گٹر کے ڈھکن چوری کرنے والوں کو موقع پر لا کر گولی ماری جائے، خواجہ آصف شدید غصے میں
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ گٹر کے ڈھکن چوری کرنے والوں کو موقع پر لا کر گولی ماری جائے۔
خواجہ آصف نے سماجی رابطے کی سائٹ ’ایکس‘ پر ایک ویڈیو پوسٹ کی، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک گدھا گاڑی پر سوار خاتون اور دو لڑکے گٹر کے پاس آکر رکتے ہیں اور ڈھکن چوری کر لیتے ہیں۔
اگر ان لوگوں کا وڈیو ریکارڈ بنا ھوا ھے تو انکو موقع واردات پہ لا کر گولی ماریں۔ یہ معصوم بچوں کے قاتل ھیں۔ اگر اسکے باوجود کوئ ایکشن نہیں تو سسٹم بھی ان بچوں کے قتل کا سہولت کار ھے۔ https://t.
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) December 5, 2025
اسی طرح ایک چنگچی رکشے والا شخص ایک گٹر کے پاس آکر رکتا ہے، اور نیچے اتر کر حالات کا جائزہ لینے کے بعد گٹر کا ڈھکن لے کر چلتا بنتا ہے۔
اسی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کار میں سوار ہو کر آنے والے دو افراد بھی گٹر کا ڈھکن چوری کر لیتے ہیں، اور آرام سے گاڑی کی ڈگی میں رکھ کر چلے جاتے ہیں۔
خواجہ آصف نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ اگر ان لوگوں کا وڈیو ریکارڈ بنا ہوا ہے تو ان کو موقع واردات پر لا کر گولی ماردیں، کیوں کہ یہ معصوم بچوں کے قاتل ہیں۔
انہوں نے مزید کہاکہ اگر اس کے باوجود کوئی ایکشن نہیں ہوتا تو سسٹم بھی ان بچوں کے قتل کا سہولت کار ہے۔
واضح رہے کہ حال ہی میں کراچی میں ایک کھلے گٹر میں گر کر ایک بچے کی موت واقع ہوئی ہے، جس نے سب کو ہلا کر رکھ دیا۔
بچے کی ناگہانی موت پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے بچے کے خاندان سے معذرت کرلی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews خواجہ آصف گٹر کا ڈھکن وزیر دفاع وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: خواجہ ا صف گٹر کا ڈھکن وزیر دفاع وی نیوز خواجہ ا صف لا کر گولی کو موقع بچوں کے گٹر کے
پڑھیں:
’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء
پشاور (بیورو رپورٹ) وزیراعلیٰ خیبر پی کے محمد سہیل آفریدی نے ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا باضابطہ اجراء کر دیا۔ جو 5 سٹریٹجک ستونوں، 9کلیدی اہداف، 32 تھیمیٹک ڈومینز، 915 سٹریٹجک اقدامات پر مشتمل ہے۔اس پالیسی کے تحت حکومتی خدمات مرحلہ وار آن لائن اور Citizen-Centric بنائے جائیں گی۔ پیپر لیس گورننس کے ذریعے شفافیت، جوابدہی اور سرکاری کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ ایک لاکھ سے زائد نوجوانوں کو AI اور ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت دی جائے گی۔ گرین آئی سی ٹی، کاربن فٹ پرنٹ میں کمی اور کاربن کریڈٹ رجسٹری پر کام کیا جائے گا۔ ڈیجیٹل اصلاحات سے عوام کو سرکاری دفاتر کے غیر ضروری چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔