ایشیز: آسٹریلیا نے پہلی اننگز میں 511 رنز بناکر اپنی پوزیشن مستحکم کرلی
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
آسٹریلیا نے دوسرے ایشیز ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں 511 رنز بناکر اپنی پوزیشن مستحکم کرلی۔
گابا میں کھیلے جارہے میچ میں آسٹریلیا نے کھیل کے تیسرے روز 378 رنز 6 کھلاڑی آؤٹ پر اننگز کا آغاز کیا تو مجموعی اسکور میں 5 رنز کے اضافے کے بعد ہی مائیکل نیسر (16) پویلین لوٹ گئے۔
ایلکس کیری 63 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔ مچل اسٹارک نے کیریئر بیسٹ 77 رنز کی اننگز کھیلی اور برینڈن ڈوگٹ 13 رنز بناسکے۔ اسکاٹ بولیںڈ 21 رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے۔
اس سے قبل جیک ویدرالڈ 72، مارنس لبوشین 65، کپتان اسٹیو اسمتھ 61، کیمرون گرین 45، ٹریوس ہیڈ 33 اور جوش انگلس 23 رنز بناکر آؤٹ ہوئے تھے۔
انگلینڈ کی جانب سے برائیڈن کارس نے 4، کپتان بین اسٹوکس نے 3 جبکہ جوفرا آرچر، گس ایٹکنسن اور ول جیکس نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔
اس سے قبل انگلش ٹیم اپنی پہلی اننگز میں 334 رنز پر آل آؤٹ ہوگئی تھی۔ جو روٹ 138 رنز بناکر ناقابل شکست رہے تھے۔
آسٹریلیا کی جانب سے مچل اسٹارک نے 6 جبکہ مائیکل نیسر، برینڈن ڈوگٹ اور اسکاٹ بولینڈ نے ایک ایک وکٹ حاصل کی تھی۔
یہ جنوری 2018 کے بعد پہلا موقع ہے جب انگلینڈ نے آسٹریلیا میں کسی ٹیسٹ اننگز میں 300 رنز بنائے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: رنز بناکر
پڑھیں:
جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔