بجلی کی شکایات کے اندراج کے لیے ہیلپ لائن 118 کا افتتاح
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
اسلام آباد:
حکومت نے پاور سیکٹر میں جدت کی جانب ایک اور قدم اٹھاتے ہوئے بجلی کے شعبے میں مسائل کے حل کے لیے عوامی ہیلپ لائن 118 کا افتتاح کردیا۔
یہ افتتاح وزیر توانائی سردار اویس لغاری نے کیا۔ ہیلپ لائن کے ذریعے بجلی کے شعبے کی شکایات فری درج کرائی جاسکیں گی۔
ہیلپ لائن کے ذریعے شکایات ٹریک اینڈ ٹریس بھی ہوسکیں گی۔ صارفین نمائندے کی بجائے براہ راست سسٹم میں شکایت درج کراسکیں گے۔ صارفین سات مختلف زبانوں میں شکایات درج کراسکیں گے۔
شکایت کاازالہ ہونے پر متعلقہ صارف کو روبوٹک فیڈ بیک کال کی جائے گی۔ شکایت کا ازالہ نہ ہونے پر وہ شکایت دوبارہ ایکٹو ہوجائے گی۔
اس نظام سے پاور سیکٹر میں خود احتسابی ہوگی، شکایات کا ازالہ ہوگا، وزیر توانائی
وزیر توانائی اویس لغاری نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ اس سسٹم کے تحت شکایات سامنے آئیں گی، اس نظام سے پاور سیکٹر میں خود احتسابی ہوگی، وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور حکومتیں شامل حال نہ ہوتیں تو بہت کچھ حاصل نہ کرپاتے، آج کے بعد ایک ایک نااہلی سامنے آئے گی جس کی ذمہ داری ہمیں اٹھانی ہوگی اور ذمہ داری کے بعد کچھ اقدامات کرنے ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ میرے گھر کی بجلج جاتی تھی تو کال اٹھانے والا کوئی نہیں ہوتا تھا، ہمیں لوگوں کو اس سسٹم سے آزاد کرنا ہے، ممبران اسمبلی ٹرانسفرز کا اس لیے کہتے ہیں تاکہ ان کے کام ہوسکیں، کوشش کررہے کہ سب کو برابری کی سطح پر کھڑا کریں۔
اویس لغاری نے کہا کہ وزارت توانائی میں شفافیت کو یقینی بنایا جا رہا ہے، جب تک ہم خود کو ایکسپوز نہیں کریں گے خود احتسابی نہیں ہو سکتی، ہیلپ لائن کے اس پروگرام میں لائن مین تک سب کی غلطیاں سامنے آئیں گی، اپنی غلطیوں کی ذمہ داری بھی ہمیں ہی اٹھانی پڑے گی، میں خود 2017ء سے 2018ء اسی محکمے کا وزیر رہا ہوں، تب بنی گالہ کا ایکسیئن یہ بھی نہیں دیکھتا تھا کہ میں وزیر رہا ہوں، ایکسئین اس طرح اپنی مرضی سے کام کرتا تھا اور کسی کی نہیں سنتے تھے، شکایات کے ازالے مصبیت سے نکلنے کیلئے یہ بہترین اقدام ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے سیاسی ڈیروں پر پولیس سے زیادہ بجلی کی شکایات آتی ہیں، ہم عوام کے کسٹمر کیئر ہیں ہم سے بڑھ کر کون کسٹمر کیئر ہو سکتا ہے، ملک میں جتنے بجلی صارفین ہیں ان سب تک اس اقدام کا اثر جائے گا، سی ای اوز سے اپیل ہے کہ اس سسٹم کو کامیاب بنائیں، سسٹم کی کامیابی کے بعد کمپنیوں کے لوگوں کو جتنا ممکن ہوا ایوارڈ کریں گے، ہم ڈسکوز اور ڈیٹا گیدرنگ پر انحصار کررہے ہیں اور ڈیٹا میں ہیر پھیر ہوا تو اس سسٹم کا کوئی فائدہ نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ہیلپ لائن
پڑھیں:
کشمیر کا وہ گاوٴں جس کے باسی فون چارج کرنے کے لیے 45 کلومیٹر دور جاتے ہیں
لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے نہایت قریب انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں خوبصورت ہمالیائی پہاڑی سلسلے کے درمیان واقع ون دجی گاؤں کی 19 سالہ کلثومہ کے لیے جدید زمانہ صرف ایک محاورہ ہی ہے، کیونکہ ان کی زندگی قدیم انسانوں جیسی ہی ہے۔ون دجی گاؤں کی پانچ نسلوں نے آج تک بجلی کی روشنی نہیں دیکھی ہے اور نئی نسل بھی باورچی خانے میں چولہے کی آگ اور روشنی کے لیے مشعل کے دھویں میں پروان چڑھ رہی ہے۔اس گاؤں کو صدیوں سے بجلی کا انتظار ہے کیونکہ اسے ابھی تک بجلی کے گرڈ کے ساتھ نہیں جوڑا گیا ہے۔
ہم جدید دور کے قدیم انسان ہیں
ون دجی کی طرف جانے والے صرف راستے ہی دشوار نہیں ہیں، یہاں کی زندگی بھی مشکلات کے بیچ گھِری ہوئی ہے۔ دن بھر مشقت کے بعد جب شام ہوتی ہے، تو یہاں کے لوگ ایک نئی جدوجہد شروع کرتے ہیں۔کلثومہ کہتی ہیں کہ ’یہاں خواتین زیادہ پریشان ہیں، کیونکہ دن میں چولہے کا دھواں ہوتا ہے اور رات میں پڑھائی کے وقت مشعل کا دھواں انھیں بیمار کر دیتا ہے۔وہ کہتی ہیں کہ گاؤں سے باہر جاتے ہی انہیں احساس ہوتا ہے کہ وہ انسانی تہذیب کا حصہ نہیں ہیں۔جب ہم کپواڑہ مارکیٹ میں جاتے ہیں تو لوگوں کو سمارٹ فون پر مصروف پا کر ہمیں کمتری کا احساس ہوتا ہے، کسی رشتہ دار کے یہاں جاتے ہیں تو وہاں ہیٹر، بوائلر، گیزر وغیرہ دیکھ کر ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے لیے وقت اُدھر ہی رُک گیا جب انسان آگ سے ہی کھانا پکاتا تھا اور آگ سے ہی رات میں روشنی کرتا تھا۔
’ہم جدید دور کے قدیم انسان ہیں۔‘