آئی آئی چندریگر روڈ پر نجی کمپنی کی کیش وین کی ڈکیتی میں ملوث ملزم گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان رینجرزسندھ نے خفیہ معلومات کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے کراچی کے علاقے پہلوان گوٹھ سے غیر قانونی اسلحہ کی خرید و فروخت، ڈکیتی اور دیگر متعدد وارداتوں میں ملوث ملزم عبدالصمد ولد جمن شاہ کو گرفتار کر لیا۔ ملزم کے قبضے سے 1عدد 30 بور پسٹل بمعہ ایمونیشن(بغیر لائسنس)، چوری شدہ موٹر سائیکل اور موبائل فون برآمد کر لیا گیا۔ترجمان رینجرزکے مطابق ملزم نے انکشاف کیا کہ 2021 میں اپنے چھوٹے بھائی حنیف اللہ عرف سراج خان اور دیگر ساتھیوں کے ہمراہ آئی آئی چندریگر روڈ پر نجی کمپنی کی کیش وین کی ڈکیتی میں بھی ملوث ہے جس میں تقریبا 20 کروڑ 50 لاکھ کی رقم لوٹی گئی تھی۔ ملزم نے مزید انکشاف کیا کہ وہ مختلف ڈکیتوں ، منشیات فروشوں اور کار لفٹرگروہوں کے ساتھ رابطے میں رہتا ہے اور ان کو وارداتوں کے لیے غیرقانونی اسلحہ فروخت کرتا ہے۔ ملزم کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔گرفتار ملزم کو بمعہ اسلحہ و ایمونیشن اور مسروقہ سامان مزید قانونی کاروائی کے لئے پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔رینجرزنے عوام سے اپیل کی ہے کہ جرائم کے خاتمے کے لیے ایسے عناصر کے بارے میں اطلاع فوری طور پر قریبی رینجرز چیک پوسٹ، رینجرز ہیلپ لائن 1101 یا رینجرز مددگار واٹس ایپ نمبر 03479001111 پر کال یا ایس ایم ایس کے ذریعے دیں۔ آپ کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک