کپِل شرما کے کیفے پر فائرنگ میں ملوث ملزم گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
بھارت کے معروف اداکار و کامیڈین کپل شرما کے کینیڈا میں قائم کیفے پر فائرنگ کا منصوبہ بنانے والے مبینہ مرکزی ملزم بندھو مان سنگھ سیکھون کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ 28 سالہ ملزم نے کینیڈا میں کپل شرما کے کیفے پر 7 اگست کو ہونے والی فائرنگ کا منصوبہ بنایا تھا۔ ملزم کا تعلق گولڈی ڈھلّوں گینگ سے ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم بندھو مان سنگھ سیکھون کے خلاف مختلف سنگین نوعیت کے مقدمات پہلے سے درج ہیں۔
کپل شرما نے کینیڈا میں اپنے کیفے پر فائرنگ کے واقعات پر خاموشی توڑ دی
پولیس کے مطابق ملزم کو 25 نومبر کو رات گئے آپریشن کے دوران پنجاب کے شہر لدھیانہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ملزم کے قبضے سے ایک PX-3 نیم خودکار پستول اور 8 کارتوس برآمد کیے گئے ہیں۔
ڈی سی کرائم برانچ کا کہنا ہے کہ ملزم کیفے پر حملوں میں ملوث شوٹرز کو لاجسٹک سپورٹ، ہتھیار اور اسٹریٹجک مدد فراہم کر رہا تھا۔
واضح رہے کہ رواں سال جولائی سے اب تک کپل شرما کے کینیڈا میں واقع کیفے پر فائرنگ کے 3 واقعات میں نشانہ بنایا گیا ہے
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کیفے پر فائرنگ کینیڈا میں کپل شرما شرما کے
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔