز امیر نے قتل کر دیا تھا جبکہ ٹرائل کورٹ شاہنواز امیر کو سزائے موت سنا چکی ہے۔