ایف بی آر کو ٹیکس میںکمی کا سامنا ‘ نومبر میں ہدف ایک 34ارب وصولی 878ارب روپے
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) ایف بی آر کو ماہ نومبر میں ٹیکس وصولی میں مسلسل چوتھے ماہ کمی کا سامنا ہے۔ نومبرمیں1 ہزار34 ارب ہدف کے مقابلے میں ٹیکس وصولی878 ارب تک محدود رہی۔ ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ رواں ماہ ٹیکس وصولی میں اب تک 156 ارب روپے شارٹ فال رہا۔ آخری ورکنگ ڈے میں مزید ٹیکس وصولی متوقع ہے، شارٹ فال میں کمی آئیگی، اگلے ماہ دسمبر میں ٹیکس وصولی کا ہدف 1406 ارب روپے مقرر ہے۔ رواں مالی سال کے پہلے5ماہ میں ایف بی آرکو ٹیکس وصولی میں بڑی کمی کا سامنا ہے۔ حکام ایف بی آرکے مطابق ستمبر میں 1325 ارب ہدف کے مقابلے میں 1228 ارب روپے ٹیکس جمع کیاگیا، اکتوبرمیں1026 ارب ہدف کے مقابلے میں951 ارب روپے ٹیکس وصول ہوا، رواں مالی سال ٹیکس وصولی کا 13.
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ارب ہدف کے مقابلے میں ٹیکس وصولی ارب روپے ایف بی
پڑھیں:
سعودی سرمایہ کاری اور آئی ایم ایف سے امید: ڈالر کے مقابلے میں روپیہ مستحکم
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: مالیاتی منڈیوں میں گزشتہ ہفتے بھی روپے نے اپنی مضبوط پوزیشن برقرار رکھی اور امریکی کرنسی کی قدر دباؤ میں رہتی نظر آئی۔
مارکیٹ کے حالات پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس استحکام کی بنیاد کئی اہم مثبت عوامل پر رہی جنہوں نے طلب اور رسد کے توازن کو ملکی معیشت کے حق میں ثابت کیا۔ سب سے بڑا محرک ریکوڈک منصوبے کے لیے ایگزم بینک کی جانب سے 1.25 ارب ڈالر کی فنانسنگ تھی، جس نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو تقویت دی۔
اسی طرح سعودی عرب کی جانب سے 10 ارب ڈالر کی متوقع سرمایہ کاری کی توثیق نے بھی زرمبادلہ مارکیٹ میں مثبت لہر پیدا کی۔ یہی وجہ ہے کہ پورے ہفتے کے دوران روپے کی قدر تیزی سے سنبھلتی رہی۔
ترسیلاتِ زر میں اضافے اور اسٹیٹ بینک کے بڑھتے ہوئے ذخائر نے بھی روپے کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ حکومت کی جانب سے برآمدی سیکٹر کو سہولت دینے کے لیے 2.5 فیصد ای ڈی ایس کے خاتمے کے فیصلے نے ایکسپورٹرز میں نئی توقعات پیدا کیں۔ تجارتی برادری کو امید ہے کہ اس رعایت کے بعد برآمدی سرگرمیوں میں تیزی آئے گی جو مستقبل میں زرمبادلہ کے فلو کو مزید مضبوط کرے گی۔
فوڈ ایگ نمائش میں 641 ملین ڈالر کے برآمدی آرڈرز کا حصول بھی ڈالر کے مقابلے میں روپے کے استحکام کا ایک اہم پہلو رہا۔ اس کامیابی نے عالمی مارکیٹ میں پاکستانی مصنوعات کی مانگ میں اضافے کی جھلک دکھائی، جس کا اثر براہِ راست ملکی کرنسی کی قدر پر بھی پڑا۔
بین الاقوامی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں کمی نے درآمدی بل کم ہونے کی امید کو بڑھایا، جس سے مارکیٹ کی سمت مزید بہتر ہوئی۔ ساتھ ہی آئی ایم ایف کی جانب سے دسمبر میں اگلی قسط کی ممکنہ منظوری کی خبریں بازار میں اعتماد بڑھانے کا باعث بنیں۔
ماہرین کے مطابق یہ توقعات غیرملکی ادائیگیوں کے دباؤ کو کم کرسکتی ہیں۔