فریڈرک مرز کا دورہ اسرائیل، بین الاقوامی قوانین سے اعلان جنگ ہے، جرمن اپوزیشن
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
اپنی ایک پریس کانفرنس میں جرمن اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ جرمن چانسلر، صیہونی وزیراعظم سے ملنا چاہتے ہیں حالانکہ جنگی جرائم کے ارتکاب پر اُن کے وارنٹ گرفتاری جاری ہو چکے ہیں۔ مشتبہ جنگی مجرم سے ملاقات، ایک معمولی سرکاری ملاقات شمار نہیں ہو گی۔ اسلام ٹائمز۔ جرمن چانسلر "فریڈرک مرز" مستقبل قریب میں اسرائیل کا دورہ کر رہے ہیں جہاں وہ اسرائیلی وزیراعظم "نتین یاہو" سے ملاقات کریں گے۔ فریڈرک مرز کے مذکورہ دورہ اسرائیل کو جرمنی میں بائیں بازو کی اپوزیشن جماعت نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس حوالے سے بائیں بازو کی اپوزیشن جماعت کے سربراہ "فان آکن" نے کہا کہ فریڈرک مرز کی جانب سے تل ابیب کا دورہ، بین الاقوامی قوانین کے خلاف اعلان جنگ ہے۔ فان آکن نے ان خیالات کا اظہار برلن میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ فریڈرک مرز، صیہونی وزیراعظم سے ملنا چاہتے ہیں حالانکہ جنگی جرائم کے ارتکاب پر اُن کے وارنٹ گرفتاری جاری ہو چکے ہیں۔ مشتبہ جنگی مجرم سے ملاقات، ایک معمولی سرکاری ملاقات شمار نہیں ہو گی۔
فان آکن نے حکومت کی جانب سے دوبارہ اسرائیل کو ہتھیاروں کی برآمدگی کے فیصلے کو ایک سیاسی دھبہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک صیہونی رژیم مسئلہ فلسطین کے سیاسی حل اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام پر نہیں آتی، اُس وقت تک جرمنی کو چاہئے کہ وہ اسرائیل کو ہتھیار بھیجنا بند کردے۔ اگرچہ جرمن حکومت نے غزہ میں اسرائیلی فوج کے مظالم پر دیر سے تنقید کی اور غزہ میں انسانی امداد کے داخلے میں اضافے پر زور دیا۔ مگر اس کے باوجود جرمن چانسلر نے اپوزیشن کی جانب سے اسرائیل کو ہتھیاروں کی سپلائی روکنے کی درخواست کو مسترد کر دیا، یورپی یونین اور اسرائیل کے تجارتی معاہدے کی معطلی کی مخالفت کی اور فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ اسی وجہ سے برلن حکومت کے مخالفین ان پر تل ابیب کی غیرمعقول حمایت اور بین الاقوامی قوانین کو نظرانداز کرنے کا الزام لگا رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: فریڈرک مرز اسرائیل کو
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔