ایف بی آر مقررہ کردہ ٹیکس وصولیوں کے ہدف میں بھی ناکام، 5 ماہ میں 315 ارب روپے کا شارٹ فال
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) رواں ماہ کیلئے مقررکردہ ٹیکس وصولیوں کا ہدف بھی حاصل کرنے میں ناکام ہوگیا ہے۔
ایکسپریس نیوز کو ایف بی آر ذرائع سے ملنے والی معلومات کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو نومبر 2025 میں اب تک مجموعی طور پر 885 ارب روپے کی عبوری خالص ٹیکس وصولیاں ہوئی ہیں جو کہ995 ارب روپے کے مقررہ ہدف سے 100 ارب روپے کم ہے۔
ذرائع کے مطابق رواں مالی سال 2025-2026 کے پہلے پانچ ماہ(جولائی تا نومبر)کے دوران ایف بی آر کو مجموعی طور پر 4730 ارب روپے کی عبوری خالص ٹیکس وصولیاں ہوئی ہیں جو کہ مقررہ ہدف 5045 ارب روپے سے 315 ارب روپے کم ہیں۔
حکام کے مطابق اگلے چند روز تک 29 اور 30 نومبر کے حتمی اعداد و شمار مرتب ہونے کے بعد یہ شارٹ فال کچھ حد تک کم ہونے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آر نے اگلے ماہ دسمبر2025 کیلئے ٹیکس وصولی کا ہدف 1406 ارب روپے مقرر کر رکھا ہے تاہم رواں مالی سال کے پہلے پانچ ماہ میں ایف بی آرکو ٹیکس وصولی میں بڑی کمی کا سامنا ہے جس کے باعث ایف بی آر کیلئے رواں مالی سال کیلئے مقرر کردہ 13.
واضح رہے کہ ملک میں آنے والے سیلاب کی تباہ کاریوں کے باعث ایف بی آر نے آئی ایم ایف کو آمادہ کرکے ٹیکس وصولیاں کا ہدف 14 ہزار 131 ارب روپے سے کم کرکے 13.9 ٹریلین روپے کیا گیا تھا اورمسلسل ریونیو شارٹ فال میں اضافے سے یہ نظر ثانی شدہ ہدف حاصل کرنا بھی چیلنج بنتا جارہا ہے۔
رواں مالی سال کے پہلے ماہ(جولائی)میں ٹیکس وصولیاں مقررہ ہدف سے زائد رہی تھیں باقی چار ماہ میں مسلسل ہدف سے کم ٹیکس اکٹھا ہوا ہے۔
ایف بی آر حکام کے مطابق جولائی 2025میں 748 ارب ہدف کے مقابلے 757 ارب روپے جمع کیے گئے، اگست میں ٹیکس وصولی 950 ارب ہدف کے مقابلے 901 ارب تک محدود رہی تھی جبکہ ستمبرمیں 1325 ارب ہدف کے مقابلے میں 1228 ارب روپے ٹیکس جمع کیا گیا تھا اور اکتوبرمیں 1026 ارب ہدف کے مقابلے 951 ارب روپے ٹیکس وصول ہوا تھا اور اب نومبر میں بھی 995 ارب روپے کے مقررہ ہدف کے مقابلے میں 895 ارب روپے کی ٹیکس وصولیاں ہوئی ہیں۔
حکام کے مطابق ٹیکس دہندگان کی سہولت کے لیے تمام لارج ٹیکسپیئرز آفسز (ایل ٹی اوز)، میڈیم ٹیکسپیرز آفسز (ایم ٹی اوز)، کارپوریٹ ٹیک آفسز (سی ٹی اوز) اور ریجنل ٹیکس آفسز (آر ٹی اوز) ہفتہ 29 نومبر کو بھی ڈیوٹی اور ٹیکس وصولی کے لیے کھلے رکھے گئے تھے اور غیر حتمی اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ رات گئے تک ایف بی آر کی مجموعی وصولیاں 895 ارب روپے رہیں، جو مقررہ ہدف 995 ارب روپے سے 100 ارب روپے کم ہیں جبکہ ماہانہ ہدف کے مقابلے میں کارکردگی 90 فیصد رہی ہیں۔
رواں مالی سال 2025-26 کے پہلے پانچ ماہ (جولائی تا نومبر) کے دوران ایف بی آر نے 4730 ارب روپے جمع کیے، جو مقررہ ہدف 5045 ارب روپے سے 315 ارب روپے کم ہیں۔
حکام کے مطابق 29 اور 30 نومبر کے حتمی اعداد و شمار مرتب ہونے کے بعد یہ شارٹ فال کچھ حد تک کم ہونے کا امکان ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ارب ہدف کے مقابلے حکام کے مطابق رواں مالی سال ارب روپے سے ارب روپے کم ٹیکس وصولی ایف بی آر شارٹ فال روپے کی کے پہلے ٹی اوز
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔