کے الیکٹرک کی ناظم آباد میں کارروائی، زیر زمین غیرقانونی نیٹ ورک پکڑا گیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر)کے الیکٹرک نے ناظم آباد کے علاقے جلال آباد میں کارروائی کرتے ہوئے زیر زمین غیرقانونی نیٹ ورک پکڑ لیا۔ ترجمان کے الیکٹرک کا کہنا ہے کہ ناظم آباد میں کارروائی کے دوران بجلی چوری میں استعمال ہونے والے 3 ہزار کلو گرام سے زائد زیر زمین کیبلز ضبط کرلی گئیں۔ترجمان کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے کارروائی محفوظ ریقے سے مکمل ہوئی، عوام بجلی چوری کی روک تھام کے لیے کے الیکٹرک کا ساتھ دیں۔ کے الیکٹرک ترجمان کے مطابق بجلی چوری سے سالانہ دو لاکھ یونٹ کا نقصان ہوتا ہے، واجبات دو ارب سے تجاوز کرچکے ہیں۔ چند روز قبل کے الیکٹرک نے لیاقت آباد میں بجلی چوری کے خلاف مہم کے دوران 270 کلو گرام سے زائد غیرقانونی تاریں ہٹائی تھیں۔ ترجمان کے الیکٹرک کا کہنا تھا کہ آپریشن سپر مارکیٹ، صرافہ بازار، بانٹوا نگر، بندھانی کالونی بلاک 1 اور 2 میں کیے گئے، 150 سے زائد غیرقانونی کنکشنز گھر اور دکانوں سے ہٹائے گئے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے الیکٹرک بجلی چوری
پڑھیں:
مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے انسانی و مکینل وسائل بروئے کار لانے کا حکم دے دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا ہے کہ دریاؤں، ڈیموں اور بیراج پر نہانے پر پابندی یقینی بنائی جائے اور دریاؤں، ڈیموں اور بیراج کی ڈرون سے مانیٹرنگ کی جائے۔انہوں نے کہا کہ عوام کو بارش اور فلڈ سے آگاہ کرنے کے لیے مساجد اور میڈیا پر اعلانات کیے جائیں۔کرنٹ لگنے سے ہلاکتوں پر مریم نواز نے لیسکو اور دیگر بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو نوٹس لینے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی غفلت کی وجہ سے لوگ جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کھمبوں پر بجلی کے بے ہنگم لٹکتے تار انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے واسا کمپلینٹ ہیلپ لائن پر فوری ایکشن کا ریکارڈ مرتب کرنے کی ہدایت کی۔مریم نواز نے مون سون کے دوران ہر کنسٹرکشن سائٹ کو باقاعدہ محفوظ بنانے کی ہدایت دی اور کہا کہ انتظامیہ خستہ حال عمارتوں کا جائزہ لے کر رضاکارانہ طور پر خالی کروائے۔