حکومت مستقبل میں براہِ راست بجلی کی خریداری نہیں کرے گی، اویس لغاری
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
پاکستان دنیا میں سولر کے شعبے میں سب سے زیادہ ترقی کر رہا ہے، اویس لغاری - فائل فوٹو
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کا کہنا ہے کہ حکومت مستقبل میں براہِ راست بجلی کی خریداری نہیں کرے گی۔
پاکستان بزنس کونسل کے سیمینار میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈسکوز کی نجکاری اور مارکیٹ میں براہِ راست لین دین کا منصوبہ ہے، مسابقتی انرجی مارکیٹ آئندہ چند ماہ میں شروع ہوگی۔
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے انکشاف کیا ہے کہ ملک میں تقریباً7 ہزار میگا واٹ اضافی بجلی دستیاب ہے۔
وفاقی وزیر نے ایک بار پھر سولر نیٹ میٹرنگ میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان دنیا میں سولر کے شعبے میں سب سے زیادہ ترقی کر رہا ہے، قابلِ تجدید توانائی کا حصہ 55 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔
اویس لغاری نے کہا کہ نیٹ میٹرنگ کے نظام میں بہتری کی ضرورت ہے، اصلاحات کا عمل جاری ہے، نتائج جلد سامنے آئیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اویس لغاری
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔