یوروویژن 2026 میں اسرائیل کی شرکت کا فیصلہ آج ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
یورپی براڈکاسٹنگ یونین (EBU) اگلے ماہ ہونے والے سالانہ بین الاقوامی گانے کے مقابلے( یوروویژن) میں اسرائیل کی شمولیت کے بارے میں ووٹ لے سکتی ہے، یہ مقابلہ ہر سال یورپی ممالک کے درمیان ہوتا ہے، جہاں ہر ملک ایک گلوکار یا ٹیم بھیجتا ہے اور سب کے ووٹ سے جیت کا فیصلہ ہوتا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کےمطابق EBU کی جنرل اسمبلی 4 اور 5 دسمبر کو اجلاس کرے گی، جس میں مقابلے کے ووٹنگ سسٹم میں حالیہ تبدیلیوں کا جائزہ بھی لیا جائے گا، یہ تبدیلیاں مقابلے میں شفافیت بڑھانے کے لیے کی گئی ہیں کیونکہ گزشتہ سال اسرائیلی حکومت کی مداخلت کے الزامات سامنے آئے تھے۔
نئی قواعد کے مطابق کسی بھی حکومت یا ریاستی ادارے کی جانب سے ہونے والی تشہیری مہم جو نتائج پر اثر ڈال سکتی ہے، اب منع ہے، ہر شخص کے ووٹ کی زیادہ سے زیادہ تعداد بھی 20 سے 10 کر دی گئی ہے، نیم فائنل میں پیشہ ور جرائز کی شمولیت دوبارہ بحال کی جائے گی تاکہ عوامی ووٹ اور جرائز کے درمیان توازن قائم رہے۔
اسرائیل کی شمولیت پر یورپی ممالک کے ردعمل مختلف ہیں، اسپین، ہالینڈ، سلووینیا اور آئس لینڈ نے کہا ہے کہ اگر اسرائیل حصہ لے تو وہ مقابلے سے نکل جائیں گے۔
آئرلینڈ نے بھی کہا کہ اسرائیل کی شرکت کی صورت میں مقابلے میں نہیں حصہ لے گا، اسرائیل ایک ظالم ملک ہے جس نے بے شمار بچوں کا قتل کیا ہے۔
دوسری طرف جرمنی اور آسٹریا نے اسرائیل کے شامل رہنے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل یوروویژن کا ایک لازمی حصہ ہے۔
یوروویژن 2026 کا مقابلہ آئندہ مئی میں وینس میں ہوگا، جس میں اسرائیل کی شمولیت کا حتمی فیصلہ EBU کے اجلاس کے بعد کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسرائیل کی کی شمولیت
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔