پاکستان نے قطر اور اٹلی سے 45 ایل این جی کارگوز کی خریداری منسوخ کر دی
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان نے 2027 تک 45 مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کارگوز کی خریداری منسوخ کردی۔جیو نیوز کے مطابق پاکستان نے قطر سے 24 اور اٹلی سے ایل این جی کے 21 کارگوز کی خریداری منسوخ کی۔
قطر سے 2026 میں درآمد کیے جانے والے ایل این جی کارگوزمیں سے 24 منسوخ کیے گئے۔اٹلی کی کمپنی سے 2026 میں 12 کی بجائے صرف ایک ایل این جی کارگو درآمد کیا جائے گا، اٹلی کی کمپنی سے درآمد کیا جانے والا واحد ایل این جی کارگو جنوری 2026 میں آئے گا۔ 2027 میں اٹلی کی کمپنی سے خریدے جانے والے 12 میں سے 10 کارگوز منسوخ کیے گئے ہیں۔
پنجاب میں طلاق کیسز میں خطرناک حد تک اضافہ ،لاہور 21ہزار کیسز کے ساتھ سر فہرست
پاکستان کے قطر اور اٹلی کی کمپنی سے ایل این جی خریداری کے طویل مدتی معاہدے ہیں، یہ منسوخی ایل این جی خریداری کے طویل معاہدوں کے تحت آنے والے کارگوز کے لیے کی گئی۔
متعلقہ عالمی کمپنیوں کے ایل این جی کارگوز کی منسوخی کا عمل مکمل ہو چکا ہے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: اٹلی کی کمپنی سے ایل این جی کارگوز کی
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔