اسلام آباد:

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان جیل رولز کے مطابق سیاسی گفتگو نہیں کرسکتے کیونکہ رولز میں واضح لکھا ہے کہ ملاقات میں جو بھی بات ہوگی اس کو پبلک نہیں کیا جا سکتا۔

وفاقی وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آج کل بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی جیل میں ملاقاتوں سے متعلق ایک بات بہت بار دہرائی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ابھی اسلام آباد کی جیل آپریشنل نہیں ہوئی، اڈیالہ جیل پنجاب میں ہے اور وہاں بھی ہماری حکومت ہے اس لیے بات ہوتی ہے، جیل مینوئل کے تحت ملاقاتیں ہوتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ رول 265 کے تحت ایک ہفتے میں ایک بار ملاقات ہو سکتی ہے، ملاقات کرنے والوں کی تعداد 6 ہوگی، ہفتے میں ایک چٹھی بھی لکھ سکتے ہیں اور وہ جیل رولز کے مطابق سیاسی گفتگو نہیں کر سکتے کیونکہ رولز میں واضح لکھا ہے کہ ملاقات میں جو بھی بات ہوگی اس کو پبلک نہیں کیا جا سکتا۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی ایک سزا یافتہ مجرم ہیں، قیدی کو بغیر نگرانی کے ملاقات کی اجازت نہیں ہوتی، رول557 کے تحت اگر سپرنٹنڈنٹ اگر قواعد کے مطابق ملاقات نہ سمجھیں وہ اسے ختم کر سکتے ہیں، اگر سپرنٹنڈنٹ کو امن وامان، نقص امن، انتشار کا خدشہ ہو تو وہ ملاقات روک سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جو آج قانون ہے وہ دہائیوں سے موجود ہے، ایک جج نے ان رولز کو معطل کیا تھا، جب نواز شریف جیل میں تھے تو انہیں اڈیالہ میں ملاقات کی اجازت تھی مگر کوٹ لکھپت میں اجازت نہیں تھی۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ اس وقت کے وزیراعظم بانی پی ٹی آئی نے کہا تھا کہ ایک سزا یافتہ مجرم ہو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی، وہ سپریم کورٹ میں کیس لے کر گئے اور سپریم کورٹ نے اس حوالے سے فیصلہ بھی دیا اور اس فیصلے کے تحت انہیں صدر کے عہدے سے ہٹایا گیا تھا،

انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور مریم نواز ایک جیل میں ہونے کے باوجود مل نہیں سکتے تھے، ہم دو وکلا کو ہفتے میں ایک مرتبہ ایک گھنٹے کی ملاقات کی اجازت ملی مگر اس کی شرائط تھیں کہ ہم سے باقاعدہ انڈر ٹیکنگ لی گئی تھی اور ہم نے کبھی ملاقات کے بعد اس حوالے سے انٹرویو نہیں دیے۔

عمران خان کے بطور وزیراعظم دیے گئے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے امریکا جا کر عوامی اجتماع میں جیل سے پنکھے اتروانے کی بات کی تھی۔

ایک سوال پر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ وزیراعلی خیبرپختونخوا کا یہ بیان کہ ہم نے کابینہ تشکیل دینی ہے یہی مخالفت ہے، آپ ایک طرف کہتے ہیں کہ انصاف چاہتے ہیں مگر خود قانونی فریم ورک میں نہیں آتے، اگر کسی نے جیل توڑنے کی کوشش یا ایسا سوچا بھی تو پھر ریاست اپنا ردعمل دے گی۔

عظمیٰ خان کو بھی عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں ہوگی، عطااللہ تارڑ

وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی 190 ملین پاؤنڈ میگا کرپشن کیس میں سزایافتہ قیدی ہیں، پی ٹی آئی کی خاتون رہنما نے بھارتی میڈیا اور افغان میڈیا پر کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی جان خطرے میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو جیل میں اضافی سہولیات دستیاب ہیں، ملکی تاریخ میں کسی قیدی کو بانی پی ٹی آئی جیسی سہولیات میسر نہیں،کسی قیدی کو قید میں بائیسکل نہیں ملی، انہوں نے منہ پر ہاتھ پھیر کر کہا تھا کہ میں اے سی اترواؤں گا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے انٹرنیشںل میڈیا میں یہ پروپیگنڈا کر رہے ہیں، بانی پی ٹی آئی کی تینوں بہنیں 9 مئی کو کور کمانڈر ہاؤس لاہور کے باہر موجود تھیں، ان کی موجودگی وہاں ثابت ہے، رولز میں کسی قیدی سے سیاسی گفتگو کی گنجائش نہیں ہے۔

وزیراطلاعات نے کہا کہ رپورٹ ہوا ہے کہ عمران خان کی بہنیں ملاقات کے بعد سیاسی گفتگو کرتی ہیں لہذا عظمیٰ خان کی ملاقات بند ہے، رولز کی خلاف ورزی کرنے والوں کی ملاقات پر پابندی عائد ہے اور جیل کے باہر امن و امان کی صورت حال خراب کی گئی تو سختی سے نمٹا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اندر سے پیغام آتا ہے کہ فوج اور فوج کے سربراہ کے خلاف ٹویٹ کرو، یہ مایوسی کا شکار ہیں، پی ٹی آئی دور میں ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو گرفتار کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ملاقاتوں کا مقصد قانونی بحث، حال احوال پوچھنا ہوتا ہے، جیل میں بیٹھ کر آپ ریاست کو گرانے کی بات کرتے ہیں، آپ کس ریاست کو گرانے کی بات کرتے ہیں، اس ریاست کو جس نے بھارت کو شکست دی، ایسٹرن اور ویسٹرن بارڈر مضبوط کیا۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں ملک کا دفاع کمزور ہو، ملک ڈیفالٹ کرے، ہمارے دور میں اکانومی بہتر ہوئی، زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم ہوئے، آپ کا مقصد صرف ”میں، میں، میں“ ہے، انا پرستی اور اپنی ذات کے آگے ملک کے مفاد کو قربان کرنا ان کا مقصد ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک ان کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا، آدمی کو صاحب کردار ہونا چاہیے، ان کا نہ کردار ہے، نہ صاحب ہے نہ آدمی ہے، یہ چاہتے ہیں کہ ان کے ذاتی مفاد کی خاطر ملک کے مفاد کو قربان کیا جائے، اس کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک شخص 190ملین پاؤنڈز کے کیس میں سزا یافتہ ہے، یہ شخص فرعون بن کے منہ پر ہاتھ پھیر کے کہتا تھا کہ میں پنکھے اترواوں گا، پورے وثوق کے ساتھ کہتا ہوں کہ یہ قیدی سب سے مراعات یافتہ قیدی ہے، اس قیدی کو جیل میں تمام سہولیات میسر ہیں، ان کی تینوں بہنیں جیل میں جاتی ہیں اور باہر نکل کے ٹویٹس کرواتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج کے بعد جس نے قانون کی خلاف ورزی کی اس کی ملاقات پر پابندی ہوگی، ان کی بہن پر پابندی عائد ہوگئی ہے، جو اڈیالہ کے باہر امن و امان کا مسئلہ پیدا کرے گا ان سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا، ہم بھی جیل جاتے تھے مگر کبھی یہ رویہ نہیں دکھایا، کبھی راستے بند نہیں کیے۔

عطااللہ تارڑ نے کہا کہ یہ سب صرف ایک ذات کے لیے لڑ رہے ہیں، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا آج این ایف سی کی میٹںگ میں آئے ہیں جو خوش آئند ہے، یہ ان کا آئینی حق ہے، یہی ان کا اصل کام ہے، انہیں مبارک باد پیش کرتا ہوں، انہوں نے بہت اچھا کام کیا کہ وہ سڑک سے اٹھ کر کمروں میں آ کر میٹنگز کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایپکس کمیٹی کی میٹنگ جب بلائی جاتی ہے تو وہ اس میں شرکت کر کے اپنا کردار ادا کریں، وزیراعظم نے کئی مرتبہ اس آفر کو دہرایا ہے کہ ہم صوبے اور صوبے کے عوام کی بہتری کے لیے مل کر کام کرنے کو تیار ہیں۔

وزیراطلاعات نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا آج آئے ہیں، ہم انہیں ویلکم کرتے ہیں۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہا کہ بانی پی ٹی آئی ان کا کہنا تھا کہ ملاقات کی اجازت انہوں نے کہا کہ تارڑ نے کہا کہ سیاسی گفتگو اجازت نہیں وفاقی وزیر کی ملاقات کے مطابق جیل میں قیدی کو کے تحت کے لیے

پڑھیں:

خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟

پاکستان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف خارجہ محاذ پر سفارتی کامیابیوں کے دعوے کیے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب ملک کے اندر سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی کے بحران گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ کسی بھی ریاست کی اصل طاقت اس کی اندرونی مضبوطی ہوتی ہے۔ اگر گھر کے اندر بے چینی، عدم استحکام اور عوامی بے اعتمادی بڑھ جائے تو دنیا میں حاصل ہونے والی سفارتی کامیابیاں بھی دیرپا ثابت نہیں ہوتیں۔
بین الاقوامی تعلقات میں ایک معروف اصول ہے کہ “All foreign policy begins at home یعنی خارجہ پالیسی کی بنیاد مضبوط داخلی استحکام پر ہوتی ہے۔ اگر بلوچستان، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور ملک کے دیگر حصوں میں عوام خود کو غیر محفوظ، محروم یا نظرانداز محسوس کریں تو بیرونی دنیا میں پاکستان کا مقف بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔بلوچستان اس وقت پاکستان کی سلامتی اور معیشت کا سب سے اہم خطہ ہے۔ سی پیک، گوادر پورٹ، ریکوڈک، معدنی وسائل اور دیگر اسٹریٹجک منصوبے اسی صوبے سے وابستہ ہیں۔ لیکن افسوس کہ یہی صوبہ بدامنی، سیاسی بے اعتمادی اور احساسِ محرومی کا شکار ہے۔ ریاست اور عوام کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کسی بھی ترقیاتی منصوبے کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
اسی طرح خیبر پختونخوا میں دہشت گردی ہو رہی ہے جبکہ آزاد کشمیر میں حالیہ سیاسی کشیدگی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ یہ تمام مسائل محض انتظامی نہیں بلکہ سیاسی نوعیت کے ہیں جن کا حل طاقت کے استعمال سے زیادہ سیاسی مکالمے، بہتر حکمرانی اور عوامی اعتماد کی بحالی میں پوشیدہ ہے۔
اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ بلوچستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر میں پیدا ہونے والے حالات کے پیچھے بھارت کا کردار موجود ہے۔ اس امکان کو یکسر مسترد نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ہر ملک اپنے مفادات کے مطابق مخالف ریاست کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے داخلی مسائل کا ذمہ دار ہمیشہ بیرونی قوتوں کو قرار دے کر اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ ہو سکتے ہیں؟
اگر بھارت پاکستان کے خلاف سرگرم ہے تو اس کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کے پاس مضبوط انٹیلی جنس ادارے، دفاعی صلاحیت اور قومی سلامتی کا پورا نظام موجود ہے۔خاص طور پر بلوچستان میں اصل مسئلہ سیاسی جواز کا ہے۔ جب عوام کو یہ احساس ہو کہ ان کی رائے اور ووٹ کی اہمیت کم ہو رہی ہے تو ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھنے لگتے ہیں۔ نوجوان نسل میں احساسِ محرومی کا بڑھنا کسی بھی ملک کے لیے خطرناک رجحان ہے۔ پاکستان کو ایسی صورتحال سے ہر قیمت پر بچنا ہوگا۔
آزاد کشمیر کی صورتحال بھی قومی توجہ کی متقاضی ہے۔ یہ محض ایک انتظامی یا علاقائی معاملہ نہیں بلکہ مسئلہ کشمیر سے جڑا ہوا ایک حساس پہلو ہے۔ اگر آزاد کشمیر کے عوام میں بے چینی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات مقبوضہ کشمیر تک بھی پہنچتے ہیں اور پاکستان کے اصولی مقف کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام کی آواز کو سننا اور سیاسی مسائل کا آئینی و جمہوری حل تلاش کرنا ناگزیر ہے۔
پاکستان کو اس وقت الزام تراشی سے زیادہ خود احتسابی کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ کون سی کمزوریاں ہیں جن سے ہمارے مخالف فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اگر ہم اپنے گھر کو منظم، مضبوط اور منصفانہ بنا لیں تو بیرونی سازشیں خود بخود ناکام ہو جائیں گی۔
ریاست کی طاقت صرف اس کے ہتھیاروں، اداروں یا سفارتی تعلقات سے نہیں بلکہ اپنے عوام کے اعتماد سے بنتی ہے۔ جب عوام اور ریاست ایک صفحے پر ہوں تو دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ لیکن اگر داخلی تقسیم، سیاسی کشیدگی اور احساسِ محرومی بڑھتا رہا تو بیرونی کامیابیاں بھی وقتی ثابت ہوں گی۔
آج پاکستان کو سب سے زیادہ ضرورت ایک ایسی قومی حکمت عملی کی ہے جس میں خارجہ کامیابیوں کے ساتھ ساتھ داخلی استحکام، آئینی بالادستی، بہتر حکمرانی، سیاسی مفاہمت اور عوامی اعتماد کی بحالی کو اولین ترجیح دی جائے۔ کیونکہ مضبوط پاکستان کی بنیاد اسلام آباد کے سفارتی ایوانوں میں نہیں بلکہ بلوچستان، خیبر پختونخوا، سندھ، پنجاب، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے عوام کے دلوں میں رکھی جائے گی۔
پاکستان کو اپنی علاقائی خارجہ پالیسی کا بھی غیر جانبدارانہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ خصوصا افغانستان کے ساتھ مسلسل کشیدہ تعلقات کے نتیجے میں ہونے والے جانی، معاشی اور سفارتی نقصانات پر سنجیدہ غور ہونا چاہیے۔ گزشتہ برسوں میں سرحدی کشیدگی، دہشت گردی، مہاجرین کے مسائل اور سرحدی بندشوں نے دونوں ممالک کو نقصان پہنچایا ہے۔ ایک وقت تھا جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سالانہ تجارت تقریبا پانچ سے چھ ارب ڈالر تک پہنچ چکی تھی، مگر کشیدہ تعلقات کے باعث اس میں نمایاں کمی آئی جس کا براہِ راست اثر پاکستان کی معیشت، برآمدات اور سرحدی علاقوں کے کاروبار پر پڑا۔ یہ سوال اہم ہے کہ کیا پاکستان کی معیشت ایسے نقصانات کی متحمل ہو سکتی ہے؟ کیا ہمسایہ ممالک کے ساتھ مستقل کشیدگی قومی مفاد میں ہے یا اس سے نقصان زیادہ اور فائدہ کم ہوتا ہے؟ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی علاقائی پالیسیوں پر ازسرِنو غور کرے۔ مضبوط خارجہ پالیسی وہی ہوتی ہے جو قومی سلامتی کے ساتھ ساتھ اقتصادی مفادات، علاقائی تعاون اور پائیدار امن کو بھی ترجیح دے۔

متعلقہ مضامین

  • پانچ اگست کا جلسہ فیصلہ کن ہوگا، آئندہ لائحہ عمل قوم کے سامنے رکھا جائے گا: سہیل آفریدی
  • اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی اہم ملاقات، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • اسحاق ڈار کی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات، علاقائی امن و استحکام پر تبادلہ خیال
  • کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی
  • قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟