کراچی: بلاول ہاؤس چورنگی کے قریب سیف سٹی سافٹ ویئر باکس کی چوری میں ملوث ملزم گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: بلاول ہاؤس چورنگی کے قریب سیف سٹی پروجیکٹ کے سافٹ ویئر باکس کی چوری میں ملوث ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق واقعہ 6 نومبر کو پیش آیا تھا، جس میں چور باکس کے ساتھ موجود سیف سٹی کیمرے بھی اتار کر لے گئے تھے۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو ساتھی سمیت حراست میں لیا، جبکہ دیگر 3 ملزمان پہلے ہی گرفتار ہو چکے ہیں۔
ملزم کی نشاندہی پر پولیس نے مسروقہ سامان برآمد کر لیا اور اس کے ساتھ کباڑی کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ یہ ڈسٹری بیوشن باکس سیف سٹی کیمروں کو بہتر سروس فراہم کرنے میں استعمال ہوتا ہے اور اس میں لاکھوں روپے مالیت کا سامان موجود ہوتا ہے، جس کی واپسی سے پروجیکٹ کی کارکردگی میں بہتری آئے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سیف سٹی
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔