فیض حمید سے متعلق فیصلہ اسی دسمبر میں آجائے گا: رانا ثناء اللہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک)سینیٹر رانا ثناء اللہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ کے پی نے آپریشن میں رکاوٹیں،دہشتگردوں کی سہولت کاری کی توانکا کوئی مستقبل نہیں ہے، اگر سہیل آفریدی تقریروں کی حد تک سیاست کرتے ہیں تو اس کی اجازت ہونی چاہیے ۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کوسابق وزیراعظم کے پروٹوکول کے مطابق بی کلاس اور سہولیات ان کا حق ہے، ملاقات کی حد تک رہیں تو ملاقات سے نہیں روکنا چاہیے، بانی سے ملاقات میں احتجاج،گورنمنٹ کیخلاف تحریک،دہشتگردی سے سہولت کاری سے متعلق لائحہ عمل کیلئے ہے تو ملاقات نہیں ہونی چاہیے، ہماری معلومات کے مطابق فیض حمید سے متعلق فیصلہ اسی دسمبر میں آجائے گا، فیض حمید کی سزا سے متعلق کوئی پیشگوئی نہیں کرنی چاہیے۔
رانا ثنااللہ کا کہناتھا کہ سی ڈی ایف حساس ،قومی سیکیورٹی سےمتعلق بہت ہی اہمیت کا حامل ادارہ بننےجارہا ہے، چیف آف ڈیفنس اسٹاف کے عہدہ کیلئےقانون تبدیل کیا گیا، سی ڈی ایف کیلئے ریگولیشنز اور رولز فریم ہونے ہیں، سی ڈی ایف کےرولزکیلئے بہت زیادہ احتیاط درکار ہے ، سی ڈی ایف نوٹیفکیشن میں تاخیرسےمتعلق قیاس آرائیوں میں صداقت نہیں، بیرون ملک سے پاکستان مخالف مواد پھیلانے والے افراد کی فہرست میں اضافہ ہو گا، قومی سلامتی سے متعلق بیرون ملک سے پروپیگنڈا کرنے کی اجازت نہیں دیں گے ، قومی سلامتی سے متعلق پروپیگنڈا کرنے کی کوئی بھی قانون اجازت نہیں دیتا، سہیل آفریدی اگر نیشنل سیکیورٹی کے راستے میں حائل ہوئے تو ان کا سیاسی مستقبل تاریک ہو گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
لاہور : پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا۔رانا سکندر حیات نے ستمبر کے پہلے ہفتے سے انگلش اور کیمسٹری سمیت دیگر مضامین کی تدریس کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں ستمبر کے پہلے ہفتے سے کلاس کو پڑھاناشروع کروں گا، انگلش اور کیمسٹری میرے پسندیدہ مضمون ہیں لہٰذا ان ہی مضامین سے شروع کروں گا۔وزیر تعلیم نے کہنا ہےکہ پرائمری اسکولوں میں انگلش اور ہائی اسکولوں میں کیمسٹری سے آغاز کروں گا جب کہ انگلش اور کیمسٹری کے علاؤہ دیگرمضامین کی بھی تدریس کروں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر ہفتے کسی ایک اسکول میں بغیر پیشگی اطلاع پڑھانے جاؤں گا، اساتذہ کی عزت کرتا ہوں، استاد بن کر فخر محسوس کروں گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے تعلیمی معیار کو جانچ کر تدریسی کمزوریاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔