data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

یورپ: یورو وژن 2026 کے میوزک مقابلے کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر تنازع شدت اختیار کر گیا ہے، جب آئرلینڈ، نیدرلینڈز، سلووینیا اور اسپین نے اعلان کیا کہ وہ آئندہ سال ہونے والے اس شائقین پسند مقابلے میں شرکت نہیں کریں گے۔

یہ فیصلہ یورپی براڈکاسٹنگ یونین (EBU) کی جانب سے اسرائیل کو مقابلے میں شامل رکھنے کے اعلان کے فوراً بعد سامنے آیا۔ EBU نے کہا تھا کہ اسرائیل کو مقابلے سے خارج کرنے پر کوئی ووٹنگ نہیں ہوگی اور اسے شمولیت کی اجازت دی جائے گی، جس کے بعد کئی یورپی ممالک نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔

مذکورہ ممالک نے واضح کیا کہ ان کی بائیکاٹ کی بنیادی وجوہات غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں اور گزشتہ سال کے مقابلے میں مبینہ سیاسی مداخلت ہیں۔

آئرلینڈ کے براڈکاسٹر RTE نے اپنے فیصلے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ غزہ میں جاری انسانی بحران اور ہولناک جانی نقصان قابلِ نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ نیدرلینڈز نے کہا کہ موجودہ حالات میں اسرائیل کی شرکت عوامی اقدار اور اخلاقی اصولوں کے خلاف ہے، جبکہ سلووینیا نے مقابلے سے دستبرداری کا اعلان 20 ہزار شہید ہونے والے بچوں کے احترام میں کیا۔

اسپین کے براڈکاسٹر RTVE نے بھی بیان دیا کہ اسرائیل کی جانب سے یورو وژن کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوششیں مقابلے کی غیرجانبدار حیثیت کو متاثر کر رہی ہیں۔

دوسری جانب جرمنی نے بھی واضح کیا ہے کہ اگر اسرائیل کو مقابلے سے خارج کیا گیا تو وہ بھی شمولیت سے دستبردار ہو جائے گا۔ اسرائیلی صدر اسحاق ہرتزوگ نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو عالمی سطح کے ہر پلیٹ فارم پر نمائندگی کا حق حاصل ہے۔

یہ صورتحال یورو وژن مقابلے کی روایتی غیرجانبداری اور موسیقی کے عالمی پلیٹ فارم پر سیاسی تنازعات کے تصادم کی عکاس ہے، اور آئندہ برس کے ایونٹ کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پیدا کر رہی ہے۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اسرائیل کو یورو وژن

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم