فلسطینیوں کی جبری بیدخلی کسی صورت قابلِ قبول نہیں؛ مسلم ممالک یک زباں ہوگئے
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں غزہ کے رفح بارڈر کے صرف خارجی راستے کو کھولنے کے اسرائیلی منصوبے کو سختی سے مسترد کر دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق مصر، انڈونیشیا، اردن، پاکستان، قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے خلاف مشترکہ مذمتی بیان جاری کیا ہے۔
بیان میں اسرائیلی اقدام کو مکمل طور پر ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے بیدخل کرنے کی کوشش کی ہے جس کی کسی بھی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔
مسلم وزرائے خارجہ نے بیان میں کہا کہ راہداری کا صرف خارجی دروازہ کھولنا جنگ بندی کی شرائط اور امریکی امن منصوبے کے پہلے مرحلے کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے جس میں رفح کراسنگ کو دونوں سمتوں میں کھولنے کی شرط شامل ہے۔
Eight Arab and Islamic countries issued a joint statement expressing their deep concern over Israeli statements about opening the Rafah crossing in one direction, allowing Gaza residents to leave for Egypt#MOFAQatar pic.
بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے پر فوری عملدرآمد کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس معاہدے میں رفح کراسنگ کی دو طرفہ بحالی، بین الاقوامی فورس کی تعیناتی اور فلسطینی خود ارادیت کو یقینی بنایا جائے۔
یاد رہے کہ اسرائیلی فوج نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ چند روز میں رفح بارڈر کو صرف فلسطینیوں کے مصر جانے کے لیے کھولا جائے گا۔ وہ بھی صرف اُس صرف اُس صورت میں جب اسرائیلی سیکیورٹی فورسز مذکورہ افراد کی منظوری دیں۔
یہ پہلا موقع نہیں جب اسرائیل نے غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہو۔ صرف سات ہفتوں میں اسرائیل نے کم از کم 600 خلاف ورزیاں کی ہیں جن میں 10 کے قریب بے گناہ فلسطینیوں کی قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا۔
واضح رہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی بمباری میں اب تک 70 ہزار 125 سے زائد فلسطینی شہید اور دو لاکھ کے قریب زخمی ہوچکے ہیں۔ جن میں نصف تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ہمارا ایک ہی مطالبہ ہے بانی پی ٹی آئی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے۔
راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو میں سہیل آفریدی نے کہا کہ چاہتے ہیں بانی پی ٹی آئی کا علاج ان کی فیملی اور ذاتی معالج کی موجودگی میں ہو۔
انہوں نے کہا کہ ان کے مقاصد کچھ اور ہیں اس لیے یہ ملنے نہیں دے رہے، مجھے اگر نہیں ملنے دیتے تو کم از کم فیملی کو ملنے دیا جائے۔
پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) رہنما جنید اکبر نے کہا ہے کہ جس دن بانی پی ٹی آئی محمود اچکزئی سےمطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے کہا سہیل آفریدی وزیراعلیٰ ہوگا تو دنیا کی کوئی طاقت اس کو بدل نہیں سکتی۔
اُن کا کہنا تھا کہ جب تک بانی پی ٹی آئی کا کوئی نیا پیغام نہیں آئے گا میں ہی وزیراعلیٰ رہوں گا، کے پی میں ہماری حکومت فقط بانی چیئرمین ہی ختم کرسکتے ہیں۔
سہیل آفریدی نے یہ بھی کہا کہ کے پی میں فارورڈ بلاک پروپیگنڈا ہے، جو اس لیے کیا گیا کہ وفاقی بجٹ میں ایک بار پھر عوام کا خون چوسا جائے گا۔
اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی اور اُن کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی ہفتہ وار ملاقات کرادی گئی۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے کابینہ سے بجٹ پیپر پاس کرالیا ہے، ہم نے کوئی سرپلس بجٹ نہیں دیا، کے پی حکومت عوام دوست بجٹ پیش کرے گی۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ ہمارا سارا فوکس صحت، تعلیم، زراعت، نوجوان اور جنگلات پر ہے، ہم اپنے بجٹ میں بہت اچھی اور عوام دوست چیزیں لارہے ہیں۔