اڈیالہ جیل کے باہر پی ٹی آئی والوں کو امن خراب کرنے نہیں دیں گے، عطا اللہ تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنوں کو اڈیالہ جیل کے اطراف ماحول کشیدہ کرنے کی اجازت نہیں دے گی اور جیل قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہیں ملے گی۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی مسلسل جھوٹے بیانیے کے ذریعے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے،فیلڈ مارشل اور نوٹیفکیشن کے حوالے سے سوشل میڈیا پر جو پروپیگنڈا چلایا گیا، وہ مکمل طور پر بے بنیاد ہے، ایسی مہمیں چلانے والوں کو شرمندگی ہونی چاہیے ۔
وفاقی وزیر اطلاعات کے مطابق ملک کا دفاع پہلے سے زیادہ مضبوط ہوا ہے اور پاکستان نے حالیہ دنوں میں اہم اسٹرکچرل تبدیلیاں کر کے دشمن کو واضح پیغام دے دیا ہے۔ ان کے مطابق تمام فورسز کے لیے متحدہ کمانڈ قائم کی جا چکی ہے جس سے دفاعی رابطے اور فیصلے مزید موثر ہو گئے ہیں۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ بھارت کے ساتھ حالیہ تنازع میں پاکستان نے خود کو ثابت کیا ہے اور ہمیں واضح طور پر فتح ملی ہے، ان کے مطابق مشرقی اور مغربی دونوں سرحدیں محفوظ بنا دی گئی ہیں اور اب کوئی دشمن پاکستان کی طرف میلی نظر ڈالنے کی جرات نہیں کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کسی سیاسی جماعت کو قانون سے تجاوز کرنے کی اجازت نہیں دے سکتی اور اڈیالہ جیل کے باہر اشتعال انگیزی یا امن خراب کرنے کی کوششوں کا سختی سے نوٹس لیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عطا اللہ تارڑ کرنے کی نے کہا
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔