پشاور؛ بورڈ بازار میں فائرنگ سے عالم دین کمسن بیٹے سمیت جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
پشاور:
تھانہ پشتہ خرہ کی حدود بورڈ بازار میں عالم دین قاتلانہ حملے میں کم سن بیٹے سمیت جاں بحق جبکہ دوسرے بیٹے زخمی ہوگئے۔
تھانہ پشتہ خرہ پولیس کے مطابق عالم دین قاری عزت اللہ سفید ڈھیری میں واقع مدرسے میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد اپنے دو بیٹوں کے ہمراہ موٹرکار میں گھر جارہے تھے کہ بورڈ بازار میں موٹرسائیکل سوار افراد نے ان پر فائرنگ کردی۔
پولیس نے بتایا کہ فائرنگ کے نتیجے میں قاری عزت اللہ ساکن فیز 2 اور بیٹاعلی جاں بحق جبکہ دوسرا بیٹا مرتضیٰ زخمی ہوگیا، لاشوں اور زخمی کو اسپتال منتقل کردیا گیا جہاں زخمی کو طبی امداد دی جا رہی ہے۔
پولیس کے مطابق موٹرسائیکل سوار افراد کی اندھا دھند فائرنگ سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔
ایس پی کینٹ احتراز خان پولیس نفری سمیت جائے وقوع پہنچ گئے تھے جہاں سے اہم شواہد اکٹھی کرلیے گئے ہیں اور قریبی علاقوں میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ حاصل کرکے نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ واقعے کا ٹارگٹ کلنگ سمیت مختلف پہلوؤں پر تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
خان سر کے کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ، کوچنگ سینٹر کو دو دن میں اڑانے کی دھمکی دی گئی
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پٹنہ کے مشلہ پور میں خان سر کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ کی گئی جس سے علاقے میں کچھ دیر کیلئے خوف و ہراس پھیل گیا، لوگوں نے پتھراؤ کی بھی اطلاع دی۔ اسلام ٹائمز۔ پٹنہ کے کدم کنواں تھانہ علاقے میں کل دیر رات افراتفری مچ گئی، جب کچھ شرپسند عناصر معروف استاد خان سر کے کوچنگ سینٹر میں گھس گئے اور توڑ پھوڑ اور لوگوں کے ساتھ مار پیٹ کی۔ واقعے میں کوچنگ سینٹر میں موجود کئی سامان کو نقصان پہنچا جب کہ وہاں تعینات ایک گارڈ شدید زخمی ہوگیا۔ سر میں چوٹ لگنے کے بعد اسے علاج کے لئے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پٹنہ پولیس حرکت میں آگئی۔ پٹنہ کے ایس ایس پی، کدم کنواں پولس اسٹیشن اور دیگر پولیس افسران کے ساتھ جائے وقوعہ پر پہنچے اور معاملے کی جانچ شروع کی۔ پولیس کی ٹیمیں رات گئے تک جائے وقوعہ پر موجود رہیں اور عہدیدارون کی جانب سے شواہد اکٹھے کئے گئے۔
واقعہ کے بعد جائے وقوعہ پر پہنچنے والے خان سر نے الزام لگایا کہ حال ہی میں ان کے کوچنگ انسٹی ٹیوٹ سے ہزاروں طلباء کو بہار پولیس بھرتی امتحان میں منتخب کیا گیا تھا، جس نے کچھ کمپٹیشن کرنے والے کوچنگ اداروں کو پریشان کر دیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں مسلسل دھمکیاں مل رہی تھیں، جس کے نتیجے میں حملہ اور توڑ پھوڑ کی گئی۔ خان سر نے کہا کہ یہ لوگ پوچھ رہے ہیں، ہم اتنی کم فیس پر کیوں پڑھا رہے ہیں، ہمیں اتنے اچھے نتائج کیوں مل رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب ہزاروں طلباء کے نتائج آتے ہیں تو کچھ سماج دشمن عناصر کو خطرہ محسوس ہوتا ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پٹنہ کے مشلہ پور میں خان سر کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ کی گئی جس سے علاقے میں کچھ دیر کے لئے خوف و ہراس پھیل گیا۔ لوگوں نے پتھراؤ کی بھی اطلاع دی۔ حملے میں ایک سکیورٹی گارڈ زخمی ہوا ہے جسے علاج کے لئے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ واقعہ کے بعد سے علاقے میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ جائے وقوعہ پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ پٹنہ کے ایس ایس پی کارتکیہ کے شرما نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ کچھ طلباء نے کوچنگ سینٹر پر حملہ کیا اور توڑ پھوڑ کی۔ واقعے میں ایک گارڈ زخمی ہوا، اس کا بیان قلمبند کیا جائے گا۔