فوج پر تنقید ہم نے بھی کی لیکن ریڈ لائن کراس نہیں کی ، خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
فوج پر تنقید ہم نے بھی کی لیکن ریڈ لائن کراس نہیں کی ، خواجہ آصف WhatsAppFacebookTwitter 0 6 December, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ان کی اپنی جماعت نے بھی ماضی میں فوج پر کھل کر تنقید کی لیکن کبھی حد سے تجاوز نہیں کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت نے پی ٹی آئی کے برعکس کبھی بھی فوج پر تنقید کرتے وقت ریڈ لائن کراس نہیں کی۔ فوج پر حد سے زیادہ تنقیدیں ریاستی اداروں کو فعال طور پر کمزور کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے رہنما نہ تو دہشتگردی کیخلاف جاری آپریشن کی حمایت کرتے ہیں اور نہ ہی سیکیورٹی اہلکاروں کے جنازوں میں شرکت کرتے ہیں۔ اگر پی ٹی آئی کے ارکان دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں لڑ سکتے تو یہ آپ کو کیا بتاتا ہے؟.
خواجہ آصف نے بھارتی میڈیا کو انٹرویو دینے پر بھی پی ٹی آئی رہنماؤں کی مذمت کی اور کہا کہ اس طرح کے اقدامات اس مضبوط دھکے کی ضمانت دیتے ہیں جس کا انہیں اب سامنا ہے۔
خواجہ آصف نے مزید الزام لگایا کہ پی ٹی آئی سوشل میڈیا مہم چلاتی ہے، کیا پی ٹی آئی نے کبھی اپنی صفوں سے آن لائن بدسلوکی کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک شخص قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن گیا ہے۔ انہوں نے عمران خان پر اقتدار کے لیے سب یا کچھ نہ ہونے کا طریقہ اپنانے کا الزام بھی لگایا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپنجاب میں غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کے خلاف کارروائی، 31 ہزار سے زائد افراد ڈی پورٹ پنجاب میں غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کے خلاف کارروائی، 31 ہزار سے زائد افراد ڈی پورٹ فیفا کا پہلا امن ایوارڈ امریکی صدر ٹرمپ کے نام پی ٹی آئی نے موقع گنوا دیا، عمران خان کے بغیر بات کرنی ہے تو پارلیمنٹ میں ضرور کریں، عطا تارڑ اب ان کو جیل ملاقات کی بالکل اجازت نہیں، مجمع اکٹھاکرنے کی بھی اجازت نہیں ہوگی، عطا اللہ تارڑ اداروں اور سیاسی قیادت کا ایک دوسرے کو ذہنی مریض کہنا افسوسناک ہے، بیرسٹر گوہر کا ردعمل پاکستان کے سیاحتی شعبے کو فروغ دینے کے لیے ایف پی سی سی آئی اور مارکوپولو ریزورٹس اینڈ ٹورز کے درمیان مفاہمت کی یادداشت...Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: خواجہ آصف پی ٹی آئی نہیں کی فوج پر کے لیے
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔