کے الیکٹرک کی ناظم آباد میں کارروائی، زیر زمین غیرقانونی نیٹ ورک پکڑا گیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر)کے الیکٹرک نے ناظم آباد کے علاقے جلال آباد میں کارروائی کرتے ہوئے زیر زمین غیرقانونی نیٹ ورک پکڑ لیا۔ ترجمان کے الیکٹرک کا کہنا ہے کہ ناظم آباد میں کارروائی کے دوران بجلی چوری میں استعمال ہونے والے 3 ہزار کلو گرام سے زائد زیر زمین کیبلز ضبط کرلی گئیں۔ترجمان کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے کارروائی محفوظ ریقے سے مکمل ہوئی، عوام بجلی چوری کی روک تھام کے لیے کے الیکٹرک کا ساتھ دیں۔ کے الیکٹرک ترجمان کے مطابق بجلی چوری سے سالانہ دو لاکھ یونٹ کا نقصان ہوتا ہے، واجبات دو ارب سے تجاوز کرچکے ہیں۔ چند روز قبل کے الیکٹرک نے لیاقت آباد میں بجلی چوری کے خلاف مہم کے دوران 270 کلو گرام سے زائد غیرقانونی تاریں ہٹائی تھیں۔ ترجمان کے الیکٹرک کا کہنا تھا کہ آپریشن سپر مارکیٹ، صرافہ بازار، بانٹوا نگر، بندھانی کالونی بلاک 1 اور 2 میں کیے گئے، 150 سے زائد غیرقانونی کنکشنز گھر اور دکانوں سے ہٹائے گئے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے الیکٹرک بجلی چوری
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔