اسرائیل کی کابینہ نے 2026 کا بجٹ منظور کر لیا، دفاع کے لیے 35 ارب ڈالر مختص
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
اسرائیل کی کابینہ نے بجٹ 2026 منظور کرلیا ہے، جس میں دفاع کے لیے 112 ارب شیکل (تقریباً 35 ارب ڈالر) شامل ہیں، جو پہلے کے 90 ارب شیکل کے منصوبے سے زیادہ ہیں۔
اب یہ بجٹ پارلیمنٹ میں ابتدائی ووٹ کے لیے پیش کیا جائے گا اور منظوری کے لیے ایک سخت مقابلے کا سامنا کرے گا، کیونکہ اسرائیل کی حکومت دن بدن زیادہ پولرائزڈ ہو گئی ہے۔ قانون کے مطابق یہ مارچ تک منظور ہونا ضروری ہے، ورنہ انتخابات کرانے پڑیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی کابینہ کا غزہ سٹی پر قبضے کا منصوبہ منظور، مزید خونریزی کا خدشہ
گزشتہ 2 سال میں حکومتی اتحاد میں اختلافات پیدا ہوئے ہیں، خاص طور پر غزہ میں جنگ، جنگ بندی اور الٹرا آرتھوڈوکس یہودی جماعتوں کے مطالبات کے بارے میں کہ یہودی مدارس کے طلبہ کو لازمی فوجی خدمت سے مستثنیٰ کیا جائے۔
وزرا نے جمعرات کو ایک طویل اجلاس شروع کیا، اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کے دفتر نے جمعہ کو اسرائیلی دفاعی افواج کے بجٹ میں اضافے کا اعلان کیا۔
وزیر دفاع نے کہا ہم آئی ڈی ایف کو مضبوط بنانے اور فوجیوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے فیصلہ کن اقدامات جاری رکھیں گے، اور ریزرو اہلکاروں پر بوجھ کم کریں گے تاکہ اسرائیل کی سکیورٹی ہر محاذ پر یقینی بنائی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ امن معاہدہ: اسرائیلی اجلاس کے دوران نیتن یاہو کا مودی سے رابطہ
غزہ کی جنگ اسرائیل کے لیے مہنگی ثابت ہوئی، جس پر 2024 میں حماس اور لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ فوجی تصادمات پر 31 ارب ڈالر خرچ ہوئے۔ اسرائیل نے بعد ازاں دونوں عسکری گروپوں کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے کیے ہیں۔
وزیر مالیات بزلیل سموتریچ کے دفتر کے مطابق، 2026 کے دفاعی بجٹ میں 2023 کے مقابلے میں 47 ارب شیکل کا اضافہ ہوا ہے، جو جنگ کے آغاز سے قبل کی رقم تھی۔
سموتریچ نے کہا، ہم اس سال فوج کو مضبوط بنانے کے لیے بھاری بجٹ مختص کر رہے ہیں، لیکن ایسا بجٹ بھی ہے جو ریاست اسرائیل کو ترقی کے راستے پر واپس لانے اور شہریوں کے لیے ریلیف فراہم کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اسرائیل دفاعی بجٹ غزہ فلسطین کابینہ نیتن یاہو.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل دفاعی بجٹ فلسطین کابینہ نیتن یاہو
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔