Express News:
2026-07-24@04:34:29 GMT

امریکا اور تاجکستان پر حملے:افغان طالبان ذمے دار؟

اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT

مقتدر و مفسد مُلّاافغان طالبان کے زیر تسلّط افغانستان کے ہمسایہ میں کوئی ملک ایسا نہیں رہ گیا جوطالبان کے شر سے محفوظ ہو۔افغان طالبان اور افغانوں کے تباہ کن شرارے اب امریکا،وسط ایشیا اور مغرب تک بھی پہنچ گئے ہیں۔یہ افغان طالبان کے مُلّا عمر ہی تھے جن کے دَور میں امریکا پر (معروفِ عالم نائن الیون کا) حملہ کیا گیا اور اِس کا ملبہ افغان طالبان اور اُن کے زیر سایہ اُسامہ بن لادن پر گرا۔ یہ سانحہ اب تاریخ کا حصہ ہے ۔

امریکا اب دوسری بار ایک افغان سے ڈسا گیا ہے ۔ چند دن قبل ایک افغان شہری ( رحمان اللہ لکنوال)نے امریکی صدر کی رہائشگاہ ، وہائیٹ ہاؤس، سے چند قدموں کے فاصلے پر تین امریکی فوجیوں(نیشنل گارڈز)پر اچانک حملہ کر دیا۔یہ حملہ گھات لگا کر (Ambush) کیا گیا ۔ 29سالہ افغان حملہ آور، رحمان اللہ لکنوال ، کے قاتلانہ حملے میں دو امریکی فوجی شدید زخمی ہو گئے۔ زخمیوں میں ایک نیشنل گارڈ خاتون (Sarah Backstorm) دو دن بعد زخموں کی تاب نہ لا کر موت کی وادی میں اُتر گئی ۔ دوسرا نیشنل گارڈ ابھی اسپتال میں موت و حیات کی کشمکش میں پڑا سسک رہا ہے ۔ حملہ آور خود بھی زخمی ہے کہ اُسے تیسرے امریکی فوجی نے، جواباً، گولی مار کر زخمی کر دیا تھا۔

گولی چلانے کے ماہرافغان شہری ، رحمن اللہ لکنوال، کے اِس ہلاکت خیز حملے کی بازگشت امریکا بھر میں سنائی دے رہی ہے ۔ مغربی ممالک بھی افغان مہاجرین اور افغان طالبان سے ڈر گئے ہیں ۔ تقریباً چار سال قبل افغان حملہ آور، رحمن اللہ لکنوال، اُس وقت امریکا پہنچا تھا جب افغانستان سے امریکی فوجیں بھی واپس امریکا چلی گئی تھیں ۔ بتایا گیا ہے کہ افغان حملہ آور رحمن اللہ افغانستان میں امریکی فوجیوں کے ساتھ بھی خدمات انجام دیتا رہا ہے ۔

اب امریکا میں اُس کا ویزہ ختم ہو چکا تھا ۔ اوپر سے امریکی صدر ، ڈونلڈ ٹرمپ، نے امریکا میں مقیم غیر قانونی غیر ملکیوں کے خلاف جو سخت کریک ڈاؤن شروع کررکھا ہے ، رحمن اللہ اِس کی وجہ سے بھی ممکنہ طور پر فرسٹریشن کا شکارہوگا۔ یہ معاملہ مگر ہنوز تفتیش طلب ہے (1) آیا رحمن اللہ لکنوال کا یہ انفرادی فعل ہے (2) آیا اُسے افغان طالبان کی اشیرواد حاصل ہے (3) آیا وہ افغان طالبان کے افغانستان میں دہشت گرد ’’داعش‘‘ یا ’’القاعدہ‘‘ سے نظریاتی اور تنظیمی تعلق رکھتا ہے ؟ وجہ خواہ کوئی بھی ہو، رحمن اللہ لکنوال نے امریکا ، مغرب اور شرقِ اوسط میں افغان شہریوں اور افغان مہاجرین کو بدنام کر دیا ہے ۔ اور پاکستان کا یہ موقف بھی ثابت ہو گیا ہے کہ آج کے مقتدر افغان طالبان کی دہشت گردیوں کے ہاتھوں سے کوئی ملک محفوظ نہیں رہ گیا اور اگر افغان طالبان کو جلد اور اجتماعی عالمی طاقت سے کسی سخت نظم میں نہ لایا گیا تو یہ (مُلا عمر کے طالبان کی طرح) ایک بار پھر دُنیا بھر کے لیے عذاب بن جائیں گے۔

امریکی ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکورٹی (DHS) دن رات ایک کرکے حملہ آور افغان رحمن اللہ لکنوال کی تحقیق وتفتیش کررہا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ اگر تیسرا نیشنل گارڈ گولی مار کر حملہ آور افغان کو زخمی نہ کر دیتا تو شائد یہ تینوں کی زندگیاں نگل جاتا ۔ رحمن اللہ لکنوال پر تین بڑے مقدمات قائم کیے گئے ہیں ۔ اِنہی مقدمات کے پسِ منظر میں امریکی حکومت کا یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ رحمن اللہ کو اگر سزائے موت نہ سنائی گئی تو کم از کم عمر بھر کے لیے اُسے کسی امریکی جیل میں قید کر دیا جائے گا۔ امریکی صدر ، ڈونلڈ ٹرمپ، سخت غصے اور طیش میں ہیں۔

امریکا میں مقیم غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف وہ مزید بھڑک اُٹھے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق امریکی صدر ، جو بائیڈن، پر بھی برستے ہُوئے کہا ہے :’’ یہ بائیڈن ہی تھے جن کے غیر مناسب اور غیر قانونی اقدامات کے کارن ہزاروں افغانوں کو امریکا میں داخل ہونے کے مواقع ملے۔

اِن کی اسکریننگ بھی نہ کی گئی۔ یوں میرے خدشات کو تقویت ملی ہے کہ اِن افغانوں میں زیادہ تر کریمینل تھے ۔‘‘ جو بائیڈن انتظامیہ نے اپنے Operation Allies Welcomeپروگرام کے تحت77ہزار افغانوں کو امریکا میں داخل ہونے کی اجازت دی تھی ۔ ’’الجزیرہ‘‘ کا کہنا ہے کہ امریکی فوجیوں پر حملہ آور افغان شہری، رحمن اللہ لکنوال، کی وجہ سے اب امریکا میں مقیم اِن 77ہزار افغان شہریوں کا مستقبل شدید خطرے میں پڑ گیا ہے ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ ’’اِن77ہزار افغانوں کے ساتھ ساتھ ہر اُس شخص کی جانچ پڑتال ، اسکریننگ اور تفتیش کی جائے گی جو افغانستان سے امریکا آیا ہے۔‘‘

امریکی صدر ، ڈونلڈ ٹرمپ، نے غصے اور طیش میں طالبان کے افغانستان کوHellhole( جہنم کا سوراخ)قرار دے دیا ہے ۔ اِسی سے ہم بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ طالبان کا افغانستان پاکستان کے ساتھ ساتھ دُنیا بھر کے لیے کتنے گمبھیر مسائل کا موجب بنتا جا رہا ہے۔

افغان طالبان کی کارستانیوں، شیطانیوں اور دہشت گردیوں کا دائرہ روز بروز پھیلتا جارہا ہے ۔ اور مہذب دُنیا کا غصہ بھی افغان طالبان کی پالیسیوں اور اقدامات کے خلاف بڑھ رہا ہے ۔ اُمید لگائی گئی تھی کہ مُلّا ہیبت اللہ کے طالبان ، مُلّا عمر کے طالبان سے قدرے معقول اور معتدل ہوں گے ، مگر مُلّا ہیبت اللہ نے بھی اپنی ہٹ دھرمی کے سبب دُنیا کو مایوس کیا ہے ۔ متشدد اور متعصب افغان طالبان کے افغانستان کی جانب سے چند روزقبل اپنے ہمسائے ، تاجکستان ، پر جو حملہ کیا گیا ہے ، اِس نے بھی طالبان کے عزائم سے دُنیا بھر کو آگاہ کر دیا ہے ۔ تاجکستان پر کیے گئے حملے میں تین چینی انجینئرز ہلاک ہو گئے ہیں ۔ چین نے اپنے شہریوں کی ہلاکت کے خلاف سخت ردِ عمل دیا ہے ۔تاجکستان بھی طالبان رجیم کے خلاف سخت سیخ پا ہے ۔ پاکستان نے چینی انجینئروں کے حوالے سے حملہ آوروں کی سخت مذمت کی ہے ۔

پہلے طالبان کے زیر قبضہ افغانستان سے تیار اور مسلح ہو کر ٹی ٹی پی اور ٹی ٹی اے کے دہشت گرد پاکستان میں بروئے کار چینی انجینئرز کے خلاف خونریز حملے کرتے تھے۔ یہ حملے دراصل دوحہ معاہدے کی بھی صریح خلاف ورزی تھے اور افغان طالبان کی محسن کشی بھی ۔ اب تاجکستان میں کام کرنے والے چینی انجینئرز پر بھی حملہ کرکے افغان طالبان نے واضح کر دیا ہے کہ افغانستان سے متصل تاجکستان کی1360 کلومیٹر طویل سرحد بھی غیر محفوظ ہے : ناوک نے تیرے صَید نہ چھوڑا زمانے میں !!

امریکا اور تاجکستان پر اگر افغان شہری اور افغان طالبان نے مبینہ طور پر حملے کیے ہیں تو ایک تازہ حملہ بھارتی وزیر دفاع، راجناتھ سنگھ، نے بھی پاکستان پر کیا ہے۔ بھارتی وزیر اعظم ، نریندر مودی، کی کابینہ میں چار افراد ایسے ہیں جو اپنی پاکستان دشمنی اور اسلام دشمنی میں ’’بے مثال‘‘ حیثیت رکھتے ہیں:(۱) خود وزیر اعظم مودی (۲) بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ (۳) مودی کے نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر اجیت ڈووَل (۴) وزیر دفاع راجناتھ سنگھ ! اگلے روز اِسی راجناتھ سنگھ نے بھارت میں موجود مہاجر سندھی ہندوؤں کی کمیونٹی/ تنظیم (Sindhi Samaj Sammelan) سے خطاب کرتے ہُوئے یوں دریدہ دہنی کی :’’ آج سندھ کی زمین بھلے ہندوستان کا حصہ نہیں ہے ۔

لیکن تہذیبی اور ثقافتی طور پر سندھ ہمیشہ ہندوستان کا حصہ رہے گا ۔ اور جہاں تک زمین کا تعلق ہے ، سرحدیں بدل سکتی ہیں۔ کون جانتا ہے کہ کل سندھ دوبارہ ہندوستان میں ضَم ہو جائے ۔‘‘پاکستان اور پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے راجناتھ سنگھ کے اِس حملے کو پوری توانائی سے پسپا اور مسترد کیا ہے ۔ سندھ اسمبلی نے متفقہ طور پر بھارتی وزیر دفاع کے خلاف قرار داد منظور کرکے اور سندھ کے وزیر اعلیٰ، جناب مراد علی شاہ، نے جواباً راجناتھ سنگھ کو جو دندان شکن جواب دیا ہے، بھارت بھر میں اس کی بازگشت سنائی دے رہی ہے ۔ واضح رہے کہ تقسیمِ ہند کے وقت تقریباً دس لاکھ سندھی ہندو بھارت چلے گئے تھے۔

ایک اندازے کے مطابق آج اُن کی آبادی تین کروڑ تک پہنچ گئی ہے ۔ بھارت کے سابق وزیر داخلہ اور نائب وزیر اعظم ایل کے ایڈوانی( جنھوں نے رَتھ یاترا نکال کر بھارت میں موجود صدیوں پرانی بابری مسجد شہید کر ڈالی تھی) بھی سندھ ہی سے تعلق رکھتے تھے ۔ آج ’’بی جے پی ‘‘کی رگوں میں جو پاکستان دشمنی دوڑ رہی ہے، یہ دراصل متعصب ایل کے ایڈوانی ہی کا ’’کارنامہ‘‘ ہے ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: افغان طالبان کے افغان طالبان کی راجناتھ سنگھ افغانستان سے بھارتی وزیر افغان شہری امریکا میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور افغان حملہ ا ور امریکا ا ور افغان کے خلاف گئے ہیں ہے کہ ا کر دیا کیا ہے رہا ہے دیا ہے گیا ہے

پڑھیں:

عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران

پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟

وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔

سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔

مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟

رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔

سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔

سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔

مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ

متعلقہ مضامین

  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران