City 42:
2026-07-24@03:13:38 GMT

پی ٹی آئی کے احتجاج سے قبل اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ

اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT

احمد منصور :پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے احتجاج کی کال پر ضلعی انتظامیہ نے  خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ  ہے ، کسی بھی غیرقانونی سرگرمی  پر قانون حرکت میں آئے گا۔

 ضلعی انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل ہے کہ وہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کا حصہ مت بنیں، کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کے انعقاد پر قانون فی الفور حرکت میں آئے گا۔

لکی مروت: پولیس موبائل پر خودکش حملہ، ایک اہلکار شہید، 6 زخمی 

 یاد رہے کہ پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے تمام پارلیمنٹیرین نے منگل کو اسلام آباد ہائیکورٹ اور اڈیالہ جیل کے باہر پرامن احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔
اس احتجاج کا اعلان اتوار کو خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کیا تھا۔ انھوں نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ اس احتجاج میں صرف اراکین اسمبلی ہوں گے اور کوئی کارکن اس احتجاج کا حصہ نہیں ہوگا۔
سہیل آفریدی کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر احتجاج کا مقصد عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف قائم مقدمات کی جلد از جلد سماعت کو یقینی بنانا ہے۔ ان کے مطابق اڈیالہ جیل کے باہر تمام اراکین اسمبلی عمران خان کی بہنوں سے اظہار یکجہتی کے لیے اکھٹے ہوں گے۔

لکی مروت: پولیس موبائل پر خودکش حملہ، ایک اہلکار شہید

 واضح رہے کہ پشاور ہائیکورٹ نے کےپی حکومت کی سرکاری مشینری کے ناجائز استعمال کے خلاف فیصلہ دے رکھا ہے جس میں صوبائی حکومت کو حکومت مخالف احتجاج میں کوئی سرکاری گاڑی، مشینری ، عملے کی خدمات حاصل کرنے سے منع کیا گیا ہے۔

 عدالت نے قرار دیا ہے کہ سرکاری وسائل کا غیر مجاز استعمال بدعنوانی اور اختیار کے ناجائز استعمال کے مترادف ہے،عدالت نے واضح کیا ہے کہ حکومت سیاسی سرگرمیوں میں مکمل غیرجانبداری یقینی بنائے،عدالت نے ہدایت کی کہ کسی سرکاری اہلکار کو سیاسی سرگرمی کیلئے تعینات نہ کیا جائے۔

 ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ٹرائل پر فوری حکم امتناع کی استدعا مسترد

 عدالت نے کہا  کہ سرکاری مشینری کا سیاسی استعمال بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے،پشاور ہائیکورٹ نے حکومتی اہلکاروں کے سیاسی استعمال پر سخت اظہارِ تشویش کیا ہے،عدالت نے کہا ہے کہ سیاسی سرگرمیوں کیلئے سرکاری وسائل کا استعمال ناقابلِ قبول ہے۔

 عدالت نے احتجاج اور ریلیوں میں سرکاری گاڑیوں کے استعمال پر مکمل پابندی لگائی تھی،عدالت نے واضح کیا تھا کہ سرکاری وسائل کا غلط استعمال اختیارات کے ناجائز استعمال کے زمرے میں آتا ہے،عدالت نے حکومت کو ہدایت دی ہے کہ سرکاری وسائل کے قانونی اور مناسب استعمال کو یقینی بنایا جائے۔

بحرین میں مستقل رہائش حاصل کریں، آسان شرائط سامنے آگئیں

 عدالت نے قرار دیا تھا کہ کسی سرکاری اہلکار کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال نہیں کیا جا سکتا،سرکاری ملازمین کو سیاسی ریلیوں اور مارچ میں شرکت سے روک دیا ہے،سرکاری مشینری کے سیاسی استعمال پر سخت نوٹس لیا،عدالتی فیصلے کے بعد سیاسی سرگرمیوں کیلئے سرکاری وسائل کے استعمال کی راہ بند ہو گئی تھی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: سرکاری وسائل سیاسی سرگرمی کہ سرکاری عدالت نے

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم