اسرائیل کی کابینہ نے   بجٹ 2026 منظور کرلیا ہے، جس میں دفاع کے لیے 112 ارب شیکل (تقریباً 35 ارب ڈالر) شامل ہیں، جو پہلے کے 90 ارب شیکل کے منصوبے سے زیادہ ہیں۔

اب یہ بجٹ پارلیمنٹ میں ابتدائی ووٹ کے لیے پیش کیا جائے گا اور منظوری کے لیے ایک سخت مقابلے کا سامنا کرے گا، کیونکہ اسرائیل کی حکومت دن بدن زیادہ پولرائزڈ ہو گئی ہے۔ قانون کے مطابق یہ مارچ تک منظور ہونا ضروری ہے، ورنہ انتخابات کرانے پڑیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی کابینہ کا غزہ سٹی پر قبضے کا منصوبہ منظور، مزید خونریزی کا خدشہ

گزشتہ 2 سال میں حکومتی اتحاد میں اختلافات پیدا ہوئے ہیں، خاص طور پر غزہ میں جنگ، جنگ بندی اور الٹرا آرتھوڈوکس یہودی جماعتوں کے مطالبات کے بارے میں کہ یہودی مدارس کے طلبہ کو لازمی فوجی خدمت سے مستثنیٰ کیا جائے۔

وزرا نے جمعرات کو ایک طویل اجلاس شروع کیا، اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کے دفتر نے جمعہ کو اسرائیلی دفاعی افواج  کے بجٹ میں اضافے کا اعلان کیا۔

وزیر دفاع نے کہا ہم آئی ڈی ایف کو مضبوط بنانے اور فوجیوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے فیصلہ کن اقدامات جاری رکھیں گے، اور ریزرو اہلکاروں پر بوجھ کم کریں گے تاکہ اسرائیل کی سکیورٹی ہر محاذ پر یقینی بنائی جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: غزہ امن معاہدہ: اسرائیلی اجلاس کے دوران نیتن یاہو کا مودی سے رابطہ

غزہ کی جنگ اسرائیل کے لیے مہنگی ثابت ہوئی، جس پر 2024 میں حماس اور لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ فوجی تصادمات پر 31 ارب ڈالر خرچ ہوئے۔ اسرائیل نے بعد ازاں دونوں عسکری گروپوں کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے کیے ہیں۔

وزیر مالیات بزلیل سموتریچ کے دفتر کے مطابق، 2026 کے دفاعی بجٹ میں 2023 کے مقابلے میں 47 ارب شیکل کا اضافہ ہوا ہے، جو جنگ کے آغاز سے قبل کی رقم تھی۔

سموتریچ نے کہا، ہم اس سال فوج کو مضبوط بنانے کے لیے بھاری بجٹ مختص کر رہے ہیں، لیکن ایسا بجٹ بھی ہے جو ریاست اسرائیل کو ترقی کے راستے پر واپس لانے اور شہریوں کے لیے ریلیف فراہم کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news اسرائیل دفاعی بجٹ غزہ فلسطین کابینہ نیتن یاہو.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل دفاعی بجٹ فلسطین کابینہ نیتن یاہو

پڑھیں:

گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔

سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔

اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور