اسلام آباد(نیوزڈیسک) پیٹرولیم ڈویژن کا کہنا ہے کہ پاکستان نے قطر سے 24 اور اٹلی سے ایل این جی کے 21 کارگوز کی خریداری منسوخ کی، قطر سے 2026 میں درآمد کیے جانے والےایل این جی کارگوز میں سے 24 منسوخ کیے گئے۔

اٹلی کی کمپنی سے 2026 میں 12 کی بجائے صرف ایک ایل این جی کارگو درآمد کیا جائے گا۔

اٹلی کی کمپنی سے درآمد کیا جانے والا واحد ایل این جی کارگو جنوری 2026 میں آئے گا، 2027 میں اٹلی کی کمپنی سے خریدے جانے والے 12 میں سے 10 کارگوز منسوخ کردیے گئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کے قطر اور اٹلی کی کمپنی سے ایل این جی خریداری کے طویل مدتی معاہدے ہیں، یہ منسوخی ایل این جی خریداری کے طویل معاہدوں کے تحت آنے والے کارگوز کے لیے کی گئی۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ متعلقہ عالمی کمپنیوں کے ایل این جی کارگوز کی منسوخی کا عمل مکمل ہو چکا ہے۔

اٹلی کی کمپنی کا پاکستان ایل این جی لمیٹڈ کے ساتھ کارگوز سپلائی کا 15سال کامعاہدہ ہے، قطر کی کمپنی کا ایل این جی کارگوز کی فراہمی کا پی ایس او کے ساتھ طویل مدتی معاہدہ ہے، پاکستان طویل مدتی معاہدوں کے تحت ہر ماہ 10ایل این جی کارگوز درآمد کرتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ایل این جی کارگوز اٹلی کی کمپنی سے کارگوز کی

پڑھیں:

کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت

نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔

7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔

نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاری

ترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔

شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔

متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔

ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز اضافہ
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش