عمران خان سے ملاقات کرنے والے جیل رولز کے مطابق سیاسی گفتگو نہیں کر سکتے، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
عمران خان سے ملاقات کرنے والے جیل رولز کے مطابق سیاسی گفتگو نہیں کر سکتے، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ WhatsAppFacebookTwitter 0 4 December, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان جیل رولز کے مطابق سیاسی گفتگو نہیں کرسکتے کیونکہ رولز میں واضح لکھا ہے کہ ملاقات میں جو بھی بات ہوگی اس کو پبلک نہیں کیا جا سکتا۔
وفاقی وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آج کل بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی جیل میں ملاقاتوں سے متعلق ایک بات بہت بار دہرائی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ابھی اسلام آباد کی جیل آپریشنل نہیں ہوئی، اڈیالہ جیل پنجاب میں ہے اور وہاں بھی ہماری حکومت ہے اس لیے بات ہوتی ہے، جیل مینوئل کے تحت ملاقاتیں ہوتی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ رول 265 کے تحت ایک ہفتے میں ایک بار ملاقات ہو سکتی ہے، ملاقات کرنے والوں کی تعداد 6 ہوگی، ہفتے میں ایک چٹھی بھی لکھ سکتے ہیں اور وہ جیل رولز کے مطابق سیاسی گفتگو نہیں کر سکتے کیونکہ رولز میں واضح لکھا ہے کہ ملاقات میں جو بھی بات ہوگی اس کو پبلک نہیں کیا جا سکتا۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی ایک سزا یافتہ مجرم ہیں، قیدی کو بغیر نگرانی کے ملاقات کی اجازت نہیں ہوتی، رول557 کے تحت اگر سپرنٹنڈنٹ اگر قواعد کے مطابق ملاقات نہ سمجھیں وہ اسے ختم کر سکتے ہیں، اگر سپرنٹنڈنٹ کو امن وامان، نقص امن، انتشار کا خدشہ ہو تو وہ ملاقات روک سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جو آج قانون ہے وہ دہائیوں سے موجود ہے، ایک جج نے ان رولز کو معطل کیا تھا، جب نواز شریف جیل میں تھے تو انہیں اڈیالہ میں ملاقات کی اجازت تھی مگر کوٹ لکھپت میں اجازت نہیں تھی۔اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ اس وقت کے وزیراعظم بانی پی ٹی آئی نے کہا تھا کہ ایک سزا یافتہ مجرم ہو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی، وہ سپریم کورٹ میں کیس لے کر گئے اور سپریم کورٹ نے اس حوالے سے فیصلہ بھی دیا اور اس فیصلے کے تحت انہیں صدر کے عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور مریم نواز ایک جیل میں ہونے کے باوجود مل نہیں سکتے تھے، ہم دو وکلا کو ہفتے میں ایک مرتبہ ایک گھنٹے کی ملاقات کی اجازت ملی مگر اس کی شرائط تھیں کہ ہم سے باقاعدہ انڈر ٹیکنگ لی گئی تھی اور ہم نے کبھی ملاقات کے بعد اس حوالے سے انٹرویو نہیں دیے۔عمران خان کے بطور وزیراعظم دیے گئے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے امریکا جا کر عوامی اجتماع میں جیل سے پنکھے اتروانے کی بات کی تھی۔ایک سوال پر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ وزیراعلی خیبرپختونخوا کا یہ بیان کہ ہم نے کابینہ تشکیل دینی ہے یہی مخالفت ہے، آپ ایک طرف کہتے ہیں کہ انصاف چاہتے ہیں مگر خود قانونی فریم ورک میں نہیں آتے، اگر کسی نے جیل توڑنے کی کوشش یا ایسا سوچا بھی تو پھر ریاست اپنا ردعمل دے گی۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی 190 ملین پاونڈ میگا کرپشن کیس میں سزایافتہ قیدی ہیں، پی ٹی آئی کی خاتون رہنما نے بھارتی میڈیا اور افغان میڈیا پر کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی جان خطرے میں ہے۔انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو جیل میں اضافی سہولیات دستیاب ہیں، ملکی تاریخ میں کسی قیدی کو بانی پی ٹی آئی جیسی سہولیات میسر نہیں،کسی قیدی کو قید میں بائیسکل نہیں ملی، انہوں نے منہ پر ہاتھ پھیر کر کہا تھا کہ میں اے سی اترواں گا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے انٹرنیشنل میڈیا میں یہ پروپیگنڈا کر رہے ہیں، بانی پی ٹی آئی کی تینوں بہنیں 9 مئی کو کور کمانڈر ہاوس لاہور کے باہر موجود تھیں، ان کی موجودگی وہاں ثابت ہے، رولز میں کسی قیدی سے سیاسی گفتگو کی گنجائش نہیں ہے۔
وزیراطلاعات نے کہا کہ رپورٹ ہوا ہے کہ عمران خان کی بہنیں ملاقات کے بعد سیاسی گفتگو کرتی ہیں لہذا عظمی خان کی ملاقات بند ہے، رولز کی خلاف ورزی کرنے والوں کی ملاقات پر پابندی عائد ہے اور جیل کے باہر امن و امان کی صورت حال خراب کی گئی تو سختی سے نمٹا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اندر سے پیغام آتا ہے کہ فوج اور فوج کے سربراہ کے خلاف ٹویٹ کرو، یہ مایوسی کا شکار ہیں، پی ٹی آئی دور میں ماں، بہنوں اور بیٹیوں کو گرفتار کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ ملاقاتوں کا مقصد قانونی بحث، حال احوال پوچھنا ہوتا ہے، جیل میں بیٹھ کر آپ ریاست کو گرانے کی بات کرتے ہیں، آپ کس ریاست کو گرانے کی بات کرتے ہیں، اس ریاست کو جس نے بھارت کو شکست دی، ایسٹرن اور ویسٹرن بارڈر مضبوط کیا۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں ملک کا دفاع کمزور ہو، ملک ڈیفالٹ کرے، ہمارے دور میں اکانومی بہتر ہوئی، زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم ہوئے، آپ کا مقصد صرف میں، میں، میں ہے، انا پرستی اور اپنی ذات کے آگے ملک کے مفاد کو قربان کرنا ان کا مقصد ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک ان کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا، آدمی کو صاحب کردار ہونا چاہیے، ان کا نہ کردار ہے، نہ صاحب ہے نہ آدمی ہے، یہ چاہتے ہیں کہ ان کے ذاتی مفاد کی خاطر ملک کے مفاد کو قربان کیا جائے، اس کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ ایک شخص 190ملین پانڈز کے کیس میں سزا یافتہ ہے، یہ شخص فرعون بن کے منہ پر ہاتھ پھیر کے کہتا تھا کہ میں پنکھے اترواوں گا، پورے وثوق کے ساتھ کہتا ہوں کہ یہ قیدی سب سے مراعات یافتہ قیدی ہے، اس قیدی کو جیل میں تمام سہولیات میسر ہیں، ان کی تینوں بہنیں جیل میں جاتی ہیں اور باہر نکل کے ٹویٹس کرواتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج کے بعد جس نے قانون کی خلاف ورزی کی اس کی ملاقات پر پابندی ہوگی، ان کی بہن پر پابندی عائد ہوگئی ہے، جو اڈیالہ کے باہر امن و امان کا مسئلہ پیدا کرے گا ان سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا، ہم بھی جیل جاتے تھے مگر کبھی یہ رویہ نہیں دکھایا، کبھی راستے بند نہیں کیے۔
عطااللہ تارڑ نے کہا کہ یہ سب صرف ایک ذات کے لیے لڑ رہے ہیں، وزیراعلی خیبر پختونخوا آج این ایف سی کی میٹںگ میں آئے ہیں جو خوش آئند ہے، یہ ان کا آئینی حق ہے، یہی ان کا اصل کام ہے، انہیں مبارک باد پیش کرتا ہوں، انہوں نے بہت اچھا کام کیا کہ وہ سڑک سے اٹھ کر کمروں میں آ کر میٹنگز کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایپکس کمیٹی کی میٹنگ جب بلائی جاتی ہے تو وہ اس میں شرکت کر کے اپنا کردار ادا کریں، وزیراعظم نے کئی مرتبہ اس آفر کو دہرایا ہے کہ ہم صوبے اور صوبے کے عوام کی بہتری کے لیے مل کر کام کرنے کو تیار ہیں۔ وزیراطلاعات نے کہا کہ وزیراعلی خیبر پختونخوا آج آئے ہیں، ہم انہیں ویلکم کرتے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسی ڈی اے اور پاکستان کرکٹ بورڈکے مابین اسلام آباد میں کرکٹ گراونڈز کی اپ گریڈیشن کے حوالے سے مفاہمتی یادداشت پر دستخط سی ڈی اے اور پاکستان کرکٹ بورڈکے مابین اسلام آباد میں کرکٹ گراونڈز کی اپ گریڈیشن کے حوالے سے مفاہمتی یادداشت پر دستخط امریکا میں اسلحہ رکھنے اور حملے کی منصوبہ بندی پر گرفتار شخص پاکستانی نہیں، افغان شہری نکلا جو جج انصاف فراہم نہیں کر سکتے انہیں عہدہ چھوڑ دینا چاہیے، علیمہ خان تین صوبوں کو حق دیا جارہا ہے مگر ہمارا صوبہ محروم ہے، وزیراعلی خیبرپختونخوا این ایف سی اجلاس، ایف بی آر نے ٹیکس وصولیوں کا 5فیصد صوبوں کو دینے کی مخالفت کردی پاکستان اور کرغزستان کے درمیان مختلف شعبوں میں 15مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخطCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہا کہ بانی پی ٹی آئی قانون اعظم نذیر تارڑ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کہا کہ تارڑ نے کہا کہ نہیں کر سکتے اسلام آباد وفاقی وزیر اجازت نہیں کی ملاقات حوالے سے قیدی کو جیل میں کے تحت کے لیے
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔