پی ٹی آئی کا اسلام آباد ہائیکورٹ کے بعد اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج جاری
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے زیراہتمام اڈیالہ جیل کے باہر مختلف مقامات پر کارکنوں کی جانب سے احتجاج کیا جارہا ہے۔
آج اڈیالہ جیل میں ملاقات کا دن تھا، جیل حکام نے بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ عظمیٰ خان کو ملاقات کی اجازت دی، جس کے بعد انہوں نے بتایا کہ عمران خان مکمل صحت مند ہیں۔
3 سال سے فسطائیت سے نبرد آزما تحریک انصاف کا اڑھائی سال سے ناحق قید لیڈر عمران خان کیلئے اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج pic.
— Hunain (@PTI_Scientist) December 2, 2025
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ عمران خان کو سیل میں مکمل بند رکھا جاتا ہے، صرف کچھ دیر کے لیے باہر نکلنے کی اجازت ملتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ عمران خان نے کہا ہے کہ یہ جان بوجھ کر ہمیں ذہنی اذیت کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کرنے والے کارکنان عمران خان کے حق میں نعرے بازی کررہے ہیں، اور ان کی رہائی کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔
اس سے قبل پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر بھی احتجاج کیا، اور عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔
گزشتہ روز وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے پاکستان تحریک انصاف کے منتخب ممبران اسمبلی اور سینیٹ کو سختی سے ہدایت کی تھی کہ عمران خان کی رہائی کے لیے ممکنہ احتجاج کی تیاری کریں اور ہر منگل کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیشی کے دوران اپنی حاضری کو یقینی بنائیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews احتجاج جاری اڈیالہ جیل پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اڈیالہ جیل پاکستان تحریک انصاف پی ٹی ا ئی وی نیوز اڈیالہ جیل کے باہر تحریک انصاف پی ٹی ا ئی
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔