حکومت مستقبل میں براہِ راست بجلی کی خریداری نہیں کرے گی، اویس لغاری
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
پاکستان دنیا میں سولر کے شعبے میں سب سے زیادہ ترقی کر رہا ہے، اویس لغاری - فائل فوٹو
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کا کہنا ہے کہ حکومت مستقبل میں براہِ راست بجلی کی خریداری نہیں کرے گی۔
پاکستان بزنس کونسل کے سیمینار میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈسکوز کی نجکاری اور مارکیٹ میں براہِ راست لین دین کا منصوبہ ہے، مسابقتی انرجی مارکیٹ آئندہ چند ماہ میں شروع ہوگی۔
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے انکشاف کیا ہے کہ ملک میں تقریباً7 ہزار میگا واٹ اضافی بجلی دستیاب ہے۔
وفاقی وزیر نے ایک بار پھر سولر نیٹ میٹرنگ میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان دنیا میں سولر کے شعبے میں سب سے زیادہ ترقی کر رہا ہے، قابلِ تجدید توانائی کا حصہ 55 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔
اویس لغاری نے کہا کہ نیٹ میٹرنگ کے نظام میں بہتری کی ضرورت ہے، اصلاحات کا عمل جاری ہے، نتائج جلد سامنے آئیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اویس لغاری
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔