کانگریس کی جنرل سکریٹری نے کہا کہ ہم آلودگی، ایس آئی آر اور کئی دیگر اہم موضوعات پر ایوان میں بحث کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن مودی حکومت کسی بھی موضوع پر بحث کیلئے راضی نہیں ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کی مختلف ریاستوں میں جاری ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے خلاف کانگریس سڑک اور پارلیمنٹ دونوں جگہ آواز اٹھاتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ کانگریس کے سرکردہ لیڈران آج پارلیمنٹ احاطہ میں ایس آئی آر کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے نظر آئے اور پھر راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے لیڈر ملکارجن کھڑگے نے ایس آئی آر معاملہ پر اپنی تشویش ظاہر کرتے ہوئے بحث کرانے کا زوردار مطالبہ رکھا۔ کانگریس کمیٹی کے صدر ملکارجن کھڑگے نے اس بارے میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اہم جانکاری دیتے ہوئے لکھا ہے کہ آج ہم نے رول 267 کے تحت جو نوٹس دیا ہے، ایوان میں اس کا مقصد بتایا جانا چاہیئے، یہ روایت رہی ہے لیکن اچانک ایسا ہوگیا ہے کہ جو رکن نوٹس دیتے ہیں، نہ ان کا نام پڑھا جاتا ہے اور نہ ہی نوٹس کا موضوع پڑھا جاتا ہے۔

بعد ازاں ایس آئی آر کا ذکر کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں ہماری اپیل ہے کہ ایس آئی آر پر فوری بحث ہونی چاہیئے، یہ بہت ہی سنگین موضوع ہے، کیونکہ ملک میں بی ایل او کی جان جا رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایس آئی آر پر بحث ملک، عوام اور جمہوریت کے مفاد میں ہے، ہم سبھی حکومت کے ساتھ اس موضوع پر بحث کرنے کو تیار ہیں۔ اس سے قبل کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے پارلیمنٹ احاطہ میں میڈیا اہلکاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم آلودگی، ایس آئی آر اور کئی دیگر اہم موضوعات پر ایوان میں بحث کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن حکومت کسی بھی موضوع پر بحث کے لئے راضی نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم پچھلے پارلیمانی اجلاس سے بحث کا مطالبہ کر رہے ہیں، لیکن حکومت بات کرنے کو راضی ہی نہیں ہے، ایوان اس طرح نہیں چلتا ہے۔ ایس آئی آر معاملہ پر اپنی تشویش ظاہر کرتے ہوئے پرینکا گاندھی نے کہا کہ لوگوں کے ووٹ کاٹے جا رہے ہیں، "ووٹ چوری" ہو رہی ہے لیکن حکومت چاہتی ہے کہ ہم خاموش رہیں۔ بھارتی وزیراعظم تو یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ موسم کا مزہ لیجیئے۔ انہوں نے پارلیمنٹ میں بحث کی اہمیت ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایوان جمہوریت کا مندر ہے، یہاں بحث ہونی چاہیئے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ایس ا ئی ا ر کرتے ہوئے رہے ہیں رہی ہے کہا کہ

پڑھیں:

بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا

بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔

میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔

مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔

یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔

        View this post on Instagram                      

تاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔

حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • حکمران ہم سے خوفزدہ، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان