سکیورٹی فورسز کی پختونخوا میں کارروائیاں، بھارتی حمایت یافتہ 9 خوارج ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
سکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا میں 2 کارروائیاں کرتے ہوئے ہوئے بھارتی حمایت یافتہ 9 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے ضلع ٹانک میں خفیہ اطلاعات پر آپریشن کیا اور فتنۃ الخوارج کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا، ٹانک میں شدید فائرنگ کے تبادلے میں7 خوارج مارے گئے۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے لکی مروت میں بھی خوارج کے خلاف خفیہ اطلاعات پر آپریشن کیا، لکی مروت میں فائرنگ کے تبادلے میں 2خوارج ہلاک ہوئے۔
شعبہ تعلقات عامہ کا کہنا ہے کہ مارے گئے بھارتی حمایت یافتہ خوارج سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا، مارے گئے خوارج دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث تھے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دہشتگردوں کے نیٹ ورک کے خاتمے کے لیے متعلقہ علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں، یہ آپریشن ملک سے دہشتگردی کے ناسور کو ختم کرنے تک جاری رہیں گے۔
صدر آصف علی زرداری، وزیر اعظم شہباز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے خیبرپختونخوا میں بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردوں کے خلاف 2 کامیاب آپریشنز پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے فورسز کی پیشہ وارانہ مہارت کو سراہا۔
تینوں شخصیات کا کہنا تھا سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائیاں کرکے خوارجیوں کو ہلاک کیا، خوارجیوں کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے پر سکیورٹی فورسز کوخراج تحسین پیش کرتا ہوں، سکیورٹی فورسز کی جرات اور پیشہ ورانہ مہارت پر فخر ہے، فتنہ الخوارج کے خلاف سکیورٹی فورسز بڑی کامیابیاں سمیٹ رہی ہیں، خیبرپختونخوا میں قیام امن کیلئے فورسز پرعزم ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بھارتی حمایت یافتہ سکیورٹی فورسز نے
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک