ایران کا فیفا ورلڈکپ ڈرا کے بائیکاٹ کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
ایران نے آئندہ ہفتے واشنگٹن میں ہونے والی فیفا ورلڈ کپ فائنلز کی ڈراز تقریب کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے۔
ایرانی فٹبال فیڈریشن کے ترجمان نے سرکاری ٹیلی ویژن پر بتایا کہ امریکا کا ایرانی وفد کو ویزے جاری کرنے سے انکار کا فیصلہ کھیل سے ہٹ کر سیاسی نوعیت کا ہے، اس لیے ایرانی نمائندے ڈراز میں شرکت نہیں کریں گے۔
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی حکام نے ایرانی فٹبال فیڈریشن کے صدر مہدی تاج سمیت کئی اہم شخصیات کو ویزے دینے سے انکار کردیا ہے تاہم قومی ٹیم کے کوچ امیر قلنویی سمیت چار افراد کو 5 دسمبر کی تقریب کے لیے ویزے جاری کردیے گئے ہیں۔
مہدی تاج نے امریکی فیصلے کو مکمل طور پر سیاسی قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے فیفا کے صدر گیانی انفانٹینو سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس حوالے سے امریکا کو باز رکھنے کے لیے مداخلت کریں۔
واضح رہے کہ ایران نے مارچ میں فیفا ورلڈ کپ 2026 کے لیے کوالیفائی کیا تھا۔
یہ ایران کی فیفا ورلڈکپ میں چوتھی مسلسل اور مجموعی طور پر ساتویں شرکت ہوگی۔
ایران اب تک فیفا ورلڈکپ کے ناک آؤٹ مرحلے تک نہیں پہنچ سکا ہے تاہم 1998 کے ورلڈ کپ میں امریکا کے خلاف 1-2 کی تاریخی فتح آج بھی یاد کی جاتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
امریکی سفارت کاری نہیں، میزائلوں کی زبان سمجھتے ہیں، ایران
ایکس پر جاری بیان میں قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے کہا ہے کہ امریکیوں نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ سفارت کاروں کی نہیں بلکہ میزائلوں کی زبان بہتر سمجھتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے امریکا پر سخت تنقید کی ہے۔ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ امریکیوں نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ سفارت کاروں کی نہیں بلکہ میزائلوں کی زبان بہتر سمجھتے ہیں۔ ابراہیم رضائی نے ایرانی مسلح افواج خصوصاً پاسداران انقلاب کی بحری اور فضائی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی فضائیہ نے کہا ہے کہ اس نے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر، ایک فضائی اڈے اور خطے میں موجود دیگر امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق یہ کارروائی قشم جزیرے کے جنوب میں ایک مواصلاتی ٹاور پر امریکی حملے کے جواب میں کی گئی ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی آئل ٹینکر پر مبینہ امریکی حملے کے بعد اس نے ایک ایسے بحری جہاز کو بھی نشانہ بنایا جسے ایران نے امریکی اور اسرائیلی مفادات سے منسلک قرار دیا۔