کے الیکٹرک کی ناظم آباد میں کارروائی، زیر زمین غیرقانونی نیٹ ورک پکڑا گیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر)کے الیکٹرک نے ناظم آباد کے علاقے جلال آباد میں کارروائی کرتے ہوئے زیر زمین غیرقانونی نیٹ ورک پکڑ لیا۔ ترجمان کے الیکٹرک کا کہنا ہے کہ ناظم آباد میں کارروائی کے دوران بجلی چوری میں استعمال ہونے والے 3 ہزار کلو گرام سے زائد زیر زمین کیبلز ضبط کرلی گئیں۔ترجمان کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے کارروائی محفوظ ریقے سے مکمل ہوئی، عوام بجلی چوری کی روک تھام کے لیے کے الیکٹرک کا ساتھ دیں۔ کے الیکٹرک ترجمان کے مطابق بجلی چوری سے سالانہ دو لاکھ یونٹ کا نقصان ہوتا ہے، واجبات دو ارب سے تجاوز کرچکے ہیں۔ چند روز قبل کے الیکٹرک نے لیاقت آباد میں بجلی چوری کے خلاف مہم کے دوران 270 کلو گرام سے زائد غیرقانونی تاریں ہٹائی تھیں۔ ترجمان کے الیکٹرک کا کہنا تھا کہ آپریشن سپر مارکیٹ، صرافہ بازار، بانٹوا نگر، بندھانی کالونی بلاک 1 اور 2 میں کیے گئے، 150 سے زائد غیرقانونی کنکشنز گھر اور دکانوں سے ہٹائے گئے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے الیکٹرک بجلی چوری
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔