عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی، اب جیل کے باہر مجمع لگانے کی اجازت نہیں دی جائےگی، وزیر اطلاعات
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ عمران خان سے ملاقات کرنے والے باہر آکر ریاست مخالف بیانیہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں، اس لیے ملاقاتوں پر پابندی عائد کردی گئی ہے، جبکہ اب جیل کے باہر مجمع لگانے کی اجازت بھی نہیں دی جائےگی۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ملاقاتوں کا مطلب حال احوال پوچھنا اور کیسز کے حوالے سے قانونی معاملات ڈسکس کرنا ہوتا ہے، جو یہ نہیں کرتے۔
انہوں نے کہاکہ اب جو بھی جیل کے باہر مجمع لگانے آئے گا اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائےگی۔
وزیر اطلاعات نے کہاکہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس میں بالکل درست باتیں کیں، ہم ان کی توثیق کرتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اگر اڈیالہ جیل آئے تو ان کو پہلے ناکے سے ہی واپس جانے کا کہا جائےگا، وہ ہمارے لیے قابل احترام ہیں۔
وزیر اطلاعات نے کہاکہ عمران خان کی بہنوں کی گرفتاری کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا، اگر وقت کے ساتھ پی ٹی آئی کے رویے میں بہتری آئی تو عمران خان سے ملاقاتیں ہو سکتی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ جب تک پی ٹی آئی اپنا ریاست مخالف بیانیہ ترک نہیں کرتی تب تک ان سے کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ کل پی ٹی آئی کے دو رہنماؤں نے بیرون ملک جانے کی کوشش کی، جن کے نام نو فلائی لسٹ میں تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آئی ایس پی آر ریاست مخالف بیانیہ عطااللہ تارڑ عظمیٰ خان عمران خان ملاقات وفاقی وزیر اطلاعات وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئی ایس پی ا ر ریاست مخالف بیانیہ عطااللہ تارڑ عمران خان ملاقات وفاقی وزیر اطلاعات وی نیوز انہوں نے کہاکہ وزیر اطلاعات
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ