اسلام آباد نیشنل پریس کلب کے باہر متاثرین اسلام آباد الائنس کا احتجاج، بڑی تعداد میں متاثرین کی شرکت
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
اسلام آباد نیشنل پریس کلب کے باہر متاثرین اسلام آباد الائنس کا احتجاج، بڑی تعداد میں متاثرین کی شرکت WhatsAppFacebookTwitter 0 4 December, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) اسلام آباد نیشنل پریس کلب کے باہر متاثرین اسلام آباد الائنس کمیٹی کی جانب سے ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں اسلام آباد کے مختلف سیکٹرز سے متاثرین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شرکا نے سی ڈی اے کے 2025 کے فیصلوں اور 2008 کے متنازعہ سپارکو/گوگل سروے کے خلاف بھرپور ردعمل کا اظہار کیا۔
مظاہرین نے واضح کیا کہ ان کے حقوق پر ڈاکا ڈالنے کی کوشش کسی صورت قبول نہیں کی جائے گے ،اس موقع پر فوکل پرسن وزیراعظم یوتھ پروگرام سید ذیشان علی نقوی نے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے لوگوں کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے، نہ آج اور نہ آئندہ کبھی۔سی ڈی اے کی جانب سے اعلان کردہ 2008 کا سپارکو گوگل سروے مکمل طور پر نامنظور ہے، متاثرین اسے مسترد کرتے ہیں۔تمام جدی مالکان کو ان کے جائز حقوق دلائے جائیں گے، اور کسی بھی غلط سروے کی بنیاد پر ان کا استحقاق نہیں چھینا جائے گا۔
موجودہ سروے میں وہ خاندان کے افراد جو اس وقت بچے تھے اور اب بڑے ہو کر اپنے والدین کی ملکیت کے حق دار ہیں،ان سب کو بھی بلٹ اپ پراپرٹی کے تمام قانونی بینیفٹس دلوائے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ متاثرین کی آواز کو دبانے کی کوششیں ناکام ہوں گی، اور ہر فورم پر ان کے حق میں آواز بلند کی جائے گی۔سید ذیشان نقوی نے مزید کہا سی ڈی اے 2008کے سپارکو گوگل سروے کے اعلان کو واپس لے مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ سی ڈی اے فورا 2008 کے سروے کو واپس لے۔متاثرین کے حقوق آئینی اور قانونی طور پر تسلیم شدہ ہیں، کسی بھی نوٹیفکیشن یا غیر منصفانہ طریقہ کار پر انہیں قربان نہیں کیا جا سکتا۔2025 کی ایوارڈنگ اصل ریکارڈ، نقشے اور موجودہ جائز حق داروں کے مطابق کی جائے۔احتجاج کے اختتام پر متاثرین نے اعلان کیا کہ حق کے حصول تک یہ جدوجہد جاری رہے گی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان یہاں سے اب اونچی اڑان کی طرف جائیگا، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر پاکستان یہاں سے اب اونچی اڑان کی طرف جائیگا، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر صدر مملکت نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بطور چیف آف ڈیفنس فورسز تقرری کی منظوری دیدی، نوٹیفکیشن جاری صدر ن لیگ نوازشریف کی ہدایت پر گوجرانوالہ ماس ٹرانزٹ پراجیکٹ کی منظوری ملک میں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رابطے استوار کیے بغیر سیاست نہیں کی جاسکتی،بیرسٹر سیف ہماری معلومات کے مطابق فیض حمید سے متعلق فیصلہ اسی دسمبر میں آجائے گا، رانا ثنا اللہ انجینئر محمد علی مرزا کو گستاخی کا مرتکب قرار دینے کی اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے پر حکمِ امتناع برقرارCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اسلام آباد متاثرین کی
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔