بھارت سے بیدخل کیے گئے معروف مصور ایم ایف حسین کا میوزیم ’لوح و قلم قطر‘ میں تیار
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
بھارت میں انتہا پسندی، بے قدری اور جلاوطنی کے دوران ہی انتقال کر جانے والے ایم ایف حسین کی فنکارانہ میراث کو قطر میں مستقل گھر مل گیا۔
بھارت کے عالمی شہرت یافتہ مصور ایم ایف حسین کی زندگی اور تخلیقی سفر کو بالآخر وہ مقام مل گیا جس کے وہ حقدار تھے۔
قطر کے ایجوکیشن سٹی میں قائم ہونے والا “لوح و قلم: ایم ایف حسین میوزیم” کو عوام کے لیے کھول دیا گیا۔
جہاں ایم ایف حسین کے آخری برسوں میں تخلیق کیے گئے شاہکار اب مستقل طور پر نمائش کے لیے رکھے گئے ہیں۔
انتہاپسند ہندوؤں کے حملے اور قانونی معاملات کے باعث ایم ایف حسین 2006 میں بھارت چھوڑنے پر مجبور ہوگئے تھے۔
اُس پُرآشوب دور میں قطر نے نہ صرف انہیں پناہ دی بلکہ 2010 میں غیر معمولی طور پر شہریت بھی دیدی تھی۔
آج وہی سرزمینِ قطر ان کے فن، جدت اور جرات کو ایک یادگار ادارے کی صورت محفوظ کر رہی ہے۔
میوزیم میں عرب تہذیب پر مبنی 35 شاہکار جن میں جنگ بدر اور درب فلکیات پر مشتمل پینٹگز رکھی گئی ہے۔
علاوہ ازیں ایم ایف حسین کی ذاتی اشیاء، فلمیں اور مشہور ملٹی میڈیا انسٹالیشن بھی رکھی گئی ہیں۔
میوزیم کے افتتاح کے موقع پر قطر فاؤنڈیشن کی چیئرپرسن شیخہ موزه بنت ناصر نے ایم ایف حسین کو "ثقافتوں کو جوڑنے والا” فنکار قرار دیا۔
ہندوستانی آرٹ کے تناظر میں یہ میوزیم ایک علامتی لمحہ ہے ایک ایسے فنکار کی یادگار جس نے جدید آرٹ کو نئی سمت دی مگر سیاسی ماحول کے باعث اپنے وطن لوٹ نہ سکا۔
فنکار کے قریبی دوست اور محققین کا ماننا ہے کہ یہ میوزیم ایم ایف حسین کے اس روشن مستقبل کی عکاسی کرتا ہے جس کی طرف وہ ہمیشہ دیکھتے رہے۔
دوحہ کا میوزیم نہ صرف ایم ایف حسین کی میراث کا مستقل گھر ہے بلکہ خطے کے طلبا، محققین اور آرٹ سے وابستہ افراد کے لیے ایک اہم ثقافتی حوالہ بھی ثابت ہوگا۔
یاد رہے کہ ایم ایف حسین 5 جون 2011 کو لندن میں مختصر علالت کے بعد 95 سال کی عمر میں انتقال کرگئے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایم ایف حسین حسین کی
پڑھیں:
جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
جاپان نے شدید گرمی میں کام کرنے والے افراد کے لیے ایک منفرد ٹھنڈا کرنے والا کیبن متعارف کرا دیا ہے جسے ‘انسانی ریفریجریٹر’ کہا جا رہا ہے۔
یہ آلہ چند منٹ میں جسم کا درجہ حرارت کم کرنے میں مدد دیتا ہے اور خاص طور پر تعمیراتی شعبے، فیکٹریوں اور کھلے مقامات پر کام کرنے والے افراد کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں بڑھتی گرمی انسانی دماغ پر کیا اثر ڈال رہی ہے؟
جاپانی کمپنیوں کی تیار کردہ اس مشین کو ‘دو ہائیمون باکس’ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ایک چھوٹے کمرے یا کیبن کی طرح ہے جس میں ایک شخص داخل ہوکر گرمی سے فوری راحت حاصل کرسکتا ہے۔ اس کے اندر درجہ حرارت تقریباً 15 ڈگری سینٹی گریڈ رکھا جاتا ہے جبکہ ٹھنڈی ہوا سر، گردن، کندھوں اور کمر کی جانب پھینکی جاتی ہے۔
کمپنی کے مطابق چند منٹ کے استعمال سے جسم کو ٹھنڈک کا احساس ہونا شروع ہوجاتا ہے، جبکہ تقریباً 10 منٹ تک اس میں رہنے سے شدید گرمی کے اثرات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ یہ نظام پورے کمرے کو ٹھنڈا کرنے کے بجائے صرف انسان کے جسم کو ٹھنڈا کرنے پر توجہ دیتا ہے، جس سے توانائی کی بچت بھی ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ریفریجریٹر سے پہلے پانی ٹھنڈا کرنے کی سعودی صحرائی ایجاد کیا تھی؟
یہ ایجاد ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جاپان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں شدید گرمی کی لہریں بڑھ رہی ہیں اور بیرونی کام کرنے والے افراد کو گرمی سے متعلق مسائل کا سامنا ہے۔
‘دو ہائیمون باکس’ کو کاروباری اداروں کے لیے فروخت کیا جا رہا ہے اور اسے فیکٹریوں، تعمیراتی مقامات اور دیگر گرم ماحول والی جگہوں پر استعمال کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news انسانی فریج جاپان گرمی